فتاویٰ جات: بحث اور مباحثہ
فتویٰ نمبر : 7788
سوڈانی مجلہ‘‘الرایۃ’’کاسماحۃ الشیخ سےانٹرویو
شروع از بتاریخ : 03 November 2013 10:36 AM
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

سوڈانی مجلہ‘‘الرایۃ’’کاسماحۃ الشیخ سےانٹرویو


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

سوڈانی مجلہ‘‘الرایۃ’’کاسماحۃ الشیخ سےانٹرویو

سوڈان کی جماعت اسلامک نیشنل فرنٹ کےترجمان‘‘مجلۃ الرایۃ’’نےسماحۃ الشیخ عبدالعزیزبن عبداللہ بن بازالرئیس لادارات البحوث العلمیۃوالافتاءوالدعوۃوالارشادسعودی عرب اوررابطۂ عالم اسلامی کی تاسیسی کونسل کےسربراہ سےایک انٹرویوکیاتھاجوحسب ذیل ہے:

سوال ہمارےمجلہ کےقارئین کی یہ خواہش ہےکہ وہ آپ کےذاتی حالات اورعلمی زندگی کےبارےمیں کچھ معلومات حاصل کریں؟

جواب میرانام عبدالعزیزبن عبداللہ بن عبدالرحمٰن بن محمدبن عبداللہ آل بازہے۔میری ولادت ذوالحجہ۱۳۳۰ہجری میں ریاض شہرمیں ہوئی،میں نےبچپن ہی میں اپنی تعلیم کاآغازکردیاتھاحتٰی کہ بالغ ہونےسےپہلےہی قرآن مجیدحفظ کرلیاتھا،پھرمیں نےریاض کےبہت سےعلماءسےعلوم شرعیہ وعربیہ کی تعلیم حاصل کی،جن میں شیخ محمدبن عبداللطیف آل شیخ،شیخ صالح بن عبدالعزیزآل شیخ قاضی ریاض،شیخ سعدبن حمدبن عتیق قاضی ریاض،شیخ حمدبن فارس وکیل بیت المال ریاض،خصوصاقابل ذکرہیں۔اورعلماءمکہ میں سےمیں نےشیخ سعدوقاص بخاری سے۱۳۵۵ہجری میں علم تجویدحاصل کیااورسماحۃ الشیخ محمدبن ابراہیم آل شیخ سےدس سال تک یعنی عہدۂ قضاپرفائزہونےتک مستفیدہوتارہا۔

جہاں تک میری عملی زندگی کاتعلق ہےتو۱۳۵۷ہجری سے۱۳۷۱ہجری تک چودہ سال منطقۂ خرج میں بطورقاضی فرائض سرانجام دیتارہا،پھرایجوکیشنل انسٹی ٹیوٹ اورشریعت کالج ریاض میں۱۳۸۰ہجری تک نوسال فقہ،توحیداورحدیث کی تدریس کافریضہ انجام دیا،پھر۱۳۸۱ہجری کےآغازسےدس سال تک اسلامیہ یونیورسٹی مدینہ منورہ کےچانسلرسماحۃ الشیخ العلامہ مفتی بلادسعودیہ محمدبن ابراہیم بن عبداللطیف آل شیخ رحمتہ اللہ علیہ رحمتہ واسعۃ کےنائب (وائس چانسلر) کےطورپرفرائض سرانجام دیئےاورپھر۱۳۹۰ہجری میں ان کےانتقال کےبعدمجھےاسلامی یونیورسٹی کاچانسلربنادیاگیااور۱۳۹۵ہجری تک چانسلرکےفرائج انجام دیتارہااورپھر۱۴/۱۰/۱۳۹۵ہجری کوجاری ہونےوالےایک شاہی فرمان کےذریعےمجھےاداراۃالبحوث العلمیۃوالافتاءوالدعوۃوالارشادکےالرئیس العام کےمنصب پرفائزکردیاگیااوراب تک میں اسی منصب پرکام کررہاہوں اوراللہ تعالیٰ سےدعاکرتاہوں کہ وہ میری مددفرمائےاورمزیدتوفیق بخشے۔

ان کاموں کےساتھ ساتھ مجھےاس وقت کئی علمی اوراسلامی تنظیموں کی رکنیت کاشرف بھی حاصل ہے۔مثلا (۱) رکنیت ھٔیۃ (کمیٹی) کبارالعلماءسعودی عرب (۲) مذکورہ تنظیم کی مستقل کمیٹی برائےالبحوث العلمیۃوالافتاءکی سربراہی (۳) رابطۂ عالم اسلامی کی تاسیسی کونسل کی رکنیت وسربراہی (۴) انٹرنیشنل سپریم کونسل برائےمساجدکی سربراہی (۵) اسلامی فقہی کونسل مکہ مکرمہ کی سربراہی (۶) اسلامی یونیورسٹی مدینہ منورہ کی رکنیت اور (۷) سعودی عرب کی اعلیٰ تنظیم برائےاسلامی دعوت کی رکنیت!

