فتاویٰ جات: متفرقات
فتویٰ نمبر : 8095
(201) جزیرہ عرب میں مشرک وکافر کا داخلہ منع ہے
شروع از بتاریخ : 11 November 2013 09:55 AM
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

کیا کسی مسلمان کے لئے (جزیرئہ عرب) میں ایک بے دین غیر مسلم شخص کو بطور خادم یا ڈرائیور ملازم رکھنا جائز ہے؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

مسلمان کے لئے مناسب نہیں کہ جزیرئہ عرب میں کسی کافر کو بطور خادم یاڈرائیور نوکر رکھے۔ کیونکہ رسول اللہ ﷺ نے جزیرئہ عرب سے مشرکین کو نکالنے کا حکم دیا تھا اور ان کو ملازم رکھنے سے یہ لازم آتا ہے کہ جسے رسول اللہ ﷺ نے دور کیا ہم اسے قریب کریں اور جسے حضور ﷺ نے ناقابل اعتماد سمجھا ہم اسے امین سمجھیں۔ ان کو ملازم رکھنے سے دوسرے بھی بہت سے مفاسد پیدا ہوتے ہیں۔

وَبِاللّٰہِ التَّوْفِیْقُ وَصَلَّی اللّٰہُ عَلٰی نَبِیَّنَا مُحَمَّدٍ وَآلِہ وَصَحْبِہ وَسَلَّمَ

اللجنة الدائمة۔ رکن: عبداللہ بن قعود، عبداللہ بن غدیان، نائب صدر: عبدالرزاق عفیفی، صدر عبدالعزیز بن باز

فتویٰ (۴۲۴۶)

 

 

فتاوی بن باز رحمہ اللہ

جلددوم -صفحہ 49

محدث فتویٰ


تبصرہ (0)
[Notice]: Undefined index: irsloading (cache/c62f257fe6ed43eb557019d638a0d780.php:75)