فتاویٰ جات: متفرقات
فتویٰ نمبر : 8124
کافر ومشرک کا کسی اسلامک ملک کی شہریت حاصل کرنا
شروع از بتاریخ : 12 November 2013 09:19 AM
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

کسی کافر شخص کا اسلامی ملک کی شہریت حاصل کرنے کا کیا حکم ہے؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

اگر کوئی غیر مسلم ملک کی شہریت حاصل کرتا ہے تو یہ جائز ہے۔ بشرطیکہ اس سے فتنہ کا خطرہ نہ ہو اور اس سے بھلائی کی امد زیادہ ہو۔ البتہ اسے جزیرہ عرب میں رہائش اختیار کرنے کی اجازت اسی وقت دی جاسکتی ہے جب وہ اسلام قبول کرلے۔ کیونکہ صحیح بخاری کی روایت ہے:

(أَرْصٰی بِأِْخْراجِ الْمُشْرِکِینَ مِنْ جَزِیْرَة الْعَرَبِ)

کے مطابق نبی ﷺ نے مشرکوں کو جزیرہ عرب سے باہر نکال دینے کا حکم دیا تھا۔

وَبِاللّٰہِ التَّوْفِیْقُ وَصَلَّی اللّٰہُ عَلٰی نَبِیَّنَا مُحَمَّدٍ وَآلِہ وَصَحْبِہ وَسَلَّمَ

اللجنة الدائمة۔ رکن: عبداللہ بن قعود، عبداللہ بن غدیان، نائب صدر: عبدالرزاق عفیفی، صدر عبدالعزیز بن باز

فتویٰ (۹۲۷۲)

 

 

فتاوی بن باز رحمہ اللہ

جلددوم -صفحہ 79

محدث فتویٰ


تبصرہ (0)
[Notice]: Undefined index: irsloading (cache/c62f257fe6ed43eb557019d638a0d780.php:75)