فتاویٰ جات: متفرقات
فتویٰ نمبر : 8139
کسی کو کفریہ حرکت یا کلمہ پر کافرکہہ سکتے ہے
شروع از بتاریخ : 12 November 2013 09:53 AM
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

کسی کو کافر کہنا کب جائز ہے او رکب ناجائز ہے؟ قرآن مجید کی اس آیت مبارکہ میں تکفیر کی کیا نوعیت ہے۔

{وَ مَنْ لَّمْ یَحْکُمْ بِمَآ اَنْزَلَ اللّٰہُ فَاُولٰٓئِکَ ہُمُ الْکٰفِرُوْنَ} (المائدة۵؍۴۴)

’’جو اللہ کے نازل کئے ہوئے کے مطابق فیصلہ نہ کریں و ہی لوگ کافرہیں۔ ‘‘

الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

جہاں تک آپ کے سوال کے تعلق ہے کہ کسی کو کافر کہنا کب جائز ہے اور کب ناجائز ہے تو آپ وہ کیفیت یا صورت بیان کریں جس میں آپ کو اشکال ہے تو ہم آپ کو اس کا حکم بتادیں گے۔

اللہ تعالیٰ کے اس فرمان: ومن الم یحکممیں تکفیر کی نوعیت ’’کفر اکر‘‘ ہے۔ امام قرطبی رحمتہ الله علیہ نے اپنی تفسیر میں فرمایا ہے کہ ’’جناب ابن عباس رضی الله عنہما اور جناب مجاہد رحمتہ الله علیہ نے فرمایا:

(وَمَنْ لَمْ یَحْکُمْ بِمَا أَنْزَلَ اللّٰہُ رَدَّا لِلْقُرْآنِ، وَجَْدًا لِقَوْلِ الرَّسُولِ ﷺ فَھُوَ کَافِرٌ)

’’جو شخص قرآن وحدیث کے خلاف فیصلہ کرتا ہے اور وہ سمجھتا ہے کہ وہ گناہ گار ہے لیکن اسے ملنے والی رشوت وغیرہ‘ یا فریق مقدمہ سے دشمنی یا رشتہ داری یا دوستی وغیرہ اسے حق کے خلاف فیصلہ کرنے کی طرف راغب کر رہی ہے تو ایسے شخص کا کفر ’’کفر اکبر‘‘ نہیں ہوگا۔ اسے اللہ کا نافرمان قرار دیا جائے گا ’’کفر سے کم تر کفر یا ظلم سے کم تر ظلم یا فسق سے کم فسق‘‘ کا مرتکب ہوا ہے۔

وَبِاللّٰہِ التَّوْفِیْقُ وَصَلَّی اللّٰہُ عَلٰی نَبِیَّنَا مُحَمَّدٍ وَآلِہ وَصَحْبِہ وَسَلَّمَ

اللجنة الدائمة۔ رکن: عبداللہ بن قعود، عبداللہ بن غدیان، نائب صدر: عبدالرزاق عفیفی، صدر عبدالعزیز بن باز

فتویٰ(۶۲۰۱)

 

 

فتاوی بن باز رحمہ اللہ

جلددوم -صفحہ 97

محدث فتویٰ


تبصرہ (0)
[Notice]: Undefined index: irsloading (cache/c62f257fe6ed43eb557019d638a0d780.php:75)