فتاویٰ جات: متفرقات
فتویٰ نمبر : 8173
(279) وساوس کے بارے میں سوال
شروع از بتاریخ : 12 November 2013 11:01 AM
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

جب میں نیکی کا کوئی کام کرتا ہوں تو میرے دل میں شہرت کی محبت اور لوگوں کی تعریف کی خواہش کا وسوسہ آجاتا ہے۔ لیکن میں فوراً اللہ تعالیٰ کو یاد کرتاہوں اور اس وسوسہ سے اللہ کی پناہ مانگتا ہوں اور ریاکاری اور شہرت طلبی سے پناہ مانگتاہوں۔ اس طرح اللہ کے حکم سے یہ وسوسہ ختم ہوجاتا ہے۔ یہ وسوسہ جس میں میرے ارادے کو کوئی دخل نہیں ہوتا‘ کیا اللہ تعالیٰ اس پر بھی محاسبہ فرمائیں گے؟ کیا اس کی وجہ ایمان کی کمزوری ہے ؟ مجھے کیا کرنا چاہیے؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

جب آپ کی کیفیت ہے کہ وسوسہ پیدا ہوتا ہے تو آپ جلدی سے اس سے رک جاتے ہیں اور اس کے شر سے اور شیطان کے شر سے اللہ تعالیٰ کی پناہ طلب کرتے ہیں تو ہمیں امید ہے کہ اللہ کی رحمت ومغفرت آپ کو نصیب ہوگی۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اور آپ کو بات میں اخلاص نصیب فرمائے اور شیطان کے مکروفریب سے محفوظ رکھے۔

وَبِاللّٰہِ التَّوْفِیْقُ وَصَلَّی اللّٰہُ عَلٰی نَبِیَّنَا مُحَمَّدٍ وَآلِہ وَصَحْبِہ وَسَلَّمَ

اللجنة الدائمة۔ رکن: عبداللہ بن قعود، عبداللہ بن غدیان، نائب صدر: عبدالرزاق عفیفی، صدر عبدالعزیز بن باز

فتویٰ(۷۶۵۴)

 

 

فتاوی بن باز رحمہ اللہ

جلددوم -صفحہ 133

محدث فتویٰ


تبصرہ (0)
[Notice]: Undefined index: irsloading (cache/c62f257fe6ed43eb557019d638a0d780.php:75)