فتاویٰ جات
فتویٰ نمبر : 8
(108) نمازوں کو جمع کرنے کا حکم
شروع از بتاریخ : 18 September 2011 11:56 AM
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

سوال:  نمازوں کو جمع کرنے کے بارے میں اسلام میں کیا حکم ہے۔؟ یعنی اگر بارش ہو، راستے خراب ہوں اور موسم بھی خراب ہو تو کیا نمازیں جمع کی جا سکتی ہیں۔؟اور کیا اگر نماز با جماعت مسجد میں نہ بھی کرائی جائے تو آدمی اپنی صورتحال کو دیکھ کر نمازیں جمع کر سکتاہے۔؟


 

الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

 بارش کی صورت میں مسجد میں نمازمغرب و عشاء کو جمع کرنا جائز ہے، لیکن گھر میں یہ جمع درست نہیں ہے۔ کیونکہ اس جمع کی حکمت مشقت کو رفع کرنا ہے اور گھر میں نماز پڑھنے کی صورت میں کوئی مشقت نہیں ہے ۔لہذا جمع کا حکم بھی نہ ہو گا اور اگر کوئی شخص  مسجد میں نماز پڑھنے جاتا ہے۔ تو جماعت کے ساتھ جمع کر سکتا ہے بشرطیکہ بارش ہو۔ ایک روایت کے الفاظ ہیں:

عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ رضي الله عنهما قَالَ : جَمَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ ، وَالْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ بِالْمَدِينَةِ ، فِي غَيْرِ خَوْفٍ وَلا مَطَرٍ . قُلْتُ لابْنِ عَبَّاسٍ : لِمَ فَعَلَ ذَلِكَ ؟ قَالَ : كَيْ لا يُحْرِجَ أُمَّتَہ ۔ (صحیح مسلم، کتاب المساجد، باب الجمع بین الصلاتین فی الحضر)

 حضرت سعید بن جبیر حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے نقل کرتے ہیں کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ظہر اور عصر اور مغرب اور عشاء کو مدینہ میں بغیر کسی خوف اور بارش کے جمع فرمایا۔ سعید بن جبیر کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ آپ نے ایسا کیوں کیا؟ توا نہوں نے جواب دیا۔ تا کہ امت پر تنگی نہ ہو۔

اس روایت میں اس کا ذکر ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے بغیر خوف اور بارش کے بھی نمازوں کو جمع کیا ہے جس سے یہ اشارہ نکلتا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم بارش اور خوف میں نمازوں کو جمع فرما لیا کرتے تھے۔

 هذا ما عندي والله اعلم بالصواب

فتاویٰ علمائے حدیث

جلد 2 کتاب الصلوۃ



تبصرہ (0)
[Notice]: Undefined index: irsloading (cache/c62f257fe6ed43eb557019d638a0d780.php:75)