فتاویٰ جات: متفرقات
فتویٰ نمبر : 8102
مجبوری کی صورت میں کفار کے ساتھ رہنا
شروع از بتاریخ : 12 November 2013 08:21 AM
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

ایک شخص موحد مسلمان ہے‘ صرف اللہ تعالیٰ کی عبادت کرتا ہے اور کسی قسم کا شرک نہیں کرتا۔ اس کے باوجود کافروں کے ساتھ رہائش رکھتاہے‘ وہاں وہ اپنے دین کا واضح طور پر اظہار کر سکتا ہے نہ اپنا مقصد واضح کرسکتا ہے اور نہ ہی وہاں سے ہجرت کرسکتا ہے۔ ایسے شخص کے متعلق ارشاد فرمائیے۔


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

اگر اس مومن کی کیفیت واقعتا وہی ہے جو آپ نے بیان کی ہے کہ وہ توحید کا اظہار کرنے سے عاجز ہے‘ اسلام کی تبلیغ کرسکتا ہے نہ اپنا مقصد واضح کرسکتا ہے‘ وہ کافروں کے درمیان رہائش پذیر ہے اور ہجرت کرکے ایسے ملک میں جانے سے قاصرہے جہاں وہ ا پنے آپ کو مسلمان ظاہر کرسکے او ر اسلام کی طرف بلا سکے‘تو وہ معذور ہے۔ امید ہے اللہ تعالیٰ اسے معاف فرمادیں گے۔ اسے جب بھی خفیہ طور پر اسلام کی دعوت دینے کا موقع ملے‘ اس سے فائدہ اٹھانا چاہئے۔ ممکن ہے کہ اللہ تعالیٰ ایسے افراد مہیا کرے جو اس کی دعوت قبول کریں او راس سے تعاون کریں۔ اس کے ساتھ ساتھ اسے کفر کے ملک سے مسلمانوں کے ملک کی طرف ہجرت کے موقعہ کی تلاش میں رہنا چاہئے۔ اسے کوشش کرنی چاہئے کہ مسلمانوں کی تعداد میں اضافہ ہو تاکہ ان کے تعاون سے اسلامی شعائر کو قائم رکھا جاسکے۔

لیکن جو شخص مسلمانوں کے ملک کی طر ف ہجرت کرسکتاہے لیکن نہیں کرتا‘ وہ اسی حال میں مطمئن ہے کہ مغلوب ہو کر‘ یا چاپلوسی کر کے کافروں کے ملک میں رہتا رہے‘ اگرچہ اس کے دین کو نقصان ہی پہنچ رہا ہو تو ایسا شخص خود پر بھی زیادتی کرتا ہے‘ اسلام پر بھی اور مسلمانوں پر بھی۔ ایسے افراد کو اللہ تعالیٰ نے تنبیہ کی ہے کہ ان کا ٹھکانا جہنم ہے۔ (اللہ تعالیٰ محفوظ رکھے) اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں :

{اِنَّ الَّذِیْنَ تَوَفّٰہُمُ الْمَلٰٓئِکَة ظَالِمِیْٓ اَنْفُسِہِمْ قَالُوْا فِیْمَ کُنْتُمْ قَالُوْا کُنَّا مُسْتَضْعَفِیْنَ فِی الْاَرْضِ قَالُوْٓا اَلَمْ تَکُنْ اَرْضُ اللّٰہِ وَاسِعَة فَتُہَاجِرُوْا فِیْہَا فَاُولًٰئِکَ مَاْوٰیہُمْ جَہَنَّمُ وَ سَآئَ تْ مَصِیْرًا٭ اِلَّا ا مِنَ الرِّجَالِ وَ النِّسَآئِ وَ الْوِلْدَانِ لَایَسْتَطِیْعُوْنَ حِیْلَة وَّ لَا یَہْتَدُوْنَ سَبِیْلًا٭فَاُولٰٓئِکَ عَسَی اللّٰہُ اَنْ یَّعْفُوَ عَنْہُمْ وَ کَانَ اللّٰہُ عَفُوًّا غَفُوْرًا}

’’جن لوگوں کو فرشتے اس حالت میں وفات دیتے ہیں کہ وہ اپنے آپ پر ظلم کرنے والے ہیں تو فرشے ان سے پوچھتے ہیں تم کس حال میں تھے؟ وہ کہتے ہیں کہ ہم زمین میں کمزور تھے۔ وہ (فرشتے) کہتے ہیں کیا اللہ کی زمین وسیع نہیں تھی کہ تم اس میں ہجرت کرلیتے؟ یہی ہیں جن کا ٹھکانا جہنم ہے اور وہ انجام کی بری جگہ ہے۔ مگروہ (سچ مچ) کمزور مرد‘ عورتیں اور بچے جوکوئی تدبیر نہیں کرسکتے نہ راستہ معلوم کرسکتے ہیں تو امید ہے کہ اللہ تعالیٰ ایسے لوگوں کو معاف فرمادے گا اور اللہ تعالیٰ معاف کرنے والابخشنے والا ہے۔ ‘‘

وَبِاللّٰہِ التَّوْفِیْقُ وَصَلَّی اللّٰہُ عَلٰی نَبِیَّنَا مُحَمَّدٍ وَآلِہ وَصَحْبِہ وَسَلَّمَ

اللجنة الدائمة۔ رکن: عبداللہ بن قعود، عبداللہ بن غدیان، نائب صدر: عبدالرزاق عفیفی، صدر عبدالعزیز بن باز

فتویٰ (۱۰۶۸۴)

 

 

فتاوی بن باز رحمہ اللہ

جلددوم -صفحہ 51

محدث فتویٰ


تبصرہ (0)
[Notice]: Undefined index: irsloading (cache/c62f257fe6ed43eb557019d638a0d780.php:75)