فتاویٰ،مقالات اورلیکچروں کےعلاوہ میری تیرہ کتابیں زیورطبع سےآراستہ ہوچکی ہیں،جن میں سےکچھ کےنام حسب ذیل ہیں:

القواءدالجليةفي المباحث الفرضية’ونقدالقوميةالعربية’توضيح المناسك المسمي التحقيق والابضاح لكثيرعن مناسك الحج والعمرةوالزيارة’وحاشيةمفيدةعلي فتح الباري وصلت فيهاالي كتاب الحج’وثلاث رسائل في الصلاةوالتحذيرمن البدع’واقامةالبراهين علي حكم من اسغاث بغيرالله اوصدق الكهنةوالعرافين’والادلةلتقليةوالحسبةعلي سكون الارض’وجريان اشمس والكارالصعودالي الكواكب

ان میں سےاکثروبیشترکتابوں کےمختلف زبانوں میں ترجمےہوچکےہیں،اللہ تعالیٰ ان کومنفعت بخش بنائےنیزہمیں اورآپ کودنیاوآخرت کی بہتری وبھلائی پرمشتمل اپنی رضااورخوشنودی کےکاموں کی توفیق بخشے۔انه سميع قريب

سوال کیا آپ کی کسی خاص فقہی مذہب سےوابستگی ہے ،فتوی اوردلائل کے لئے آپ کا طریق کار کیا ہے؟

جواب فقہ میں میر امذہب وہ ہے جو امام احمد بن حنبل رحمۃ اللہ علیہ کامذہب ہے لیکن برسبیل تقلید نہیں بلکہ ان اصولوں کی اتباع کے طور پر جنہیں انہوں نے اختیار فرمایاتھا۔اختلافی مسائل میں میرا طریق کاریہ ہے کہ میں صرف اسے ترجیح دیتا ہوں جوازروئے دلیل راجح ہو اوراسی کے مطابق فتوی دیتا ہوں خواہ وہ مذہب حنابلہ کے موافق ہویا مخالف ،کیونکہ حق اس بات کا مستحق ہے کہ اس کی اتباع کی جائے،ارشادباری تعالی ہے:

﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا أَطِيعُوا اللَّـهَ وَأَطِيعُوا الرَّ‌سُولَ وَأُولِي الْأَمْرِ‌ مِنكُمْ ۖ فَإِن تَنَازَعْتُمْ فِي شَيْءٍ فَرُ‌دُّوهُ إِلَى اللَّـهِ وَالرَّ‌سُولِ إِن كُنتُمْ تُؤْمِنُونَ بِاللَّـهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ‌ ۚ ذَٰلِكَ خَيْرٌ‌ وَأَحْسَنُ تَأْوِيلًا﴾ (النساء۴/۵۹)

‘‘اے ایمان والو!اللہ اوراس کے رسول کی فرماں برداری کرواورجو تم میں سے صاحب حکومت ہیں ان کی بھی اوراگرکسی بات میں تمھاراآپس میں اختلاف ہوجائے تواگراللہ اورروزآخرت پر ایمان رکھتے ہوتواس میں اللہ اوراس کے رسول (کے حکم) کی طرف رجوع کرو۔یہ بہت اچھی بات ہے اوراس کاانجام (نتیجہ) بھی اچھا ہے۔’’

سوال سوڈان میں اسلامک فرنٹ مختلف تحریکوں کی موجوگی میں سرگرم عمل ہے اورسوشلسٹوں اورمغرب زدہ لوگوں سےبرسرپیکار ہے ،ان مختلف تحریکوں کی موجودگی میں اس طرح کے کام کے بارے میں ہم آپ کی رائے معلوم کرنا چاہتے ہیں؟

جواب لاریب مسلمانوں کا آپس میں باطل مذاہب ،گمراہ کن تحریکوں ،عیسائی،سوشلسٹ اورملحد مشنریوں سے جنگ کے سلسلہ میں باہم دگر (ایک دوسرے کے ساتھ) تعاون بہت اہم فریضہ ہے اورجہاد فی سبیل اللہ کی عظیم ترین صورت ہے اورارشادباری تعالی ہے:

﴿وَلَا تَعَاوَنُوا عَلَى الْإِثْمِ وَالْعُدْوَانِ ۚ وَاتَّقُوا اللَّـهَ ۖ إِنَّ اللَّـهَ شَدِيدُ الْعِقَابِ﴾ (المائدۃ۲/۵)

‘‘اور (دیکھو) نیکی اورپرہیزگاری کےکاموں میں ایک دوسرےکی مددکیاکرواورگناہ اورظلم کی باتوں میں مددنہ کرواوراللہ سے ڈرتے رہو،کچھ شک نہیں کہ اللہ کا عذاب سخت ہے۔’’

اورفرمایا:

﴿ادْعُ إِلَىٰ سَبِيلِ رَ‌بِّكَ بِالْحِكْمَةِ وَالْمَوْعِظَةِ الْحَسَنَةِ ۖ وَجَادِلْهُم بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ﴾ (النحل۱۶/۱۲۵)

‘‘ (اے پیغمبر) لوگوں کو دانش اورنیک نصیحت سے اپنے پروردگار کے راستے کی طرف بلاواوربہت ہی اچھے طریقے سے ان سے بحث (مناظرہ ) کرو۔’’

نیز فرمایا:

﴿وَمَنْ أَحْسَنُ قَوْلًا مِّمَّن دَعَا إِلَى اللَّـهِ وَعَمِلَ صَالِحًا وَقَالَ إِنَّنِي مِنَ الْمُسْلِمِينَ﴾ (فصلت٤١/۳۳)

‘‘اوراس شخص سے زیادہ اچھی بات والاکون ہوسکتا ہے ،جو اللہ کی طرف بلائے اورنیک عمل کرے اورکہے کہ میں مسلمان ہوں۔’’

