فتاویٰ جات: متفرقات
فتویٰ نمبر : 8121
(227) غیر مسلموں سے رواداری کی حدود
شروع از بتاریخ : 12 November 2013 09:13 AM
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

ایک دن ہماری ایک عیسائی پڑوسن ہمارے ہاں آئی اور میری والدہ سے باتیں کرنے لگی کہ عیسیٰ علیہ السلام کے بعد کوئی نبی مبعوث نہیں ہوا اور عیسیٰ رحمتہ الله علیہ  (نعوذباللہ) اللہ کے بیٹے ہیں۔ میری والدہ نے اس کی تردید کی اور بحیراراہب کا واقعہ بیان کیا اور بتایا کہ جناب رسول اللہ ﷺ اس وقت کم سن تھے اور یہ ممکن نہیں کہ بحیرا نے آپ ﷺ کو یہ کتاب سکھائی اور اس طرح اس شبہ کی تردید کی‘ جس کی تردید اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں کی ہے۔ جب مجھے اس بات چیت کا علم ہواتو میں نے کہا: ’’یہ عورت اگرچہ ذمی ہے چونکہ اس نے صاف طو رپر اللہ تعالیٰ کی توہین کی ہے…کیونکہ صحیح بخاری کی حدیث کے مطابق کسی کو اللہ کی اولاد قرار دینا اللہ کو گالی بکنے کے مترادف ہے… اور چونکہ اس نے جناب رسول اللہ ﷺ کی شان میں گستاخی کی ہے کہ حضور ﷺ کے نبی نہ ہونے کا ذکر ہے جس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ اس نے نبی ﷺ کو (نعوذباللہ) جھوٹا قرار دیا ہے‘ اس لئے اسے لازماً سزا ملنی چاہئے۔ چونکہ ہم ایک ایسے ملک میں رہتے ہیں جس کے حالات سے آپ واقف ہیں ‘ اس لئے میں اسے گھر سے نکالنے کے علاوہ اور کچھ نہ کر سکا۔

لیکن اس سے پہلے میں نے اس سے بحث کی۔ میں نے اس ’’فارقلیط‘‘ کے متعلق پوچھا۔ اس نے کہا: مجھے معلو م نہیں۔ پھر میں نے انجیلوں کے بیانات میں تناقص کے بارے میں بات کی اور عیسیٰ رحمتہ الله علیہ  کے اس عقیدے کے متعلق بتایا کہ عیسائی عیسیٰ رحمتہ الله علیہ کی ذات کے بارے میں خود متفق نہیں کہ وہ اللہ تھے یا وہ اللہ کے بیٹے تھے‘اس بحث کا نتیجہ یہ نکلا کہ اس نے کہا کہ میں ان مسائل سے ناواقف ہوں۔ پھر اس نے پرانے شبہات ذکر کئے مثلاً یہ کہ شیعہ قرآن مجید کونہیں مانتے اور قرآن مجید کی ان آیات کا ذکر کیا جن میں عیسیٰ رحمتہ الله علیہ  کو ’’اللہ کا کلمہ‘‘ اور ’’روح‘‘ کہا گیا ہے اور اس قسم کے شبہات پیش کئے گئے جن کی تردید امام بن حزام‘ امام بن تیمیہ اور دیگر علمائے امت ' اپنی کتابوں میں کرچکے ہیں ‘ جب میں نے اس کی ساری باتیں سنیں تو میں نے اسے اپنے گھر سے نکال دیا۔ میں نے کہا: جو کوئی اللہ تعالیٰ یا رسول اللہ ﷺ کی شان میں گستاخی کرے وہ اس گھر میں داخل نہیں ہوسکتا۔ ‘‘ دو دن بعد وہ پھر میری والدہ کے پاس آئی اور معذرت کی۔ جب مجھے علم ہوا تو میں نے والدہ سے کہا: اس جرم کی معذرت قبول نہیں کی جاسکتی، کیونکہ اس جرم کا تعلق میری ذات سے نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی ذات سے ہے اور اللہ اور اس کے رسول کے حق میں معذرت قبول کرنے کا مجھے اختیار نہیں۔ میں نے کہا:’’اگر وہ عورت دوبارہ نظر آئی تو میں اسے پھر نکال دوں گا۔ ‘‘ اس کے بعد پھر ایک میں گھر آیا تو وہ آئی ہوئی تھی اور مجھے معلوم ہوا کہ وہ والدہ کے لئے ’’ماؤں کے دن‘‘ کی مناسب سے تحفہ لے کرلائی ہے۔ مصر میں یہ دن منانے کی رسم علی امین نے شروع کی تھی‘ میں نے اس عورت سے کہا: ’’باہر نکل جاؤ‘‘ اگر والدہ آڑے نہ آتیں تو میں اسے زبردستی گھر سے نکال دیتا۔ لیکن والدہ اٹھ کھڑی ہوئیں تو میں نے سوچا یہ کافر عورت مسلمان کے گھر میں لڑائی ہوتے نہ دیکھے۔

