فتاویٰ جات: متفرقات
فتویٰ نمبر : 8113
(219) کافروں سے دوستی رکھنے والے رشتہ داروں سے میل جول رکھنا
شروع از بتاریخ : 12 November 2013 09:00 AM
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

کیا ان رشتہ داروں سے ملاقات کے لے جانا درست ہے جو کافروں سے محبت رکھتے ہی؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

اگر ملاقات کے لئے جانے اولا انہیں نصیحت کرے‘ انہیں کافروں سے محبت ترک کرنے کی ترغیب دلائے اور انہیں بتائے کہ شریعت میں مومنوں سے دوستی اور کافروں سے بے تعلقی رکھنے کا کیا مطلب ہے‘ تاکہ انہیں اس مسئلہ میں اپنے فرض کا علم ہوجائے اور امید ہو کہ وہ اپنے دین کے احکام پر پختگی سے عمل کرنے لگیں اور غلط کام چھوڑدیں گے‘ تو اس حالت میں ان سے ملاقات کے لئے جانا جائز ہے۔ بلکہ بسا اوقات امر بالمعروف او رنہی عن المنکر کے لئے ان سے ملاقات کرنا واجب ہوتا ہے‘ رشتہ داروں کے بارے میں یہ کام کرنا زیادہ ضروری ہیں۔ کیونکہ ان سے صلہ رحمی بھی ضروری ہے اور شریعت کے احکام سے واقف کرنابھی۔ البتہ اگر کوئی شخص ان سے ملاقات کے وقت یہ فرض سرانجام نہیں دیتا تو اس کے لئے ان سے ملنے جانا جائز نہیں۔

وَبِاللّٰہِ التَّوْفِیْقُ وَصَلَّی اللّٰہُ عَلٰی نَبِیَّنَا مُحَمَّدٍ وَآلِہ وَصَحْبِہ وَسَلَّمَ

اللجنة الدائمة۔ رکن: عبداللہ بن قعود، عبداللہ بن غدیان، نائب صدر: عبدالرزاق عفیفی، صدر عبدالعزیز بن باز

فتویٰ (۸۰۹۷)

 

 

فتاوی بن باز رحمہ اللہ

جلددوم -صفحہ 69

محدث فتویٰ


تبصرہ (0)
[Notice]: Undefined index: irsloading (cache/c62f257fe6ed43eb557019d638a0d780.php:75)