صحیحین میں حضرت سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺنے حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کو خیبر کے یہودیوں کی طرف بھیجا اورحکم دیا کہ انہیں اسلام کی دعوت دیں اوربتائیں کہ ان پر اللہ تعالی کے کیا حقوق واجب ہیں اس موقعہ پر آپؐ نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے یہ بھی فرمایا‘‘اللہ کی قسم !اگر آپ کی وجہ سے اللہ تعالی ایک آدمی کو بھی ہدایت عطافرمادے تویہ آپ کے لئے سرخ اونٹوں کی دولت سے بھی بہتر ہے ۔’’صحیح مسلم میں حضرت ابومسعودانصاری رضی اللہ عنہ سےروایت ہے‘‘نبی کریمﷺنے فرمایا ہے کہ جو شخص نیکی کے کسی کام کی طرف راہنمائی کرے،اسے اس نیکی کر نے والے کے برابر اجروثواب ملتا ہے’’صحیح مسلم میں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سےروایت ہےکہ نبی کریمﷺنے فرمایا‘‘تحقیق جو شخص ہدایت کی طرف دعوت دے تواسے بھی اس ہدایت پر عمل کرنے والوں کے برابراجروثواب ملے گاجب کہ عمل کرنے والوں کے اجروثواب میں بھی کوئی کمی نہیں کی جائے گی’’امام احمد اورنسائی نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سےروایت کیا ہےاورامام حاکم نے اس روایت کو صحیح قراردیا ہے کہ نبی کریمﷺنے فرمایا‘‘مشرکوں کے ساتھ اپنے مال،جان اورزبان سے جہادکرو’’اس مضمون کی اوربھی بہت سی آیات واحادیث ہیں۔ہم اللہ تعالی سے دعا کرتے ہیں کہ وہ فرنٹ کو اس بات کی توفیق بخشے جس میں حق کےلئے نصرت اورغلبہ ہو،باطل کا قلع قمع اورداعیان باطل کے لئے ذلت ورسوائی ہو!

فرنٹ کو میری یہ نصیحت بھی ہے کہ یہ اپنی صفوں کو ہر اس چیز سے پاک کرے جو اللہ تعالی کی شریعت مطہرہ کے خلاف ہو اورشریعت مطہرہ پر استقامت وثابت قدمی کے ساتھ عمل پیرا ہونے کے لئے ایک دوسرے کو ہمدردی وخیر خواہی کے جزبات کے ساتھ وصیت بھی کی جائے اوراگر کسی بات میں اختلاف ہوتواسے دورکرنے کے لئے اللہ تعالی اوراس کےرسول ﷺکی طرف رجوع کیا جائے کہ ارشادباری تعالی ہے:

﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا أَطِيعُوا اللَّـهَ وَأَطِيعُوا الرَّ‌سُولَ وَأُولِي الْأَمْرِ‌ مِنكُمْ ۖ فَإِن تَنَازَعْتُمْ فِي شَيْءٍ فَرُ‌دُّوهُ إِلَى اللَّـهِ وَالرَّ‌سُولِ إِن كُنتُمْ تُؤْمِنُونَ بِاللَّـهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ‌ ۚ ذَٰلِكَ خَيْرٌ‌ وَأَحْسَنُ تَأْوِيلًا﴾ (النساء۴/۵۹)

‘‘اے ایمان والو!اللہ اوراس کے رسول (ﷺ) کی فرماں برداری کرواورجو تم میں سے صاحب حکومت ہیں ان کی بھی اوراگرکسی بات میں تمھاراآپس میں اختلاف ہوجائے تواگراللہ اورروزآخرت پر ایمان رکھتے ہوتواس میں اللہ اوراس کے رسول (کے حکم) کی طرف رجوع کرو۔یہ بہت اچھی بات ہے اوراس کاانجام (نتیجہ) بھی اچھا ہے۔’’

نیزفرمایا:

﴿وَمَا اخْتَلَفْتُمْ فِيهِ مِن شَيْءٍ فَحُكْمُهُ إِلَى اللَّـهِ﴾ (الشوری۱۰/۴۲)

‘‘اورتم جس بات میں اختلا ف کرتے ہو،اس کا فیصلہ اللہ کی طرف سے (ہوگا) ’’

اورفرمایا:

﴿وَالْعَصْرِ‌ ﴿١﴾ إِنَّ الْإِنسَانَ لَفِي خُسْرٍ‌ ﴿٢﴾ إِلَّا الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ وَتَوَاصَوْا بِالْحَقِّ وَتَوَاصَوْا بِالصَّبْرِ‌﴾ (العصر۱۰۳/۱۔۳)

‘‘عصر کی قسم!یقینا تمام انسان نقصان میں ہیں مگر وہ لوگ جوایمان لائے اورنیک عمل کرتے رہے اورآپس میں حق (بات ) کی تلقین اورصبر کی تاکید کرتے رہے ۔’’

اس عظیم صورت میں اللہ سبحانہ وتعالی نے یہ بیان فرمایاہے کہ کامیابی ،سعادت اورخسارے سے محفوظ رہنے کے صر ف چاراسباب ہیں جو اس سورت میں مذکورہیں یعنی (۱) اللہ اوراس کے رسول پر ایمان (۲) عمل صالح (۳) ایک دوسرے کو حق کی وصیت اور (۴) ایک دوسرے کو صبر کی وصیت !

ہم اللہ تعالی سے دعا کرتے ہیں کہ وہ فرنٹ کے اراکین کو ان اخلا ق کریمانہ کی توفیق عطافرمائے،استقامت سےنوازے اورفتح مبین ،عظیم کامیابی اوربہترین انجام سے سرفرازفرمائے!

