فتاویٰ جات: متفرقات
فتویٰ نمبر : 8050
(611) کیا یادگار کے طور پر تصویریں جمع کرنا جائز ہے؟
شروع از بتاریخ : 09 November 2013 11:12 AM
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

کیا یادگار کے طور پر تصویریں جمع کرنا جائز ہے یا نہیں ؟(ر۔ م۔ح)


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

کسی مسلم مرد یا عورت کے لیے یہ جائز نہیں کہ وہ یادگار کے طور پر تصویریں جمع کرے۔ یعنی ایسی تصویریں جو انسانوں یا کسی بھی دوسرے جاندار کی ہوں بلکہ انہیں تلف کر دینا واجب ہے۔ کیونکہ نبیﷺ سے ثابت ہے کہ آپﷺ نے حضرت علی رضى الله عنه سے فرمایا: ’’جو تصویر بھی دیکھو اسے مٹا دو اور جو بھی بلند قبر دیکھو اسے برابر کر دو۔‘‘

نیز آپﷺ سے یہ بھی ثابت ہے کہ آپ نے گھر میں تصویریں رکھنے سے منع فرمایا ہے اور جب آپﷺ فتح مکہ کے دن بیت اللہ شریف میں داخل ہوئے تو اس کی دیواروں پر تصویریں دیکھیں ۔ آپﷺ نے کپڑا اور پانی منگوایا پھر انہیں مٹا دیا۔

البتہ جمادات یعنی بے جان چیزوں کی تصویروں میں کوئی حرج نہیں ۔ جیسے پہاڑ، درخت اور اسی قسم کی دوسری تصویروں میں ۔

 

 

فتاوی بن باز رحمہ اللہ

جلداول -صفحہ 245

محدث فتویٰ


تبصرہ (0)
[Notice]: Undefined index: irsloading (cache/c62f257fe6ed43eb557019d638a0d780.php:75)