فتاویٰ جات: بحث اور مباحثہ
فتویٰ نمبر : 8154
نبی اکرم ﷺ کے حاضرو ناظر اور عالم الغیب ہونے کی بحث
شروع از بتاریخ : 12 November 2013 10:22 AM
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

کیا نبی ﷺ حاضروناضر ہیں ؟ یعنی کیا وہ غیب جانتے ہیں کہ ان کے لئے حاضر اور غائب سب برابر ہیں ؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

غیب کے معاملات کے بارے میں اصولی اور بنیادی بات یہی ہے کہ ان کا علم اللہ کا خاصہ ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے:

{وَ عِنْدَہ’ مَفَاتِحُ الْغَیْبِ لَا یَعْلَمُہَآ اِلَّا ہُوَ وَ یَعْلَمُ مَا فِی الْبَرِّ وَ الْبَحْرِ وَ مَا تَسْقُطُ مِنْ وَّ رَقَة اِلَّا یَعْلَمُہَا وَ لَا حَبَّة فِیْ ظُلُمٰتِ الْاَرْضِ وَ لَا رَطْبٍ وَّ لَا یَابِسٍ اِلَّا فِیْ کِتٰبٍ مُّبِیْن} (الانعام۶؍۵۹)

’’غیب کی کنجیاں اس کے پاس ہیں ‘ انہیں صرف وہی جانتا ہے اور زمین کی تارکیوں میں جو بھی دانہ ہے اور جو بھی خشک وتر ہے وہ کتاب مبین میں موجود ہے۔ ‘‘

نیز فرمایا:

{قُلْ لَّا یَعْلَمُ مَنْ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ الْغَیْبَ اِلَّا اللّٰہُ وَ مَا یَشْعُرُوْنَ اَیَّانَ یُبَعَثُوْنَ} (النمل ۲۷؍۶۵)

’’(اے پیغمبر!) فرمادیجئے اللہ کے سوا آسمانوں اور زمین میں کوئی بھی غیب نہیں جانتا۔ وہ یہ شعور نہیں رکھتے کہ کب اٹھائے جائیں گے۔ ‘‘

لیکن اللہ تعالیٰ اپنے رسولوں میں سے جسے چاہتا ہے؟ غیب کی جوبات چاہتا ہے بتا دیتا ہے۔ ارشاد ہے:

{عٰلِمُ الْغَیْبِ فَلَا یُظْہِرُ عَلٰی غَیْبِہِ اَحَدًا٭اِِلَّا مَنْ ارْتَضَی مِنْ رَّسُوْلٍ فَاِِنَّہ’ یَسْلُکُ مِنْ بَیْنِ یَدَیْہِ وَمِنْ خَلْفِہِ رَصَدًا} (الجن۷۲؍۲۶۔ ۲۷)

’’وہ غیب جاننے والا ہے بس اپنے غیب پر کسی کو مطلع نہیں کرتا‘ مگر جس رسول کو پسند فرمائے‘ تو اس (تک پہنچنے والے پیغام) کے آگے پیچھے نگران روانہ کرتاہے۔ ‘‘

مزید فرمایا:

{قُلْ مَا کُنْتُ بِدْعًا مِّنْ الرُّسُلِ وَمَا اَدْرِی مَا یُفْعَلُ بِی وَلَا بِکُمْ اِِنْ اَتَّبِعُ اِِلَّا مَا یُوحَی اِِلَیَّ وَمَا اَنَا اِِلَّا نَذِیرٌ مُّبِیْنٌ} (الاحقاف۴۶؍۹)

’’(اے پیغمبر!) کہہ دیجئے میں کوئی انوکھا رسول نہیں ہوں اور میں نہیں جانتا کہ میرے ساتھ کیا سلوک کیا جائے گا اور نہ تمہارے ساتھ (ہونے والے معاملات سے واقف ہوں ) میں تو صرف اس چیز کی پیروی کرتاہوں جو میری طرف وحی کی جاتی ہے اور میں تو صرف واضح طور پر تنبیہ کرنے والا ہوں۔ ‘‘

