فتاویٰ جات: متفرقات
فتویٰ نمبر : 8041
ایسا طریقہ بتلائیے کہ مجھ سے عادت سریہ چھوٹ جائے؟
شروع از بتاریخ : 09 November 2013 10:58 AM
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

میں عادت سریہ میں مبتلا ہوں ۔ جبکہ میں اللہ تعالیٰ کے عذاب سے ڈرتا بھی ہوں اور جانتا ہوں کہ وہ حرام ہے۔ اسے چھوڑنے کی کوشش کرتا ہوں لیکن پھر بھی کبھی کبھی کر لیتا ہوں ۔ ایسے طریقہ کی طرف میری رہنمائی فرمائیے جس سے یہ عادت چھوٹ جائے؟ (خ۔ن۔ع۔الریاض)


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

عادت سریہ یعنی مشت زنی حرام ہے اور ماہر اطباء اس بات کا اعتراف کرتے ہیں کہ اس کے نقصانات بہت زیادہ ہیں جو انجام کار صحت کو برباد کر دیتے ہیں اور اللہ تعالیٰ اہل ایمان کے اوصاف بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں :

{وَالَّذِیْنَ ہُمْ لِفُرُوْجِہِمْ حَافِظُوْنَo اِِلَّا عَلٰی اَزْوَاجِہِمْ اَوْ مَا مَلَکَتْ اَیْمَانُہُمْ فَاِِنَّہُمْ غَیْرُ مَلُوْمِیْنَo فَمَنِ ابْتَغٰی وَرَآئَ ذٰلِکَ فَاُوْلٰٓئِکَ ہُمُ الْعَادُوْنَo} (المومنون: ۵۔۷)

’’اور جو لوگ جو اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کرنے والے ہیں مگر اپنی بیویوں سے یا (کنیزوں سے) جو ان کی ملک ہوتی ہیں کہ ان میں انہیں کوئی ملامت نہیں اور جو لوگ ان کے سوا اوروں کے طالب ہوں تو یہی لوگ حد سے آگے نکل جانے والے ہیں ۔‘‘

اور یہ عادت اس وصف کے خلاف ہے جو اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کے لیے بیان فرمائی ہے۔ گویا یہ اپنے آپ پر بھی ظلم وزیادتی کا کام ہے۔ لہٰذا اسے چھوڑنا اور اس سے بچنا واجب ہے اور اسی بات پر عمل کرنا چاہیے۔ جسے نبیﷺ نے مجرور رہنے والوں کے لیے مشروع کیا کہ وہ روزے رکھیں جبکہ آپﷺ نے فرمایا:

((یَا مَعْشَرَ الشَّبابِ! مَنِ اسْتَطَاعَ الْبَائَۃَ فَلْیَتَزَوَّجْ فَإِنَّہُ أَغَضُّ لِلْبَصَرِ وَأَحْصَنُ لِلْفَرْجِ وَمَنْ لَمْ یَسْتَطِعْ فَعَلَیْہِ بِالصَّوْمِ فَإِنَّہُ لَہُ وِجَائٌ))

’’اے نوجوانوں کے گروہ! تم میں سے جو بیوی کرنے کی طاقت رکھتا ہو، وہ شادی کر لے کیونکہ یہ نگاہ کو نیچی رکھنے اور شرمگاہ کو بدفعلی سے بچانے میں مددگار ہے اور جو شادی نہ کر سکتا ہو وہ روزہ رکھے۔ روزہ اسے خصی کر دیتا (شہوت توڑ دیتا) ہے۔‘‘

ان شاء اللہ اس علاج نبوی سے یہ گندی اور حرام عادت چھوٹ جائے گی اور جو شخص روزے کی یا اس خبیث عادت کو چھوڑنے کی طاقت نہ رکھتا ہو وہ علاج میں رہنمائی کے لیے کسی طبیب سے رابطہ کرے تو بھی ٹھیک ہے۔ کیونکہ رسول اللہﷺ کی صحیح حدیث سے ثابت ہے کہ آپﷺ نے فرمایا:

((ما انزل اللہ داء الا انزل لہ شفاء علمہ من علمہ وجھلہ من جھلہ))

’’اللہ نے کوئی ایسی بیماری نہیں اتاری جس کی شفا نازل نہ کی ہو۔ جس نے اسے جان لیا سو جان لیا اور جس نے نہ جانا وہ جاہل رہا۔‘‘

نیز فرمایا:

((عِبَادَ اللّٰہِ تَداووا، ولا تداووا بِحَرَامٍ))

’’اے اللہ کے بندو! علاج کیا کرو مگر حرام چیز سے علاج نہ کرو۔‘‘

ہم اپنے لیے، آپ کے لیے اور تمام مسلمانوں کے لیے ہر برائی سے عافیت کی دعا کرتے ہیں ۔

 

 

فتاوی بن باز رحمہ اللہ

جلداول -صفحہ 230

محدث فتویٰ


تبصرہ (0)
[Notice]: Undefined index: irsloading (cache/c62f257fe6ed43eb557019d638a0d780.php:75)