سوال ‘‘سابقہ لوگ بھی انسان تھے ،ہم بھی انسان ہیں’’یہ ایک فقہی قول ہے جس کے معنی یہ ہیں کہ سابقہ لوگوں کے سامنے ان کے دورکے مسائل تھے اورہمارے سامنے ہمارے دورکے جدید مسائل ہیں لیکن کیا خیال ہے کہ جو لوگ تجدیدفقہ کی دعوت کے خلاف ہیں،وہ اس اصولی ادب کو تسلیم نہیں کرتے؟

جواب اس عبارت میں اجمال واحتمال ہے،اگراس سے مراد یہ ہے کہ متاخرین پر بھی یہ واجب ہے کہ وہ اللہ کے دین کی نصر ت اورشریعت کی تحکیم کے بارے میں اجتہادسےکام لیں اورسلف صالحین کےعقیدہ واخلاق کی تائیدوحمایت کریں تویہ بات حق ہےکیونکہ تمام مسلمانوں پرواجب ہےکہ وہ اتباع کتاب وسنت اورہرچیزمیں ان کےمطابق عمل کےبارےمیں سلف صالح کےنقش قدم پرچلیں اورجس مسئلہ میں لوگوں میں اختلاف ہوتواس کےحل کےلئےکتاب وسنت ہی کی طرف رجوع کریں تاکہ مندرجہ ذیل ارشادات باری تعالیٰ پرعمل ہوسکے۔

﴿فَإِن تَنَازَعْتُمْ فِي شَيْءٍ فَرُ‌دُّوهُ إِلَى اللَّـهِ وَالرَّ‌سُولِ﴾ (النساء۴/۵۹)

‘‘اوراگرکسی بات (مسئلہ) میں تمھاراآپس میں اختلاف پیدا ہوجائے تواس میں اللہ اوراس کے رسول (کے حکم) کی طرف رجوع کرو۔’’

اورفرمان باری تعالی ہے:

﴿وَمَا اخْتَلَفْتُمْ فِيهِ مِن شَيْءٍ فَحُكْمُهُ إِلَى اللَّـهِ﴾ (الشوری۱۰/۴۲)

‘‘اورتم جس بات (مسئلہ) میں اختلا ف کرتے ہو،اس کا فیصلہ اللہ کی طرف سے (ہوگا) ’’

اوراگراس قول سے مراد یہ ہے کہ متاخرین دین میں ایسی تجدید کر یں جو عقیدہ واخلاق یا احکام میں سلف کے طرز عمل کے مخالف ہو تو یہ جائز نہیں کیونکہ یہ حسب ذیل ارشادباری تعالی کے خلاف ہے:

﴿وَاعْتَصِمُوا بِحَبْلِ اللَّـهِ جَمِيعًا وَلَا تَفَرَّ‌قُوا﴾ (آل عمران۳/۱۰۳)

‘‘اورسب مل کراللہ کی (ہدایت کی) رسی کو مضبوط پکڑے رہنااور،متفرق نہ ہونا’’

نیز یہ طرز عمل حسب ذیل فرمان باری تعالی کے بھی خلاف ہوگا:

﴿وَمَن يُشَاقِقِ الرَّ‌سُولَ مِن بَعْدِ مَا تَبَيَّنَ لَهُ الْهُدَىٰ وَيَتَّبِعْ غَيْرَ‌ سَبِيلِ الْمُؤْمِنِينَ نُوَلِّهِ مَا تَوَلَّىٰ وَنُصْلِهِ جَهَنَّمَ ۖ وَسَاءَتْ مَصِيرً‌ا﴾ (النساء۴/۱۲۷)

‘‘اورجو شخص سیدھا راستہ معلوم ہونے کے بعد پیغمبرکی مخالفت کرے اورمومنوں کے راستے کے سوادوسرے راستے پر چلےتوجدھر وہ چلتا ہے ،ہم اسے ادھر ہی چلنے دیں گےاور (قیامت کے دن) جہنم میں داخل کریں گے اوروہ بری جگہ ہے۔’’

سلف صالح کے نقش قدم پر چلنے والوں کی تعریف کرتے ہوئے فرمایا:

﴿وَالسَّابِقُونَ الْأَوَّلُونَ مِنَ الْمُهَاجِرِ‌ينَ وَالْأَنصَارِ‌ وَالَّذِينَ اتَّبَعُوهُم بِإِحْسَانٍ رَّ‌ضِيَ اللَّـهُ عَنْهُمْ وَرَ‌ضُوا عَنْهُ وَأَعَدَّ لَهُمْ جَنَّاتٍ تَجْرِ‌ي تَحْتَهَا الْأَنْهَارُ‌ خَالِدِينَ فِيهَا أَبَدًا ۚ ذَٰلِكَ الْفَوْزُ الْعَظِيمُ﴾ (التوبۃ ۹/١٠٠)

‘‘جن لوگوں نے سبقت کی (یعنی سب سے ) پہلے (ایمان لائے) مہاجرین میں سے بھی اورانصار میں سے بھی اورجنہوں نے نیکوکاری کے ساتھ ان کی پیروی کی ،اللہ ان سب سے خوش (راضی) ہوگیااوروہ اللہ سے خوش ہیں اوراس نے ان کے لئے باغات تیار کئے ہیں،جن ک ےنیچے نہریں بہہ رہی ہیں (اور) وہ ہمیشہ ان میں رہیں گے،یہ بہت بڑی کامیابی ہے ۔’’

