فتاویٰ جات: متفرقات
فتویٰ نمبر : 8126
مسلمان کافر ملک میں باشرائط کام کر سکتا ہے
شروع از بتاریخ : 12 November 2013 09:21 AM
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

کیا مسلمان کا غیر اسلامی ملکوں میں کام کرنا جائز ہے؟ کیا یوسف علیہ السلام کاکام بھی اسی ضمن میں آتا ہے؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

جب مسلمان کو اپنے دین کے بارے میں فتنہ میں مبتلا ہون جانے کا خطرہ نہ ہو اور وہ حفاظت کرنے والا اور صاحب علم ہو‘ اسے دوسروں کی اصلاح کی امید ہو کہ وہ دوسروں کو فائدہ پہنچاسکے اور غلط کام میں تعاون نہ کرے‘ اس صورت میں اسے غیرمسلم حکومت میں کام (ملازمت) کرنا جائز ہے۔ حضرت یوسف علیہ السلام بھی ایسے ہی افراد میں سے تھے۔ اگر یہ شرائط پوری نہ ہوسکیں تو جائز نہیں۔

وَبِاللّٰہِ التَّوْفِیْقُ وَصَلَّی اللّٰہُ عَلٰی نَبِیَّنَا مُحَمَّدٍ وَآلِہ وَصَحْبِہ وَسَلَّمَ

اللجنة الدائمة۔ رکن: عبداللہ بن قعود، عبداللہ بن غدیان، نائب صدر: عبدالرزاق عفیفی، صدر عبدالعزیز بن باز

 

 

فتاوی بن باز رحمہ اللہ

جلددوم -صفحہ 80

محدث فتویٰ


تبصرہ (0)
[Notice]: Undefined index: irsloading (cache/c62f257fe6ed43eb557019d638a0d780.php:75)