فتاویٰ جات: متفرقات
فتویٰ نمبر : 775
(59) سترہ کی تعریف
شروع از عبد الوحید ساجد بتاریخ : 21 May 2012 04:19 PM

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

سترہ کسے کہتے ہیں ۔ اس کی پوری تفصیل بیان فرمائیں۔؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد! 

سترہ وہ شے ہے جو نمازی نماز کے وقت اپنے آگے کھڑی کرتا ہے تاکہ کسی کے آگے سے گزرنے سے نماز میں خلل واقع نہ ہو۔اس کا اندازہ کم از کم ایک ہاتھ قدر ہے خواہ سوٹی ہو یا کوئی اورشے۔کوئی شے نہ ملے تو ایک ضعیف حدیث میں ہے کہ خط ہی کھینچے۔ نمازی کو چاہیے کہ وہ سترہ کےقریب کھڑاہو۔نیز سترہ عین ناک کی سیدھ میں نہ ہوبلکہ ذرا ساکنارے (آنکھوں کی سیدھ پر) ہونا چاہیے۔ نماز خواہ مسجد میں پڑھے یا جنگل میں پڑھے کوئی چیز سامنے ضرور کرے۔ مسجد میں ستون وغیرہ کے سامنے کھڑا ہو جائے۔جو شخص سترہ کے اندر سے گزرنا چاہے تو اسے ہاتھ سے ہٹائے۔ اگر نہ ہٹے تو دھکا دے کر ہٹائے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ نمازی کے آگے سے گزرنے والا اگر جانتا کہ آگے سے گزرنے کا کتنا گناہ ہے تو چالیس سال ایک جگہ کھڑا رہنا پسند کرتا مگر آگے سے نہ گزرتا۔ اور ایک روایت میں سو سال بھی ہے۔ اگر پتھر پھینکنے قدر دور سےگزرجائے تو کوئی حرج نہیں۔

وباللہ التوفیق

فتاویٰ اہلحدیث

کتاب الصلوۃ،سترہ کا بیان، ج2 ص114 

محدث فتویٰ



تبصرہ (0)
[Notice]: Undefined index: irsloading (cache/c62f257fe6ed43eb557019d638a0d780.php:75)