فتاویٰ جات: متفرقات
فتویٰ نمبر : 728
(933) بلوغ کے بعد جو نمازیں نہیں پڑھی گئیں ان کے اعادہ کا مسئلہ
شروع از عبد الوحید ساجد بتاریخ : 17 May 2012 10:35 AM

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

جونمازیں بلوغت کےبعد بوجہ سستی یا بے پرواہی کے رہ گئی ہیں۔اب جب کہ وہ پکا نمازی بن گیاہےتوکیا گذشتہ نمازیں پڑھی جائیں  تو کس طرح اورکس وقت۔؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد! 

بلوغ کے بعد اگرنمازیں تھوڑی ہوں جوآسانی سے ادا ہو سکتی ہوں توادا کرلی جائیں اگر زیادہ مدت کی ہوں جن کو ادا کرنا مشکل ہوتویہ ہی کافی ہے۔حیض والی کونماز اس لئے معاف ہے کہ عموما ً ہرماہ حیض آتا ہے اگرہرمہینہ میں حیض کی نمازوں  کودہرائے تومشکل ہے اس لئے شرع  نے معافی دی ہے پس اس سے تارک نماز کا حکم سمجھ لیں ۔

وباللہ التوفیق

قرآن وحدیث کی روشنی میں احکام ومسائل

جلد 01 


تبصرہ (0)
[Notice]: Undefined index: irsloading (cache/c62f257fe6ed43eb557019d638a0d780.php:75)