فتاویٰ جات: متفرقات
فتویٰ نمبر : 8053
(02) ارتداد کا مطلب
شروع از بتاریخ : 11 November 2013 08:07 AM
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

کہتے ہیں کہ ارتداد کا بعض اوقات زبانی (قولی) ہوتا ہے اور بعض اوقات عملی (فعلی) براہ کرم اختصار کے ساتھ وضاحت فرمادیجئے کہ ارتداد کی ان قسموں۔ قولی، فعلی، اور اعتقادی، کا کیا مطلب ہے؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

ارتداد کا مطلب ہے مسلمان ہونے کے بعد کافر ہوجانا۔ ارتدادقول سے بھی ہوسکتا ہے، فعل سے بھی، اعتقاد سے بھی اور شک سے بھی۔ مثلاً اگر کوئی شخص اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کرتا ہے یا اس کی ربوبت کا انکا رکرتا ہے، یا ا س کی وحدانیت، اس کی کسی صفت، اس کی نازل کی ہوئی کسی کتاب یا کسی رسول کا انکار کرتا ہے، اللہ تعالیٰ یا اس کے رسول کو گالی دیتا ہے، یا جن چیزوں کی حرمت پر امت کا اجماع ہے ان مں ی سے کسی کو حلال سمجھتا ہے، یا اسلام کے پانچ ارکان میں سے ایک کا انکار کرتا ہے یا اسلام کے کسی رکن کے وجوب میں ، یا جناب محمد ﷺ یا کسی اور نبی کی نبوت میں یا قیامت میں شک کرتا ہے، یا کسی بت یا ستارے وغیرہ کو سجدہ کرتا ہے تو ایسا شخص کافر اور دین اسلام سے خارج ہوجاتا ہے۔ مزید تفصیل کے لئے فقہ کی کتابوں میں مذکور ارتداد کا مطلب مفید ہوگا۔ علمائے کرام نے اس مسئلہ کو اپنی کتابوں میں کماحقہ اہمیت دی ہے۔ اللہ تعالیٰ ان سب پر رحمت نازل فرمائے۔ مذکورہ بالا مثالوں سے قولی، عملی اور اعتقادی ارتداد اور شک کی بنیاد پر ارتداد کی وضاحت ہوجاتی ہے۔

 

 

فتاوی بن باز رحمہ اللہ

جلددوم -صفحہ 14

محدث فتویٰ


تبصرہ (0)
[Notice]: Undefined index: irsloading (cache/c62f257fe6ed43eb557019d638a0d780.php:75)