جو سلف صالح کی مخالفت کرے اوران کے راستے پر نہ چلے تواس نے ان کی پیروی نہ کی تووہ ان کے ان متبعین میں شامل نہ ہوگا جن سے اللہ خوش ہے متاخرین کو اس بات کا بھی حق حاصل نہیں ہے کہ وہ اس بات کی مخالفت کریں،جس پر پہلے علماء کا اجماع ہوچکا ہو کیونکہ اجماع حق ہے اوران اصول ثلاثہ میں سے ایک ہے جن کی طرف رجو ع کرنا واجب ہےاورجن کی مخالفت کرنا ہرگز ہرگز جائز نہیں۔یہ اصول ثلاثہ ہیں

 (۱) کتاب اللہ (۲) سنت رسول اللہ اور (۳) اجماع ۔علماءجب کسی مسئلہ پر اجماع کرلیں تویہ اس طائفہ منصورہ میں شامل ہوجاتے ہیں جس کے بارے میں نبی کریمﷺنے یہ خبر دی ہے کہ وہ ہمیشہ حق پر رہے گا۔دین میں تفقہ (سمجھ بوجھ) سے کام لینااورمسلمانوں میں پیش آنے والے ایسے نئے نئے مسائل کا شرعی طریقوں کے مطابق حکل تلاش کرنا،جن کے بارے میں پہلے علماء نے کلام نہیں کیا ،یہ بھی حق ہے اوراس میں سابقہ علماء کی کوئی مخالفت بھی نہیں کیونکہ سابق ولاحق تمام علماء کی یہی وصیت ہے کہ

 کتاب وسنت پر تدبر کرکے ان سے مسائل کا استنباط کیا جائے اورپیش آنے والے نئے مسائل کا کتاب وسنت کی روشنی میں اجتہاد کرکے حل تلاش کیا جائے۔

یہ تجدید سابقہ علماء کی مخالفت نہیں ہے بلکہ یہ تجدید تو انہی کے نقش قدم پر چلنے اوران کے اصولوں پر عمل کرنے کے مترادف ہے ،اسی سلسلہ میں نبی کریمﷺکا یہ ارشادگرامی بھی ہے کہ ‘‘جس شخص کے ساتھ اللہ تعالی خیرو بھلائی کا ارادہ کرتا ہے تواسے دین میں فقاہت عطافرمادیتا ہے ’’ (متفق علیہ) نیز یہ بھی آپؐ کا ارشاد گرامی ہے ‘‘جو شخص علم حاصل کرنے کے لئے کسی راستہ پر چلے تواللہ تعالی اس کے لئے جنت کے راستہ کو آسان بنادیتا ہے ۔ (صحیح مسلم) واللہ ولی التوفیق۔

سوال داعیان دین میں بعض اوقات اختلاف بھی پیدا ہوجاتے ہیں،جن کی وجہ سے ملاقات کے بھی بہت سے مواقع ختم ہوجاتے ہیں بلکہ اس سے دین اسلام کی دعوت وتبلیغ کا عمل بھی معطل ہوجاتا ہے اوربہت سے فتنے ،اختلاف اورجھگڑوں کی بھی کئی صورتیں پیدا ہوجاتی ہیں تواس حوالہ سے دعاۃ (دعوت دینے والوں ) کے لئے آپ کے کیا ارشادات اورنصائح ہیں؟

جواب میری داعیان دین کے لئے نصیحت یہ ہے کہ وہ اخلاص کے ساتھ صرف اللہ وحدہ کے لئے کام کریں ،نیکی وتقوی کے کاموں میں ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کریں اوراپنے اختلافات ختم کرنے کے لئے کتاب وسنت کے فیصلوں پر متفق ہوجائیں تاکہ حسب ذیل ارشاد باری تعالی پر عمل پیرا ہوسکیں:

﴿فَإِن تَنَازَعْتُمْ فِي شَيْءٍ فَرُ‌دُّوهُ إِلَى اللَّـهِ وَالرَّ‌سُولِ إِن كُنتُمْ تُؤْمِنُونَ بِاللَّـهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ‌ ۚ ذَٰلِكَ خَيْرٌ‌ وَأَحْسَنُ تَأْوِيلًا﴾ (النساء۴/۵۹)

‘‘اوراگرکسی بات میں تمھاراآپس میں اختلاف پیدا ہوجائے تواگراللہ اورروزآخرت پر ایمان رکھتے ہوتواس میں اللہ اوراس کے رسول (کے حکم) کی طرف رجوع کرو۔یہ بہت اچھی بات ہے اوراس کامآل (انجام) بھی اچھا ہے۔’’

اس سے ہدف ایک ہوجائے گا ،کوششیں مجتمع ہوں گی ،حق کو نصرت حاصل ہوگی اورباطل شکست سے دوچارہوجائے گا مگر یہ سب کچھ اسی صورت میں ہوگا جب اللہ تعالی سے مددحاصل کی جائے ،توفیق طلب کرنے کے لئے صرف اورصرف اسی کی طرف توجہ کی جائے اورخواہشات کی پیروی سے اجتناب کیا جائے گا،ارشادباری تعالی ہے:

﴿فَإِن لَّمْ يَسْتَجِيبُوا لَكَ فَاعْلَمْ أَنَّمَا يَتَّبِعُونَ أَهْوَاءَهُمْ ۚ وَمَنْ أَضَلُّ مِمَّنِ اتَّبَعَ هَوَاهُ بِغَيْرِ‌ هُدًى مِّنَ اللَّـهِ﴾ (القصص۲۸/۵۰)

