فتاویٰ جات: متفرقات
فتویٰ نمبر : 8122
(228) دنیا کی خاطر کافر ملک کی شہریت اختیار کرنا
شروع از بتاریخ : 12 November 2013 09:15 AM
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

اسلام میں شہریت (Nationality) کی تبدیلی کا کیا حکم ہے؟ یعنی اگر کوئی شْخص ایک عربی مسلم ملک کی شہریت چھوڑ کر دوسرے عربی ملک کی شہریت اختیار کر لیتاہے یا اسلام کے عقیدے کو محوظ رکھتے ہوئے ایک عربی مسلم ملک کی شریت ترک کرکے ایک یوپی (غیر مسلم) ملک کی شہریت اختیار کرلیتا ہے‘ تو اس کا کیاحکم ہے؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

ایک مسلمان ملک کی شہریت چھوڑ کر دوسرے مسلمان ملک کی شہریت اختیار کرلینا جائز ہے لیکن کسی مسلمان اپنے مسلمان ملک کسی کافر ملک کی شہریت اختیار کرنا جائز نہیں۔

فتویٰ(۸۰۷۳)

 

 

فتاوی بن باز رحمہ اللہ

جلددوم -صفحہ 78

محدث فتویٰ


تبصرہ (0)
[Notice]: Undefined index: irsloading (cache/c62f257fe6ed43eb557019d638a0d780.php:75)