فتاویٰ جات
فتویٰ نمبر : 7688
(249) جب کسی لڑکی کا وارث رشتہ دینے سے انکار کردے۔۔۔۔۔۔۔
شروع از بتاریخ : 03 November 2013 07:49 AM
 
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

جب کوئی شخص کسی لڑکی کا رشتہ طلب کرنے کے لئے آئے لیکن لڑکی کا وارث رشتہ دینے سے انکار کردے تاکہ اس لڑکی کو شادی سے محروم رکھے تواس بارے میں اسلام کا کیا حکم ہے؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

وارثوں یہ واجب ہے کہ جب ہمسر لوگ ان سے رشتہ طلب کریں اورلڑکیا ں بھی اس رشتے پر راضی ہوں تو وارث فورا ان کی شادی کردیں نبی کریمﷺکا ارشادگرامی ہے کہ ‘‘جب ایسے لوگ تم سے رشتہ طلب کریں جن کا دین واخلاق تمہیں پسند ہو تو انہیں رشتہ دے دو،ورنہ زمین میں فتنہ اوربہت بڑا فسارونما ہوجائے گا۔’’

بچیوں کو نکاح سے اسلئے روکے رکھناجائز نہیں ہے تاکہ انکی شادی انکے اس چچازاد وغیر ہ سے کردی جائے جسے وہ پسندنہ کرتی ہوں یا مال ودولت کی کثرت کے لالچ میں انہیں شادی سے روک رکھا جائے یا اس طرح کے دیگر ایسے اغراض ومقاصد کے پیش نظر انہیں شادی سے روک رکھا جائے جن کا اللہ اوراسکے رسول ﷺنے حکم نہیں دیا۔لہذا حکمرانوں ،امراءاورقاضیوں پر بھی یہ واجب ہے کہ اس آدمی کو سمجھائیں جس نے اپنی کسی عزیزہ کو شادی سے روک رکھا ہو،وارثوں پر بھی یہ واجب ہے کہ ظلم کے خاتمہ اورعدل کے قیام کیلئے جو قریب ترین رشتہ داررشتے کا مستحق ہواسے رشتہ دے دیا جائے تاکہ نوجوان لڑکے اورلڑکیاں ان امور کے ارتکاب سے بھی بچ جائیں ،جنہیں

 اللہ تعالی نے ان پر حرام قراردیا ہے۔

ہم اللہ تعالی سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہم سب کو ہدایت اورخواہش نفس پر حق کو ترجیح دینے کی توفیق عطافرمائے۔

 

 

مقالات وفتاویٰ ابن باز

صفحہ 339

محدث فتویٰ


تبصرہ (0)
[Notice]: Undefined index: irsloading (cache/c62f257fe6ed43eb557019d638a0d780.php:75)