‘‘پھراگریہ تمھاری بات قبول نہ کریں توجان لو کہ یہ صرف اپنی خواہشوں کی پیروی کرتے ہیں اوراس سے زیادہ کون گمراہ ہوگا جو اللہ کی ہدایت کو چھوڑ کر اپنی خواہش کے پیچھے چلے ۔’’

اسی طرح اللہ تعالی نے اپنے نبی وررسول حضرت داود علیہ الصلاۃ والسلام سے مخاطب ہوتے ہوئے فرمایا:

﴿يَا دَاوُودُ إِنَّا جَعَلْنَاكَ خَلِيفَةً فِي الْأَرْ‌ضِ فَاحْكُم بَيْنَ النَّاسِ بِالْحَقِّ وَلَا تَتَّبِعِ الْهَوَىٰ فَيُضِلَّكَ عَن سَبِيلِ اللَّـهِ﴾ (ص۳۸/۲۶)

‘‘اے داود!ہم نے تم کو زمین میں بادشاہ بنایا ہے تولوگوں میں انصاف کے فیصلے کیا کرواورخواہش کی پیروی نہ کرنا کہ تمہیں اللہ کے رستے سے بھٹکادے گی۔’’

سوال عالم اسلام میں اس وقت نوجوانوں میں اسلامی بیداری کی جو تحریک ہے ،اس حوالہ سے آپ کے کیا ارشادات ہیں؟

جواب یہ بیداری ہر مسلمان کے لئے باعث مسرت ہے،اسے اسلامی تحریک یا اسلامی تجدید ونشاط کانا م بھی دیا جاسکتا ہےلہذا واجب ہے کہ اس تحریک کی حوصلہ افزائی بھی کی جائے اوراسے مکمل طورپر کتاب وسنت سے وابستگی کی طرف موڑدیا جائے اورقائدین ہوں یا کارکن انہیں غلو اورافراط سے روکا جائے کیونکہ ارشادباری تعالی ہے:

﴿يَا أَهْلَ الْكِتَابِ لَا تَغْلُوا فِي دِينِكُمْ﴾ (النساء۴/۱۷۱)

‘‘اے اہل کتاب اپنے دین (کی بات) میں حد سے نہ بڑھو۔’’

اورنبی کریمﷺکا بھی فرمان ہے کہ‘‘دین میں غلو سے بچو کیونکہ پہلے لوگوں کو دین میں غلو ہی نے تباہ وبربادکردیا تھا’’

نیز آپؐ نے یہ بھی ارشاد فرمایا ہے کہ ‘‘دین میں غلو سے کام لینے والے ہلاک ہوگئے،دین میں حد سے بڑھ جانے والےہلاک ہوگئے ،دین میں حد سے تجاوز کرنے والے تباہ وبربادہوگئے ۔’’اس تحریک سے وابستہ لوگوں کو چاہئے کہ وہ ہمیشہ اللہ تعالی کی طرف توجہ رکھیں اس سے قلوب واعمال کی اصلاح کی توفیق طلب کرتے رہیں اورحق پر ثابت قدم رہنے کی دعاکرتے رہیں،قرآن مجید کی خوب تدبر اورغوروفکر کے ساتھ تلاوت کریں اورسنت مطہرہ کے مطابق عمل کریں کہ سنت مطہرہ دین کا دوسرابڑا ماخذ بھی ہے اورکتاب اللہ کی تفسیر بھی جیسا کہ ارشاد باری تعالی ہے:

﴿وَأَنزَلْنَا إِلَيْكَ الذِّكْرَ‌ لِتُبَيِّنَ لِلنَّاسِ مَا نُزِّلَ إِلَيْهِمْ وَلَعَلَّهُمْ يَتَفَكَّرُ‌ونَ﴾ (النحل۴۴/۱۶)

‘‘اورہم نے آپ پر یہ کتاب نازل کی ہے تاکہ جو (ارشادات) لوگوں کی جانب نازل کئے گئے ہیں آپ وہ کھول کھول کربیان فرمادیں تاکہ وہ غورکریں۔’’

نیز فرمایا:

﴿وَمَا أَنزَلْنَا عَلَيْكَ الْكِتَابَ إِلَّا لِتُبَيِّنَ لَهُمُ الَّذِي اخْتَلَفُوا فِيهِ ۙ وَهُدًى وَرَ‌حْمَةً لِّقَوْمٍ يُؤْمِنُونَ﴾ (النحل ۶۴/۱۶)

‘‘اورہم نے تم پر کتاب نازل کی ہے تو اس لئے کہ جس امر میں ان لوگوں کواختلاف ہےتم اس کا فیصلہ کردواور (یہ) مومنوں کے لئے ہدایت اوررحمت ہے۔’’

اللہ تعالی کے دین کے مبلغوں پر واجب ہے کہ اس اسلامی تحریک کو غنیمت جانیں،تحریک سے وابستہ لوگوں سےتعاون کریں ،ان کے ساتھ مذاکرات کریں اوران شکوک وشبہات کے ازالہ کے لئے کوشش کریں جو بعض لوگوں کے دلوں میں جنم لیں تاکہ حسب ذیل ارشادباری تعالی پر عمل پیراہوسکیں:

﴿وَتَعَاوَنُوا عَلَى الْبِرِّ‌ وَالتَّقْوَىٰ ۖ وَلَا تَعَاوَنُوا عَلَى الْإِثْمِ وَالْعُدْوَانِ﴾ (المائدۃ۲/۵)

‘‘اور (ديكهو) نیکی اور پرہیز گاری کے کاموں میں ایک دوسرے کی مدد کیا کرو اور گناہ اور ظلم کے کاموں میں مدد نہ کیا کرو۔’’