اس کے بعد عورت کے خاوند نے میرے بڑے بھائی سے اسلام میں رواداری اور پڑوسیوں کے حقوق وغیرہ کے متعلق باتیں کرنا شروع کردیں اور اس سے کہا کہ وہ میری طرف سے معذرت کرے۔ میرا بھائی ویسے تو میرے ساتھ نہیں الجھا لیکن اس نے پڑوسیوں کے حقوق کامسئلہ اٹھایا اور یہ کہ ملک میں ان کی قوت ہے اور اس طرح کے دوسرے شبہات پیش کئے میں نے کہا’’میں جناب شیخ ابن بازکو خط لکھ کر یہ سوالات دریافت کروں گا کہ:

(۱)      میں نے جو رویہ اختیار کیا وہ صحیح ہے یا نہیں ؟

(۲)      جب حالات اس قسم کے ہوں تو اس طرح کے ہمسائیوں کے کیا حقوق ہوتے ہیں ؟

(۳)      افراد کے متعلق اسلام کی رواداری کی کیا حدود ہی؟ جو شخص میرے ذاتی حقوق کے بارے میں زیادتی کرے اسکا کیا حکم ہے اور جو اللہ تعالیٰ کے حق میں زیادتی کرے اس کا کیا حکم ہے؟

(۴)      عیسائیوں کے کیا حقوق ہی؟ اور ان کا صحیح مقام کیا ہے۔ معاہدہ‘ حربی یا کیا؟

(۵)      تفصیل سے ارشاد فرمائیں کہ عیسائی پڑوسیوں کے کیا حقوق ہی؟

(۶)      اس کے بعد میں ان کے ساتھ کیسا سلوک کروں ؟ اگر وہ عورت تحفے وغیرہ دے کر میری والدہ کے دل میں نرم گوشہ پیدا کرنا چاہے تومجھے کیا کرناچاہئے۔

الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

جب اس عیسائی عورت کایہ حال ہے تو جو آپ نے بیان کیا ہے تو آپ کے لئے ضروری ہے کہ اسے اپنے ہاں آنے سے منع کریں اور اس سے میل جول نہ رکھیں تاکہ فتنوں سے محفوظ رہیں اور شروفساد کا درواز ہ بند رہے۔ کیونکہ جس قسم کی باتیں وہ کرتی ہے اس میں اسلام پر تنقید اور باطل کی دعوت ہے۔ اس کی ملاقاتیں شبہ سے پاک نہیں ‘ لہـٰذا اس سے بچ کر رہنے میں سلامتی ہے۔ اس وقت ان کی جوسرگرمیاں اور ظاہری قوت ہے اس سے دھوکا نہیں کھانا چاہئے۔ اللہ تعالیٰ اپنے دوستوں کی یقینا مدد فرمائے گا اور ان لوگوں کی قوت ختم ہوکر رہے گی۔ انشاء اللہ۔ مومن کو اللہ کا کام کرتے ہوئے کسی کی ملامت کا خوف نہیں ہوتا۔