ایک اور حدیث میں حضرت امام علائr سے روایت ہے انہوں نے کہا: جب حضرت عثمان بن مظعون رضی الله عنہما فوت ہوئے او رہم نے انہیں کفن کے کپڑے پہنادئے تو رسول اللہ ﷺ ہمارے پاس تشریف لائے۔ میں نے کہا۔ اے ابو السائب عثمان بن مظعون! تجھ پر اللہ کی رحمت ہو۔ میں تیرے حق میں گواہی دیتی ہوں کہ اللہ نے تجھے عزت بخشی۔ ‘‘

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

(وَمَا یُدْرِیکِ أَنَّ اللّٰہُ أَکْرَمَہُ)

’’تجھے کیا معلوم کہ اللہ نے اسے عزت بخش دی ہے؟‘‘ میں نے عرض کی ’’یا رسول اللہ ﷺ ! میرے ماں باپ آپ پر قربان! مجھے تو معلوم نہیں۔ ‘‘ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا:

(أَمَّا ھُوَ فَقَدْ جَائَہُ الْیَقِینُ وَاللّٰہِ أِنِّی لأَرْجُو لَہُ الْخَیْرَ وَاللّٰہِ مَا أدْرِی وَأَنَارَسُولُ اللّٰہِ مَا یُفْعَلُ بِی)

’’اس کے پاس یقنی چیز (موت) آچکی ہے۔ قسم اللہ کی! میں اس کے لئے بھلائی کی امید رکھتا ہوں۔ قسم ہے اللہ کی! میں اللہ کا رسول ہونے کے باوجود نہیں جانتا کہ میرے ساتھ کیا سلوک ہونے والا ہے۔ ‘‘

میں نے کہا:

(وَاللّٰہُ لَا أُزّکِّی بَعْدَہُ أَبَدًا)

’’اللہ کی قسم! اس کے بعد میں کسی کی صفائی نہیں دوں گی۔ ‘‘

یہ حدیث امام احمد نے روایت کی ہے اور امام بخاری نے اپنی کتاب ’’صحیح‘‘ میں کتاب الجنائز میں روایت کی ہے۔ صحیح بخاری کی ایک روایت میں یہ لفظ ہیں۔

مَا أَدْرِی وَأَنَا رَسُولُ اللّٰہِ مَا یُفْعَلُ بِی)

’’مجھے بھی معلوم نہیں کہ میرے ساتھ کیا ہونے والا ہے۔ حالانکہ میں اللہ کا رسول ہوں۔ ‘‘

بہت سی احادیث سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے نبی اکرم ﷺ کو بعض صحابہ کرام رضی الله عنہما کے انجام کی خبر دی تھی‘ چنانچہ نبی ﷺ نے ان صحابہ رضی الله عنہما کو جنت کی بشارت دی۔ صحیح بخاری اور صحیح مسلم میں حضرت عمر بن خطاب رضی الله عنہما کی حدیث ہے کہ جبرائیل علیہ السلام نے نبی ﷺ سے قیامت کے متعلق پوچھا تو آپ ﷺ نے فرمایا:

(مَا الْمَسْؤُلُ عَنْھَا بِأَعْلَمَ مَنَ السَّائِلَ)

’’جس سے پوچھا جارہا ہے وہ پوچھنے والے سے زیادہ نہیں جانتا۔ ‘‘

اس کے بعد صرف علامات قیامت بیان فرمائیں۔ اس سے معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے نبی ﷺ کی بعض غیب باتوں کا علم دیااور بعض کا نہیں دیا اور حضور ﷺ نے حسب ضرورت یہ معلومات صحابہ کرام رضی الله عنہما کو بتائیں۔

 

 

فتاوی بن باز رحمہ اللہ

جلددوم -صفحہ 113

محدث فتویٰ


تبصرہ (0)
[Notice]: Undefined index: irsloading (cache/c62f257fe6ed43eb557019d638a0d780.php:75)