 

سوال اس اسلامی معاشرہ کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے،جس نے ایک سال یا اس سے زیادہ مدت کے لئے اسلامی حدودکونافذ کیا مگر پھر اسلامی حدودکے بجائے خود ساختہ قوانین کو دوبارہ نافذ کردیا؟

جواب تمام مسلمانوں پر واجب ہے کہ اللہ کے بندوں پر اللہ تعالی کی شریعت کو نافذ کریں،اس پر ثابت قدم رہیں،اسی کی دعوت دیں اوراسی کی پابندی کریں،اللہ تعالی نے اپنے نبی کریمﷺسے مخاطب ہوتے ہوئے فرمایا:

﴿وَأَنِ احْكُم بَيْنَهُم بِمَا أَنزَلَ اللَّـهُ﴾ (المائدۃ۵/۴۹)

‘‘جوحکم اللہ نے نازل فرمایاہے،اسی کے مطابق ان میں فیصلہ کرنا۔’’

امت پر واجب ہے کہ وہ شریعت الہی کو نافذ کرے،ارشادباری تعالی ہے:

﴿فَلَا وَرَ‌بِّكَ لَا يُؤْمِنُونَ حَتَّىٰ يُحَكِّمُوكَ فِيمَا شَجَرَ‌ بَيْنَهُمْ ثُمَّ لَا يَجِدُوا فِي أَنفُسِهِمْ حَرَ‌جًا مِّمَّا قَضَيْتَ وَيُسَلِّمُوا تَسْلِيمًا﴾ (النساء۶۵/۴)

‘‘تیرےرب کی قسم یہ لوگ اس وقت تک ایماندار نہیں ہوسکتے یہاں تک کہ آپس کےتمام اختلافات میں آپ کو حاکم (منصف) نہ مان لیں،پھر جو فیصلے آپ ان میں کردیں ،ان سے اپنے دل میں کسی قسم کی کوئی تنگی محسوس نہ کریں اورفرمانبرداری کے ساتھ قبول کرلیں۔’’

ارشادباری تعالی ہے:

﴿أَفَحُكْمَ الْجَاهِلِيَّةِ يَبْغُونَ ۚ وَمَنْ أَحْسَنُ مِنَ اللَّـهِ حُكْمًا لِّقَوْمٍ يُوقِنُونَ﴾ (المائدۃ۵۰/۵)

‘‘کیا یہ زمانۂ جاہلیت کے حکم ( فیصلے) کے خواش مند ہیں اور جو لوگ یقین رکھتے ہیں،ان کے لئے اللہ تعالیٰ سے اچھا حکم (فیصلہ) کس کا ہے؟’’

نیز فرمایا

﴿وَمَن لَّمْ يَحْكُم بِمَا أَنزَلَ اللَّـهُ فَأُولَـٰئِكَ هُمُ الْكَافِرُ‌ونَ﴾ (المائدۃ۵/٤٤)

‘‘اورجولوگ اللہ کے نازل فرمائے ہوئے احکام کے مطابق فیصلہ نہ کریں توایسے ہی لوگ کافر ہیں۔’’

مزید فرمایا:

﴿وَمَن لَّمْ يَحْكُم بِمَا أَنزَلَ اللَّـهُ فَأُولَـٰئِكَ هُمُ الْفَاسِقُونَ﴾ (المائدۃ۵/۴۷)

‘‘اورجولوگ اللہ کے نازل فرمائے ہوئے احکام کے مطابق حکم (فیصلہ) نہ کریں توایسے لوگ نافرمان ہیں۔’’

لہذا مسلمان حکمرانوں کے لئے یہ جائز نہیں کہ وہ ان آیات کریمہ کی مخالفت کریں بلکہ ان پر واجب ہے کہ ان آیات کے مطابق عمل کریں،اپنی قوموں سے بھی ان کی پابندی کروائیں،اسی میں ان کی عزت ،سربلندی ،نصرت ،تائید ،انجام کی بہتری اوردنیا وآخرت کی سعادت وکامرانی ہے جیسا کہ ارشادباری تعالی ہے:

﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِن تَنصُرُ‌وا اللَّـهَ يَنصُرْ‌كُمْ وَيُثَبِّتْ أَقْدَامَكُمْ﴾ (محمد۷/۴۷)

‘‘اے اہل ایمان!اگر تم اللہ (کے دین) کی مددکروگےتووہ بھی تمہاری مددکرے گااورتم کو ثابت قدم رکھے گا۔’’

اورفرمایا:

﴿وَلَيَنصُرَ‌نَّ اللَّـهُ مَن يَنصُرُ‌هُ ۗ إِنَّ اللَّـهَ لَقَوِيٌّ عَزِيزٌ ﴿٤٠﴾ الَّذِينَ إِن مَّكَّنَّاهُمْ فِي الْأَرْ‌ضِ أَقَامُوا الصَّلَاةَ وَآتَوُا الزَّكَاةَ وَأَمَرُ‌وا بِالْمَعْرُ‌وفِ وَنَهَوْا عَنِ الْمُنكَرِ‌ ۗ وَلِلَّـهِ عَاقِبَةُ الْأُمُورِ‌﴾ (الحج۲۲/۴۰۔۴۱)

