فتاویٰ جات: متفرقات
فتویٰ نمبر : 8069
اجتہادی وفروعی مسائل کی بنا پر کفرکا فتویٰ لگانا
شروع از بتاریخ : 11 November 2013 08:53 AM
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

ترکی میں ہمارے مسلمان بھائیوں میں اس حدیث کے متعلق اختلاف ہوگیا ہے۔

(مَنْ حََلَّلَ حَرَاماً أَوْ حَرَّمَ حَلَالاً فَقَدْ کَفَرَ)

’’جس نے حرام کو حلال سمجھا یا حلال کو حرام سمجھا‘ اس نے کفر کیا‘‘

کیا حرام کو حلال یاحلال کو حرام کہنے والا کافر شمار ہو گیا یا گناہ گار ہوگا؟ حدیث میں ’’کفر‘‘ (اس نے کفر کیا) کے لف؍ کا کیا مطلب ہے؟ کیا ’’کفر‘‘ (اس نے کفر کیا) اور ’’کافر‘‘ (وہ کافر ہے) میں کوئی فرق نہیں ؟ گزارش ہے کہ اس حدیث کے متعلق کافی، شافی اور تسلی بخش جواب سے نوازیں۔

الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

(۱)      ہماری معلومات کے مطابق یہ حدیث بے اصل ہے۔ کسی کسی معتبر امام اور محدث نے اسے صحیح یا ضعیف سند کے ساتھ روایت نہیں کیا۔ اس صورت میں اس حدیث پر کسی مسئلہ کی بنیاد نہیں رکھی جاسکتی۔

(۲)      ایسا حکم جو کتاب اللہ یا حدیث نبوی کی نص صریح سے ثابت ہوا اور نص میں تاویل کی گنجائش ہو، نہ اس مسئلہ میں اجتہاد کی، جو مسلمان اس حکم کی مخالفت کرے یا پختہ ثابت اجماع کی مخالفت کرے، اسے صحیح شرعی حکم بتایا جائے گا، اگرقبول کرلے تو بہت بہتر ہے۔ لیکن اگ رمسئلہ کی وضاحت اور حجت قائم ہوجانے کے بعد بھی قبول کرنے سے انکار کرے اور اللہ تعالیٰ کے فیصلہ کو تبدیل کرنے پر اصرار کرے، تو اس پر کفر کا حکم لگایا جائے گا اور اس سے مرتد والا سلوک کیا جائے گا۔ مثلاً اگر کوئی شخص پانچ نمازوں … یا ان میں سے کسی ایک نماز… کی فرضیت کا انکار کرے یا روزہ یا حج یا زکوٰة کے فرض ہونے کا انکار کرے یا ان کی فرضیت ظاہر کرنے والی قرآن وحدیث کی نصوص کی تاویل کرے اور اجماع امت کی پرواہ نہ کرے تو اس پر مذکورہ بالا حکم لگایا جائے گا۔ اس کے برعکس اگر مسئلہ ایسی دلیل سے ثابت ہوکہ خود اس دلیل کے ثبوت میں اختلاف ہے، یا اس نص کی تشریح میں اختلاف کی گنجائش ہے یا اس مسئلہ میں مختلف دلائل ملتے ہیں (اور ترجیح میں اختلاف ہوجاتا ہے) تو یہ اجتہادی اختلاف ہے۔ اس صورت میں کسی کو کافر نہیں کہا جاسکتا بلکہ اجتہاد میں غلطی کرنے والے کو معذور سمجھا جائے گا اور اسے اجتہاد کا ثواب ملے گا اور جس کا اجتہاد صحیح ہوا وہ قابل تعریف ہے‘ اسے دو نیکیاں ملیں گی۔ ایک نیکی اس کے اجتہاد کی اور ایک نیکی صحیح مسئلہ سمجھ لینے کی۔ اس کی مثال یہ ہے کہ ایک شخص مقتدی کے لئے فاتحہ پڑھنا ضروری نہیں سمجھتا‘ دوسرا واجب کہتا ہے۔ اسی طرح جس کے ہاں فوتیدگی ہوجائے۔ وہ کھاناتیار کرتا ہے اور لوگ مل کر کھاتے ہیں۔ اسے کوئی مستحب کہتا ہے۔ اسی طرح ہے، کوئی مباح کوئی مکروہ۔ ایسی صورت میں دوسرے شخص کو کافر کہنا، یا اس کے پیچھے نماز پڑھنے سے پرہیز کرنا درست نہیں۔ اس سے شادی بیاہ کا تعلق رکھنا ضروری ہے نہ اس کے ہاتھ کا ذبح کیا ہوا جانور کھانا حرام ہے۔ اسے نصیحت کرنی چاہئے اور شرعی دلائل کی روشنی میں اس سے بات چیت کی جاسکتی ہے۔ وہ مسلمان بھائی ہے، اسے مسلمانوں والے حقوق حاصل ہیں۔ اس مسئلہ میں اختلاف فروعی اجتہادی اختلاف ہے۔ اس قسم کا اختلاف صحابہ کرام رضی الله عنہم کے دور میں اور ائمئہ کے سلف کے مابین بھی موجود رہا ہے۔ لیکن انہوں نے ایک دوسرے کو کافرنہیں کہا اور ایک دوسرے سے تعلق منقطع نہیں کئے۔

وَبِاللّٰہِ التَّوْفِیْقُ وَصَلَّی اللّٰہُ عَلٰی نَبِیَّنَا مُحَمَّدٍ وَآلِہ وَصَحْبِہ وَسَلَّمَ

اللجنة الدائمة۔ رکن: عبداللہ بن قعود، عبداللہ بن غدیان، نائب صدر: عبدالرزاق عفیفی، صدر عبدالعزیز بن باز

فتویٰ (۴۹۳۸)

 

 

فتاوی بن باز رحمہ اللہ

جلددوم -صفحہ 26

محدث فتویٰ


تبصرہ (0)
[Notice]: Undefined index: irsloading (cache/c62f257fe6ed43eb557019d638a0d780.php:75)