فتاویٰ جات: متفرقات
فتویٰ نمبر : 8056
(05) بے دین اور منافق سے رابطہ رکھنا
شروع از بتاریخ : 11 November 2013 08:16 AM
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

جس عمارت میں میری رہائش ایک شخص رہتا ہے جو کبھی داڑھی رکھ لیتا ہے کبھی مونڈ دیتا ہے، جھوٹ بولتا ہے، والدین کی نافرمانی کرتا ہے اور دین اسلام کو برا بھلا کہتاہے، حقیقت یہ ہے کہ اس میں منافقوں کی بہت سے علامتیں موجود ہیں۔ اللہ تعالیٰ کی پناہہ ایک بار اس نے میری موجودگی میں دس منٹ میں سات آٹھ بار دین کوگالی دی۔ کیا ایسے شخص کو سلام کیا جاسکتا ہے حالانکہ میرے دل میں اس سے شدید نفرت ہے؟ اگر وہ سلام کرے تو کیا میں جواب دوں ؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

دین اسلام کو گالی دینا (نعوذ باللہ) صریح کفر ہے۔ جیسے کہ قرآن مجید اور اجماع امت سے ثابت ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

{اَبِاللّٰہِ وَ اٰیٰتِہ وَرَسُوْلِہ کُنْتُمْ تَسْتَہْزِئُ وْن٭ لَا تَعْتَذِرُوْا قَدْ کَفَرْتُمْ بَعْدَ اِیْمَانِکُمْ } (التوبة۹/ ۶۵، ۶۶)

’’کیا تم اللہ ، اس کی آیتوں اور اس کے رسول سے ٹھٹھا کرتے تھے؟ معذرت نہ کرو، تم ایمان لانے کے بعد کافر ہوچکے ہو۔ ‘‘

اس مفہوم کی اور بھی آیت کریمہ موجود ہیں۔ اسے نصیحت کرنا اور اس برائی سے روکنا ضروری ہے۔ اگر وہ نصیحت قبول کرلے تو الحمد للہ، ورنہ ایسے شخص کو سلام کرنا بالکل جائز نہیں۔ اگر وہ سلام کرے تو جواب نہ دیاجائے، اس کی دعوت قبول نہ کی جائے۔ اس کا مکمل بائیکاٹ کیا جائے حتیٰ کہ وہ توبہ کر لے یا مسلمان حاکم اسے سزائے موت دے دے۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا:

(مَنْ بَدَّلَ دِیْنَہُ فَاقْتَلُوْ ہُ)

(صحیح بخاری، مسند احمد/۲، ۵/ ۲۳۱، سنن ترمذی، سنن ابی داود، سنن النسائی ابن ماجہ)

’’جو شخص اپنا دین تبدیل کرے اسے قتل کردو‘‘

1اس حدیث کو امام بخاری نے اپنی کتاب ’’صحیح‘‘ میں حضرت عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما  سے روایت کیا ہے۔ بلاشبہ مسلمان کہلانے والا شخص جب دین کو گالی دے تو اس نے اپنا دین بدل لیا۔

وَبِاللّٰہِ التَّوْفِیْقُ وَصَلَّی اللّٰہُ عَلٰی نَبِیَّنَا مُحَمَّدٍ وَآلِہ وَصَحْبِہ وَسَلَّمَ

اللجنة الدائمة۔ رکن: عبداللہ بن قعود، عبداللہ بن غدیان، نائب صدر: عبدالرزاق عفیفی، صدر عبدالعزیز بن باز

فتویٰ (۳۲۵۵)

------------------------------------------------

1 صحیح بخاری، کتاب الجہاد والسیر، ب: ۱۴۹ ح ۳۰۱۷، سنن ابی داؤد کتاب الحدود’ باب الحکم فیمن ارتدح ۴۳۵۱۔ جامع ترمذی ح ۱۴۵۸

 

 

 

فتاوی بن باز رحمہ اللہ

جلددوم -صفحہ 16

محدث فتویٰ


تبصرہ (0)
[Notice]: Undefined index: irsloading (cache/c62f257fe6ed43eb557019d638a0d780.php:75)