فتاویٰ جات: متفرقات
فتویٰ نمبر : 8119
(225) مشرکین میں اقامت نہ رکھیں
شروع از بتاریخ : 12 November 2013 09:09 AM
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

میں ہر سال دوسے ملکوں (یونان۔ آسٹریلیا) میں بیوی اور بچی سمیت سیروتفریح کے لئے جاتا ہوں۔ وہاں ہم دو ہفتے سمندرمیں یونان کے خوبصورت جزیروں اور باغوں میں شریفانہ تفریح سے لطف اندوز ہوتے ہیں۔ اس دوران ہم دونوں نمازیں بھی پابندی سے ادا کرتے ہیں۔ میری بیوی پردہ کاپورا خیال رکھتی ہے ہم (مشکوک کھانوں سے بچنے کے لئے) صرف پھل کھاتے ہیں۔ ہم لوگ نہ توغیر مسلموں سے خلط ملط ہوتے ہیں ؟ نہ انہیں عریاں لباس میں دیکھتے ہیں۔ کیا یہ جائز ہے؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

مشرکین کے ملک میں کسی شرعی جواز کے بغیر سفر کرکے جانا جائز نہیں اور تفریح کوئی شرعی جواز نہیں۔ نبی ﷺ نے فرمایا:

(أَنَا بَرِیئٌ مَنْ کُلِّ مُسْلِمِ یُقِیْمُ بَیْنَ أَظْھُرِ الْمُشْرِکِینَ)

’’میں ہر مسلمان سے بری ہوں جو مشرکوں میں اقامت رکھتاہے۔ ‘‘1

اس لئے ہم آپ کو نصیحت کرتے ہیں کہ تفریحی مقاصدکے لئے ان ملکوں میں نہ جائیں کیونکہ اس سے فتنوں میں مبتلا ہونے کااندیشہ ہے اور مشرکیں میں اقامت اختیار کرنے جیسا ممنوع کام ہے۔ جب کہ نبی ﷺ کی حدیث صحیح سند سے مروی ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا:

(أَنَا بَرِیئٌ مَنْ کُلِّ مُسْلِمِ یُقِیْمُ بَیْنَ أَظْھُرِ الْمُشْرِکِینَ)

’’میں ہر مسلمان سے بری ہوں جو مشرکوں میں اقامت رکھتاہے۔ ‘‘اس مفہوم کی اور حدیثیں بھی ہیں۔

وَبِاللّٰہِ التَّوْفِیْقُ وَصَلَّی اللّٰہُ عَلٰی نَبِیَّنَا مُحَمَّدٍ وَآلِہ وَصَحْبِہ وَسَلَّمَ

اللجنة الدائمة۔ رکن: عبداللہ بن قعود، عبداللہ بن غدیان، نائب صدر: عبدالرزاق عفیفی، صدر عبدالعزیز بن باز

فتویٰ (۲۳۹۳)

------------------------------------------

1 سنن ابی داؤد حدیث نمبر: ۲۶۴۵۔ جامع ترمذی حدیث نمبر: ۱۶۰۵۔ مجتبیٰ نسائی ۸؍۳۶

 

 

فتاوی بن باز رحمہ اللہ

جلددوم -صفحہ 74

محدث فتویٰ


تبصرہ (0)
[Notice]: Undefined index: irsloading (cache/c62f257fe6ed43eb557019d638a0d780.php:75)