فتاویٰ جات: متفرقات
فتویٰ نمبر : 8129
اہل اسلام اور باطل پرستوں کا مشترکہ عبادت گاہ بنانا
شروع از بتاریخ : 12 November 2013 09:25 AM
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

کیا یہودیوں ‘ عیسایوں اور مسلمانوں۔ تینوں مذہب والوں کی مشترکہ عبادت گاہ قائم کرنا جائز ہے؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

یہ کام جائز نہیں۔ جو عبادت گاہ تینوں مذاہب کی مشترکہ ہو گی‘ اس کی بنیاد تقویٰ پر نہیں ہوگی‘ بلکہ اس کی بنیاد شرک اور غیر اللہ کی عبادت پر رکھی گئی ہے اور اسلام کے سوا کوئی مذہب صحیح نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

{وَ مَنْ یَّبْتَغِ غَیْرَ الْاِسْلَامِ دِیْنًا فَلَنْ یُّقْبَلَ مِنْہُ وَ ہُوَ فِی الْاٰخِرَة مِنَ الْخٰسِرِیْنَ} (آل عمران۳؍۵۸)

’’جو کوئی اسلام کے سوا (دوسرا) دین (مذہب) تلاش کرے گا‘ اس سے وہ (مذہب) ہرگز         قبول نہ کیاجائے گااور وہ شخص آخر ت میں نقصان اٹھانے والوں میں سے ہوگا۔ ‘‘

وَبِاللّٰہِ التَّوْفِیْقُ وَصَلَّی اللّٰہُ عَلٰی نَبِیَّنَا مُحَمَّدٍ وَآلِہ وَصَحْبِہ وَسَلَّمَ

اللجنة الدائمة۔ رکن: عبداللہ بن قعود، عبداللہ بن غدیان، نائب صدر: عبدالرزاق عفیفی، صدر عبدالعزیز بن باز

فتویٰ (۲۲۴۵)

 

 

فتاوی بن باز رحمہ اللہ

جلددوم -صفحہ 82

محدث فتویٰ


تبصرہ (0)
[Notice]: Undefined index: irsloading (cache/c62f257fe6ed43eb557019d638a0d780.php:75)