فتاویٰ جات: متفرقات
فتویٰ نمبر : 8136
کسی مسلمان بھائی کو کافر کہہ کر بلانا
شروع از بتاریخ : 12 November 2013 09:43 AM
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

ایک مسلمان بھائی کو کہتا ہے ’’اے کافر!‘‘ حالانکہ مخاطب پانچویں نمازیں پڑھتا ہے اور روزے بھی رکھتا ہے تو اس کا کیا حکم ہے؟ جزاکم اللہ خیراً اور یہ بھی فرمائیں کہ کثرت نسیان کا علاج کیا ہے؟’


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

مسلمان کیلے جائز نہیں کہ اپنے بھائی کو کفر کی طرف منسوب کرے‘ جب کہ اس نے کفر کا کام نہ کیاہو۔ اس پر واجب ہے کہ توبہ کرے اور اللہ تعالیٰ سے معافی مانگے اور اپنے بھائی سے بھی معذرت کرے۔ کیونکہ نبی ﷺ نے ایسی حرکت پھر ناراضگی کا اظہار فرمایا ہے۔ جیسا کہ صحیح احادیث میں مذکو رہے۔

دیر سے یاد ہونے اور بھول جانے کا علاج یہ ہے کہ تقویٰ اختیار کی جائے اور جس چیز کو یاد کرنا مقصود ہو اسے بار بار دہرایا جائے اور اللہ تعالیٰ سے دعا کی جائے کہ اللہ تعالیٰ اس کام میں مدد فرمائے۔ ہم‘ اپنے لئے اور آپ کیلئے دعا کرتے ہیں کہ اللہ آپ کو توفیق بخشے کہ آپ اپنا مقصد حاصل کرسکیں۔

وَبِاللّٰہِ التَّوْفِیْقُ وَصَلَّی اللّٰہُ عَلٰی نَبِیَّنَا مُحَمَّدٍ وَآلِہ وَصَحْبِہ وَسَلَّمَ

اللجنة الدائمة۔ رکن: عبداللہ بن قعود، عبداللہ بن غدیان، نائب صدر: عبدالرزاق عفیفی، صدر عبدالعزیز بن باز

فتویٰ (۴۴۴۶)

 

 

فتاوی بن باز رحمہ اللہ

جلددوم -صفحہ 96

محدث فتویٰ


تبصرہ (0)
[Notice]: Undefined index: irsloading (cache/c62f257fe6ed43eb557019d638a0d780.php:75)