فتاویٰ جات: متفرقات
فتویٰ نمبر : 758
(42) جان کے خطرہ کے وقت گھر میں نماز پڑھنا
شروع از عبد الوحید ساجد بتاریخ : 19 May 2012 04:41 PM

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

کسی شخص نے تنگ آکر مسجد میں زمیندار پر حملہ کر دیا۔ اس وجہ سے اب وہ مسجد میں نہیں آتا۔ گھر ہی میں جمعہ وغیرہ کی نماز پڑھ لیتا ہے۔ اس کے لئے زمین پر قبضہ کرنا اور خراج لینا حلال یا حرام ہے اور گھر میں جمعہ اور دیگر نمازیں پڑھنا جائز ہے یا ناجائز۔؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد! 

نمازوں کا گھر میں پڑھنا یہ کسی صورت جائز نہیں۔ خاص کر جمعہ تو اکیلے ہو ہی نہیں سکتا۔ پس دو صورتوں سے ایک صورت ضرور کرے یا نماز باجماعت شرعی حکم کے مطابق پڑھے یا اس جگہ سے ہجرت کرے۔ کیونکہ جہاں احکام الٰہی شرعی حکم کے مطابق نہ اداہو سکیں اس جگہ سے ہجرت فرض ہے۔

﴿إِنَّ ٱلَّذِينَ تَوَفَّىٰهُمُ ٱلۡمَلَٰٓئِكَةُ ظَالِمِيٓ أَنفُسِهِمۡ قَالُواْ فِيمَ كُنتُمۡۖ قَالُواْ كُنَّا مُسۡتَضۡعَفِينَ فِي ٱلۡأَرۡضِۚ قَالُوٓاْ أَلَمۡ تَكُنۡ أَرۡضُ ٱللَّهِ وَٰسِعَةٗ فَتُهَاجِرُواْ فِيهَاۚ﴾--سورة النساء97

’’جو لوگ اپنی جانوں پر ظلم کرنے والے ہیں جب فرشتے ان کی روح قبض کرتے ہیں تو پوچھتے ہیں، تم کس حال میں تھے؟ یہ جواب دیتے ہیں کہ ہم اپنی جگہ کمزور اور مغلوب تھے۔ فرشتے کہتے ہیں کیا اللہ تعالیٰ کی زمین کشاده نہ تھی کہ تم ہجرت کر جاتے؟‘‘

وباللہ التوفیق

فتاویٰ اہلحدیث

کتاب الطہارت،مساجد کا بیان، ج2ص24 

محدث فتویٰ



تبصرہ (0)
[Notice]: Undefined index: irsloading (cache/c62f257fe6ed43eb557019d638a0d780.php:75)