آپ نے بہت اچھا کام کیا کہ اس نصرانی عورت سے بحث کی اور اسے انجیلوں میں تعارض‘ اس کے عقیدے کی خرابی اور تناقص سے باخبر کیی اور اس کے شر سے بچنے کے لئے اسے گھر سے نکال دا۔ اگرچہ وہ آپ کی پڑوسن ہے لیکن ہمسائے کے ساتھ آداب کی رعایت اوراس کے احترام اور دیگر حقوق کا لحاظ اسی وقت تک ہوتا ہے جب تک وہ اپنی حد سے آگے نہ بڑھے اور اللہ تعالیٰ کی شان میں گستاخی نہ کرے اور اس سے فتنہ اور گمراہی کا اندیشہ نہ ہو اور اس سے ایسا رویہ اختیار کیا جائے جس سے وہ اپنے شر سے باز آجائے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

{لَایَنْہٰکُمُ اللّٰہُ عَنِ الَّذِیْنَ لَمْ یُقَاتِلُوکُمْ فِی الدِّیْنِ وَلَمْ یُخْرِجُوکُمْ مِّنْ دِیَارِکُمْ اَنْ تَبَرُّوہُمْ وَتُقْسِطُوا اِِلَیْہِمْ اِِنَّ اللّٰہَ یُحِبُّ الْمُقْسِطِین٭ اِِنَّمَا یَنْہَاکُمُ اللّٰہُ عَنْ الَّذِیْنَ قَاتَلُوکُمْ فِی الدِّیْنِ وَاَخْرَجُوکُمْ مِّنْ دِیَارِکُمْ وَظَاہَرُوْا عَلٰی اِِخْرَاجِکُمْ اَنْ تَوَلَّوْہُمْ وَمَنْ یَّتَوَلَّہُمْ فَاُوْلٰٓئِکَ ہُمْ الظَّالِمُوْنَ }

’’جن لوگوں نے تم سے دین کی بنیاد پر جنگ کی اور تمہیں تمہارے گھر وں سے نکالا‘ اللہ تعالیٰ تمہیں ان کیساتھ نیکی اور انصاف (کا سلوک) کرنے سے نہیں روکتا۔ اللہ تو انصاف کرنے والوں کے ساتھ محبت رکھتا ہے۔ اللہ تعالیٰ تمہیں صرف ان لوگوں سے دوستی کرنے سے روکتا ہے جنہوں نے تم سے دین کی بنیاد پر جنگ کی اور تمہیں تمہارے گھروں سے نکال دیا اور تمہارے نکالنے پر (نکالنے والوں سے) تعاون کیا۔ جو ان سے دوستی کریں گے وہی (لوگ) ظالم ہیں۔ ‘‘

نیز ارشاد ہے:

{وَ لَا تُجَادِلُوْٓا اَہْلَ الْکِتٰبِ اِلَّا بِالَّتِیْ ہِیَ اَحْسَنُ اِلَّا الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا مِنْہُمْ} (العنکبوت۲۹؍۴۶)

’’اہل کتاب سے صرف بہترین اسلوب سے ہی بحث کرو سوائے ن کے جو ان میں سے ظالم ہیں۔ ‘‘

لہٰذا جو شخص اچھا رویہ رکھے گا اس سے اچھا سلوک کیا جائے گا اور جو ظلم وزیادتی کا ارتکاب کرے گا اس سے وہی سلوک کیا جائے گا جس سے وہ ظلم زیادتی سے باز آجائے اور فتنہ ختم ہوجائے اور دن میں فتنہ ڈالنا تو قتل سے بڑا جرم ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اور آپ کو حق پر ثابت قدم رکھے اور ہمیں بھی اور آپ کو بھی ظاہر اور پوشیدہ فتنوں سے محفوظ رکھے۔

وَبِاللّٰہِ التَّوْفِیْقُ وَصَلَّی اللّٰہُ عَلٰی نَبِیَّنَا مُحَمَّدٍ وَآلِہ وَصَحْبِہ وَسَلَّمَ

اللجنة الدائمة۔ رکن: عبداللہ بن قعود، عبداللہ بن غدیان، نائب صدر: عبدالرزاق عفیفی، صدر عبدالعزیز بن باز

فتویٰ (۶۵۸۲)

 

 

فتاوی بن باز رحمہ اللہ

جلددوم -صفحہ 75

محدث فتویٰ


تبصرہ (0)
[Notice]: Undefined index: irsloading (cache/c62f257fe6ed43eb557019d638a0d780.php:75)