فتاویٰ جات: متفرقات
فتویٰ نمبر : 726
(931) بارش میں دونمازوں کاجمع کرنا
شروع از عبد الوحید ساجد بتاریخ : 17 May 2012 10:30 AM

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

بحالت بارش وغیرہ دونمازیں جمع کرکےپڑھناکتاب وسنت سےثابت ہے یانہیں؟حدیث مسلم وترمذی جس میں بلاعذرجمع بین الصلوتین ثابت ہے وہ پیش نہ کریں کیونکہ اس کےمتعلق امام ترمذیؒ نےبیان کیاہےکہ یہ حدیث علماء دین کی معمول بہ نہیں ہے۔اگرچہ سندصحیح ہے مگرعدم تعامل اہل علم اس کوکمزور کرتا ہے۔؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد! 

آپ نےمسلم اورترمذی کی حدیث میں بلاعذر جمع کرنےکالفظ بتایاہےحالانکہ اس میں باعذرکالفظ نہیں ہےبلکہ«غيرخوف ولامطر»ہےاورمسلم کی ایک روایت میں «غيرخوف ولاسفر »ہے دوسرے آپ نےعلماء دین کےمعمول بہ نہ ہونے کامطلب الٹ سمجھاہے۔اس سےدوباتیں مفہوم ہوتی ہیں ۔

اوّل یہ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نےبغیرخوف بغیربارش اوربغیرسفر کے نمازیں جمع کیں ۔

دوسری یہ کہ خوف بارش سفریہ تینوں عذرشرع میں معتبرہیں ۔کیونکہ اگرمعتبر نہ ہوتے توان کی نفی کاکچھ معنی نہیں۔

پہلی بات کامطلب عام طورپریہ لیا جاتا ہے کہ بلاعذر جمع کیں ۔اوراسی سے آپ کودھوکالگاہے کہ لفظ بلاعذرکوآپ حدیث کالفظ سمجھ گئے۔ورنہ حدیث میں یہ لفظ نہیں۔اسی(بلاعذر)سمجھنے کی بناء پرامام ترمذی ؒ کہتےہیں کہ اس حدیث پرکسی کاعمل نہیں ۔گویایہ منسوخ ہےاگریہ مطلب نہ لیں بلکہ یہ مطلب لیں کہ راوی نےصرف تین عذروں کی نفی کی ہے۔شایدان کےعلاوہ کوئی بیماری وغیرہ کا عذرہوتوپھر یہ حدیث متروک العمل نہیں۔ کیونکہ بیماری کےعذرسےبعض تابعین اورامام اسحٰق﷫ جمع کےقائل ہیں ۔چنانچہ اسی حدیث کےماتحت امام ترمذیؒ نےاس کی تصریح کی ہے۔رہی دوسری بات تواس کےلحاظ سےبھی حدیث متروک العمل نہیں۔چنانچہ امام ترمذی ؒ اس حدیث کےماتحت فرماتے ہیں ۔

حاشیہ:

اس کاناسخ یہ حدیث ہے جس کے راوی ابن عباس رضی اللہ عنہ ہیں«من جمع بين الصلوتين من غيرعذرفقداتی بابامن ابواب الکبائر۔»یعنی جو بغیرعذر معتبرکےجمع کرےوہ کبیرہ گناہوں کےدروازوں سے ایک دروازہ کوآیا۔یہ حدیث اگرچہ ضعیف ہےمگرعمل سے اس کوتقویت ہوگئی کیونکہ بلاعذرجمع کرنے کاسلف ؒ سےکوئی بھی قائل نہیں اگرقائل ہوتا توامام ترمذی ؒ بغیر خوف بغیربارش وغیرہ کے جمع کرنےکی حدیث کومتروک العمل نہ کہتے۔

 چنانچہ امام ترمذیؒ اس   حدیث کے ماتحت فرماتے ہیں :

«قال بعض اهل العلم يجمع بين الصلوٰتين فی المطروبه يقول الشافعی واحمدواسحقٰ ولم يرالشافعی للمريض ان يجمع بين الصلوتين»  (ترمذی باب ماجاء فی الجمع بین الصلوتین )

یعنی بارش میں بعض اہل علم کہتے ہیں کہ نماز جمع کی جائے اورامام شافعیؒ امام احمدؒ امام اسحقٰ  ؒ اس کےقائل ہیں۔اور امام شافعیؒ مریض کوجمع کی اجازت  نہیں  دیتے۔

جب بارش میں بعض اہل علم اورامام شافعیؒ اورامام احمدؒ وغیرہ جمع کے قائل ہیں تودوسری بات کے لحاظ سےیہ حدیث قابل عمل ہے۔اوربارش کےوقت جمع کرنے پر استدلال اس سے صحیح ہے۔اس کےعلاوہ اوردلائل بھی ہیں ۔نیل الاوطار میں  ہے :

«ولمالک فی المؤطا عن نافع ان ابن عمر اذا جمع الامراء بين المغرب والعشاء فی المطرجمع معهم وللاثرم فی سننه عن ابی سلمة بن عبدالرحمٰن انّه قال من السنّة اذا کان مطران يجمع بين المغرب والعشاء» (نيل الاوطار جلدسوم صفحه93 )

 ترجیح اسی کوہے کہ بیمار کےلئے دونمازوں کاجمع کرنا درست ہے۔

یعنی موطا امام مالک ؒ میں  نافع ؒ سےروایت ہے کہ جب امیر مغرب ،عشاء جمع کرے توابن عمر بھی انکےساتھ جمع کرتے اورابی سلمہ بن عبدالرحمٰن کہتے ہیں کہ بارش کےدن مغرب اور عشاءکے درمیان جمع کرنا سنت ہے ۔

وباللہ التوفیق

قرآن وحدیث کی روشنی میں احکام ومسائل

جلد 01 


تبصرہ (0)
[Notice]: Undefined index: irsloading (cache/c62f257fe6ed43eb557019d638a0d780.php:75)