فتاویٰ جات: متفرقات
فتویٰ نمبر : 8072
ذمیوں سے سلوک
شروع از بتاریخ : 11 November 2013 09:02 AM
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

ہمارے ملک میں مقیم اہل کتاب کا کیا حکم ہے؟ واضح رہے کہ یہ لوگ جزیہ نہیں دیتے بلکہ مسلمانوں سے دشمنی رکھتے ہیں اور انہیں اسلام اور مسلمانوں کو نقصان پہنچانے کا جو بھی موقع ملتا ہے‘ وہ خفیہ یا اعلانیہ اس میں شریک ہوتے ہیں۔ ایسے لوگوں کے ساتھ معاملات کس طرح رکھے جائیں ؟ اور ایک مسلمان ان سے لاتعلقی اور عدم موالات کا اظہار کس طرح کرے؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

جو غیر مسلم شخص مسلمانوں کے ساتھ صلح صفائی سے رہے اور انہیں تنگ کرنے کی کوشش نہ کرے‘ ہم بھی اس سے اچھا سلوک کریں گے اور اسلام کی طرف سے اس کے متعلق ہم پر جو ذمہ داری عائد ہوتی ہے وہ پوری کریں گے یعنی اس سے بھلائی‘ نصیحت اور حق کی طرف رہنمائی۔ ہم اسے دلائل کے ساتھ اسلام کی دعوت پیش کریں گے‘ شاید وہ اسلام قبول کرلے۔ اگر وہ قبول کرلے تو بہتر ورنہ ہم ان سے وہ فرائض ادے کرنے کا مطالبہ کریں گے جو قرآن وحدیث کی روشنی میں مسلمان ملک کے اندر رہ کر ایک غیر مسلم باشندے پر عائد ہوتے ہیں۔ اگر وہ لوگ اپنے فرائض ادا کرنے سے انکار کریں تو ہم ان سے جنگ کریں گے حتیٰ کہ اسلام غالب اور کفر مغلوب ہوجائے۔ اس کے برعکس جو غیر مسلم سرکشی کا رویہ اختیار کرے‘ مسلمانوں کو تنگ کرے اور ان کے خلاف سازشیں کرے تو مسلمانوں کا فرض ہے کہ اسے اسلام کی دعوت دیں۔ اگر وہ انکار کرے تو مسلمانوں کوپہنچے والی تکلیف کے ازالہ اور دین کی مدد کے لئے اس سے قتل کریں۔ ارشاد ربانی ہے:

{َا تَجِدُ قَوْمًا یُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰہِ وَالْیَوْمِ الْآخِرِ یُوَآدُّوْنَ مَنْ حَادَّ اللّٰہَ وَرَسُوْلَہ’ وَلَوْ کَانُوْا آبَائَ ہُمْ اَوْ اَبْنَآئَ ہُمْ اَوْ اِِخْوَانَہُمْ اَوْ عَشِیرَتَہُمْ اُوْلٰٓئِکَ کَتَبَ فِیْ قُلُوْبِہِمُ الْاِِیْمَانَ وَاَیَّدَہُمْ بِرُوحٍ مِّنْہُ } (المجادلة۸۵/ ۲۲)

’’آپ کبھی یہ نہ پائیں گے کہ جو لوگ اللہ تعالیٰ اور قیامت پر ایمان رکھتے ہیں ، وہ ان لوگوں سے محبت کرتے ہوں جنہوں نے اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی مخالفت کی ہے خواہ وہ ان کے باپ ہوں یا ان کے بیٹے‘ ان کے بھائی ہوں یا ان کے قریب دار یہی لوگ ہیں جن کے دلوں میں اللہ تعالیٰ نے ایمان ثبت کردیا ہے اور اپنی طرف سے ایک روح کے ساتھ ان کی مدد فرمائی ہے‘‘

نیز فرمان الٰہی ہے:

{لَایَنْہٰکُمُ اللّٰہُ عَنِ الَّذِیْنَ لَمْ یُقَاتِلُوکُمْ فِی الدِّیْنِ وَلَمْ یُخْرِجُوکُمْ مِّنْ دِیَارِکُمْ اَنْ تَبَرُّوہُمْ وَتُقْسِطُوا اِِلَیْہِمْ اِِنَّ اللّٰہَ یُحِبُّ الْمُقْسِطِین٭ اِِنَّمَا یَنْہَاکُمُ اللّٰہُ عَنْ الَّذِیْنَ قَاتَلُوکُمْ فِی الدِّیْنِ وَاَخْرَجُوکُمْ مِّنْ دِیَارِکُمْ وَظَاہَرُوْا عَلٰی اِِخْرَاجِکُمْ اَنْ تَوَلَّوْہُمْ وَمَنْ یَّتَوَلَّہُمْ فَاُوْلٰٓئِکَ ہُمْ الظَّالِمُوْنَ }

’’جن لوگوں نے تم سے دین کی بنیاد پر جنگ کی اور تمہیں تمہارے گھر وں سے نکالا‘ اللہ تعالیٰ تمہیں ان کیساتھ نیکی اور انصاف (کا سلوک) کرنے سے نہیں روکتا۔ اللہ تو انصاف کرنے والوں کے ساتھ محبت رکھتا ہے۔ اللہ تعالیٰ تمہیں صرف ان لوگوں سے دوستی کرنے سے روکتا ہے جنہوں نے تم سے دین کی بنیاد پر جنگ کی اور تمہیں تمہارے گھروں سے نکال دیا اور تمہارے نکالنے پر (نکالنے والوں سے) تعاون کیا۔ جو ان سے دوستی کریں گے وہی (لوگ) ظالم ہیں۔ ‘‘

 


فتاوی بن باز رحمہ اللہ

جلددوم -صفحہ 31

محدث فتویٰ


تبصرہ (0)
[Notice]: Undefined index: irsloading (cache/c62f257fe6ed43eb557019d638a0d780.php:75)