فتاویٰ جات
فتویٰ نمبر : 7591
کیاسونےکاقلم استعمال کرناجائزہے؟کیااس میں بھی زکوٰۃہے
شروع از بتاریخ : 02 November 2013 08:14 AM
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

مجھےسونےکےبنےہوئےکچھ قلم کچھ قلم بطورتحفہ موصول ہوئےہیں،ان کےاستعمال کےبارےمیں کیاحکم ہے؟کیاان میں زکوٰۃواجب ہے؟برائےکرم رہنمائی فرمائیں!


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

صحیح ترین بات یہ ہےکہ مردوں کےلئےسونےکےقلم استعمال کرناحرام ہےکیونکہ نبی کریمﷺکےارشادکےعموم کایہی تقاضاہےکہ‘‘سونااورریشم میری امت کی عورتوں کےلئےحلال لیکن مردوں کےلئےحرام ہے۔’’اسی طرح سونےاورریشم کےبارےمیں آپﷺکاایک فرمان یہ بھی ہےکہ‘‘یہ دونوں چیزیں میری امت کی عورتوں کےلئےحلال مگرمردوں کےلئےحرام ہیں۔’’

اب رہامسئلہ ان قلموں کی زکوٰۃکاتواگران کاوزن نصاب کےبقدرہویاان کےمالک کےپاس کطھ اورسوناہواوراس کےساتھ مل کریہنصاب کومکمل کرتےہوں اور اس پرایک سال گزرجائےتوزکوٰۃواجب ہوگی،اسی طرح اگراس شخص کےپاس چاندی یاسامان تجارت ہواوران قلموں کےمل جانےسےنصاب مکمل ہوجاتاہوتوعلماءکےصحیح قول کےمطابق اس صورت میں بھی زکوٰۃواجب ہوگی کیونکہ سونیچاندی ایک ہی چیزکےمانندہیں،اسی طرح اگراس کےپاس کرنسی نوٹ ہوں،جن سےنصاب کی تکمیل ہوجاتی ہوتواس صورت میں بھی زکوٰۃواجب ہوگی۔ ( (والله ولي التوفيق) )

 

مقالات وفتاویٰ ابن باز

صفحہ 260

محدث فتویٰ


تبصرہ (0)
[Notice]: Undefined index: irsloading (cache/c62f257fe6ed43eb557019d638a0d780.php:75)