فتاویٰ جات: متفرقات
فتویٰ نمبر : 8148
’’یا سیدی‘‘ کے الفاظ استعمال کرنا
شروع از بتاریخ : 12 November 2013 10:11 AM
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

کیا فوج یا پولیس کے افسر کو اس طرح کہنا جائز ہے: ’’حاضریا سیدی‘‘ (میرے آقا! میں حاضر ہوں )


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

یوں کہنا جائز ہے ’’حاضر ‘‘ لیکن (یَا سَیِّدِی) کہنا جائز نہیں ‘ جب بعض صحابہ کرام رضی الله عنہما نے جناب رسول اللہ ﷺ سے کہاتھا: (أَنْتَ سَیِّدُنَا) (آپ ہمارے آقا ہیں ) تو آنحضرت محمد ﷺ نے فرمایا تھا: (اَلسَّیَّدُاللّٰہُ تَبَارَکَ وَتَعَالٰی) (آقا تو اللہ تبارک وتعالیٰ ہی ہے) یہ حدیث امام ابو داؤد نے صحیح سند سے روایت کی ہے۔ 1

وَبِاللّٰہِ التَّوْفِیْقُ وَصَلَّی اللّٰہُ عَلٰی نَبِیَّنَا مُحَمَّدٍ وَآلِہ وَصَحْبِہ وَسَلَّمَ

اللجنة الدائمة۔ رکن: عبداللہ بن قعود، عبداللہ بن غدیان، نائب صدر: عبدالرزاق عفیفی، صدر عبدالعزیز بن باز

فتویٰ(۹۲۳۴)

--------------------------------------

1 مسند احمد ج:۴‘ ص:۲۴‘ ۲۵۔ سنن ابی داؤد حدیث نمبر: ۴۸۰۶۔ ابن السنی‘ عمل الیوم واللیلہ حدیث نمبر: ۳۸۷۔ الادب المفرد امام بخاری حدیث نمبر: ۲۱۱۔ الاسماء والصفات امام بیہقی حدیث نمبر: ۲۲ عمل الیوم واللیلہ امام نسائی حدیث نمبر: ۲۴۵‘ ۲۴۶‘ ۲۴۷

 

 

فتاوی بن باز رحمہ اللہ

جلددوم -صفحہ 107

محدث فتویٰ


تبصرہ (0)
[Notice]: Undefined index: irsloading (cache/c62f257fe6ed43eb557019d638a0d780.php:75)