فتاویٰ جات: متفرقات
فتویٰ نمبر : 8103
(209) اسلام اور کفر کے درمیان حد فاصل
شروع از بتاریخ : 12 November 2013 08:21 AM
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

کفر اور اسلام کے درمیان حد فاصل کیا ہے؟ کیا جو شخص کلمہ پڑھنے کے باوجود اس کے منافی کام کرتا ہے وہ مسلمان شمار ہوگا اگرچہ نماز روزہ بھی کرتا ہو؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

کفر اور اسلام کے درمیان حد فاصل یہ ہے کہ( آدمی) سچے دل سے اخلاص کے ساتھ شہادتین کا اقرار اور ان کے تقاضے کے مطابق عمل کرے۔ جس شخص میں یہ وصف موجو دہے وہ صاحب ایمان مسلمان ہے۔ جو منافق دل سے تصدیق نہیں کرتا اور اخلاص نہیں رکھتا تو وہ مومن نہیں اور جو شخص کلمہ پڑھتا ہے پھر ایسے کفریہ کام کرتا ہے جو سراسر اس کے منافی ہیں۔ مثلاً فوت شدہ بزرگوں سے فریاد اور ان سے مشکل کشائی کی درخواست جیسے شرکیہ اعمال کرتا ہے یا اللہ کی نازل کردہ شریعت کے مطابق فیصلہ کرنے پر انسانوں کے بنائے ہوئے غیر شرعی قوانین کے مطابق فیصلہ کرنے کو ترجیح دیتا ہے‘ یا قرآن مجید کا مذاق اڑاتا ہے‘ یا رسول اللہ ﷺ کی ثابت شدہ سنت کی تضحیک کرتا ہے‘ وہ کافر ہے خواہ وہ کلمہ پڑھتا ہو‘ نماز پڑھتا اور روزہ بھی رکھتا ہو۔

وَبِاللّٰہِ التَّوْفِیْقُ وَصَلَّی اللّٰہُ عَلٰی نَبِیَّنَا مُحَمَّدٍ وَآلِہ وَصَحْبِہ وَسَلَّمَ

اللجنة الدائمة۔ رکن: عبداللہ بن قعود، عبداللہ بن غدیان، نائب صدر: عبدالرزاق عفیفی، صدر عبدالعزیز بن باز

فتویٰ (۵۹۳۰)

 

 

فتاوی بن باز رحمہ اللہ

جلددوم -صفحہ 51

محدث فتویٰ


تبصرہ (0)
[Notice]: Undefined index: irsloading (cache/c62f257fe6ed43eb557019d638a0d780.php:75)