‘‘اورجوشخص اللہ کی مددکرتا ہے،اللہ تعالی بھی اس کی مددضرورکرےگابے شک اللہ تعالی زبردست قوت اورغلبے والا ہے،یہ وہ لوگ ہیں کہ اگر ہم ان کو ملک میں دسترس (قدرت واختیار) دیں تو نماز قائم کریں،زکوۃ اداکریں اورنیک کام کرنے کا حکم دیں اوربرے کاموں سے منع کریں اورسب کاموں کا انجام اللہ ہی کے اختیار میں ہے۔’’

اورفرمایا:

﴿وَعَدَ اللَّـهُ الَّذِينَ آمَنُوا مِنكُمْ وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ لَيَسْتَخْلِفَنَّهُمْ فِي الْأَرْ‌ضِ كَمَا اسْتَخْلَفَ الَّذِينَ مِن قَبْلِهِمْ وَلَيُمَكِّنَنَّ لَهُمْ دِينَهُمُ الَّذِي ارْ‌تَضَىٰ لَهُمْ وَلَيُبَدِّلَنَّهُم مِّن بَعْدِ خَوْفِهِمْ أَمْنًا ۚ يَعْبُدُونَنِي لَا يُشْرِ‌كُونَ بِي شَيْئًا﴾ (النور۵۵/۲۴)

‘‘جولوگ تم میں سے ایمان لائے اورنیک کام کرتے رہے،ان سے اللہ کا وعدہ ہے کہ ان کو ملک کا حاکم بنادےگاجیسا کہ ان سے پہلے لوگوں کو حاکم بنایا تھا اوران کے دین (اسلام) کوجسے اس نے ان کے لئے پسند کیا ہے ،مستحکم و پائیدارکرےگا اورخوف کےبعد ان کو امن بخشے گا،وہ میری عبادت کریں گے اورمیرے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ بنائیں گے۔’’

بلاشک وشبہ بندگان الہی کے معاملات میں اللہ تعالی کی شریعت کو نافذکرنا بھی اللہ کی مدد،امربالمعروف اورنہی عن المنکر ہے اوریہی وہ ایمان وعمل صالح ہے ،جس کے بجالانے والوں سے اللہ تعلای نے یہ وعدہ فرمایا ہے کہ انہیں خلافت اراٖضی سے نوازے گا،ان کے دین کو غلبہ عطافرمائے گااورخوف کے بعد انہیں امن بخشے گا۔ہم اللہ تعالی سے دعاکرتے ہیں کہ وہ مسلمان حکمرانوں کو توفیق بخشے کہ وہ اس کی شریعت کو نافذ کریں،اس کے مطابق فیصلے کریں،اس پر راضی ہوجائیں اورشریعت کے مخالف تمام کاموں کو ترک کردیں۔

 ( (انه ولي ذلك والقادرعليه) )

سوال قوميت كی طرف اس دعوت کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے جس کی رو سے نسل یا زبان کی طرف نسبت،دین کی طرف نسبت سےمقدم ہے؟قوميت كی طرف دعوت دینے والی جماعتوں کا دعوی یہ ہے کہ وہ دین کی دشمن نہیں ہیں ہاں البتہ دین کی نسبت قومیت کو مقدم ضرورسمجھتی ہیں توقومیت کی طر ف اس دعوت کے بارے میں آپ کی کیارائے ہے؟

جواب یہ دعوت جاہلیت ہے ،اس دعوت سے وابستہ لوگوں کی حوصلہ افزائی نہ صرف یہ کہ جائز نہیں بلکہ ضروری ہےکہ اس قسم کی دعوت کا خاتمہ کردیا جائے کیونکہ اسلامی شریعت ایسی تحریکوں کے خلاف جنگ کرنے ،ان سے نفرت دلانے،ان کے شکوک وشبہات کے ختم کردینے اوران کے باطل افکارونظریات کی تردید کے لئے آئی ہے،جس کی وجہ سے ایک طالب حقیقت کے سامنے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ صرف اورصرف اسلام ہی نے عربیت کو لغت ،ادب اورروایت کے اعتبار سے زندہ رکھا ہوا ہےلہذا اس دین کی مخالفت کے معنی عربی لغت ،ادب اورروایت کے ختم کردینے کے ہیں اس لئےدین اسلام کے دعاۃ ومبلغین پر فرض ہے کہ وہ اسلامی دعوت کو کامیابی سے ہمکنار کرنے کےلئے اس سے زیادہ جدوجہد کریں،جس قدر کہ استعمارسے مٹادینے کے لئے سرگرم عمل ہے۔

دین اسلام کے مطالعہ سے یہ بات روز روشن کی طرح واضح ہے کہ عربی یا کسی اورقومیت کی دعوت ایک باطل دعوت ،ایک بہت بڑی غلطی ،ایک بہت بڑا منکر امر،بدترین جاہلیت اوراسلام اورمسلمانوں کے خلاف ایک بہت بڑی سازش ہےاوراس کے وجوہ واسباب ہم نے اس موضوع پر اپنی مستقل کتاب‘‘نقد القومية العربية علي ضوالاسلام والواقع’’---‘‘اسلام وواقع (موجودہ حالات) کی روشنی میں عربی قومیت پر تنقید’’۔۔۔میں بیان کئے ہیں۔اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ ہم سب کواپنی رضا اورخوشنودی کے لئے کام کی توفیق عطافرمائے۔

وصلي الله علي سيدناونبينا محمد وآله واصحابه وسلم تسليما كثيرا

 

 

مقالات وفتاویٰ ابن باز

صفحہ 437

محدث فتویٰ


تبصرہ (0)
[Notice]: Undefined index: irsloading (cache/c62f257fe6ed43eb557019d638a0d780.php:75)