فتاویٰ جات: متفرقات
فتویٰ نمبر : 723
(07) استماع۔ سماع۔ انصات۔ سکوت میں فرق
شروع از عبد الوحید ساجد بتاریخ : 17 May 2012 10:26 AM

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

استماع۔ اسماع۔انصات۔سکوت میں کیا فرق ہے ۔ اور ان کا حقیقی و مجازی کیا معنی ہے نیز فاستمعواکے ہوتے ہوئے انصتوا کا کیا فائدہ ہے۔؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد! 

استماع یہ ہے کہ انسان کسی چیز کو خوب اچھی طرح کان لگاکر سنے یعنی پوری توجہ اور قصد کے ساتھ اس لیے استماع اور سماع میں فرق کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

«الاول (الاستماع) يقال لما کان يقصدلانه لايکون الابالاصغاء وهوالميل والسماع يکون بقصدودونه»

            اس کے بعد سماع کی تعریف ان لفظوں میں بھی کی گئی ہے ۔«کل مايستلذالانسان من صوت طيب» مگر استماع کے لیے مستمع کا خاموش رہنا ضروری نہیں ہے۔ اور انصات کے لیے توجہ کے ساتھ سننا اور اس کے ساتھ خاموش رہنا ضروری ہے چنانچہ لغت میں ہے «نصت نصتا وانصت له سکت مستمعا لحديثه»یعنی کسی بات کو خاموش رہ کر سننا اس کا نام انصات ہے۔کفار قرآن سنتے تو شور مچاتے کہ دل پر اس کا اثر نہ پڑجائے اس لیے استمعوا کے بعد انصتوا کا اضافہ کیا گیا۔یعنی شوروغل نہ کرو ممکن ہے کہ تم پر رحمت کی جائے۔ قرآن مجیدکو سنتے ہوئے خاموش رہو۔ یعنی چپ چاپ سنوگے تو بہت ممکن ہے کہ ہدایت پاکر اللہ تعالی کی رحمت میں داخل ہوجاؤ۔ سورہ احقاف میں جنات کا ذکر کرتے ہوئے کہا گیاہے :

﴿ وَإِذۡ صَرَفۡنَآ إِلَيۡكَ نَفَرٗا مِّنَ ٱلۡجِنِّ يَسۡتَمِعُونَ ٱلۡقُرۡءَانَ فَلَمَّا حَضَرُوهُ قَالُوٓاْ أَنصِتُواْۖ﴾--سورة الاحقاف29

’’اور یاد کرو! جبکہ ہم نے جنوں کی ایک جماعت کو تیری طرف متوجہ کیا کہ وه قرآن سنیں، پس جب (نبی کے) پاس پہنچ گئے تو (ایک دوسرے سے) کہنے لگے خاموش ہو جاؤ،‘‘

اس مقام پر بھی استماع کے بعد انصات کا اضافہ ہے کہ محض استماع کا لفظ انصات کے مقصدکے واضح نہیں کرتا۔ حدیث میں آتاہے:

«واذاقلت لصاحبک يوم الجمعة انصت فقد لغوت»

یعنی امام خطبہ پڑھ رہا ہواس وقت اگر تونے اپنے ساتھی کو کہا کہ خاموش رہوتو تونے لغوحرکت کی ہے

یہاں بھی انصات کو غیرکی بات سننے کے موقعہ پر خاموش رہنے کے لیے استعمال کیا گیا ہے۔

لفظ سکوت کا وہاں استعمال ہوتاہے جہاں خوداپنی بات سے اپنے آپ خاموش رہنا ہو۔ اس لیے محاورہ میں کہا جاتاہے کہ :’’تکلم الرجل ثم سکت،، یعنی کلام کرکے خاموش ہوگیا۔’’فاذا انقطع کلامه فلم يتکلم اوا محم قلت اسکت،، یعنی بول کر چپ ہوگیا۔ اب بول نہیں سکتا منہ بندکردیا گیا۔ایسے موقع پر اس کا استعمال باب افعال سے کیا جاتاہے۔ یہی وجہ ہے کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے تکبیرکے بعد چپ ہوکر دعا افتتاح پڑھنے کو سکوت اسکات سے تعبیرکرتے ہوئے کہتے ہیں۔«کان يسکت بين التکبير وبين القرأة» پھر کہتے ہیں۔ یارسول اللہ !«اسکاتک بين التکبير والقرأة»۔ان مقاموں میں انصات کا لفظ نہیں آیا۔ لفظ انصات کے معنی سے یہ بھی معلوم ہوگیا کہ جولوگ سری نماز میں بھی قراۃ مقتدی کو اس آیت سے منع کرتے ہیں وہ اصطلاح عرب سے ناواقف ہیں۔’’کائنا من کان،، کیوکہ انصات اس سکوت کو کہتےہیں جو کسی کے کلام کو سننے کے لیے کیا جائے۔ اور سکوت کا مجازی معنی آہستہ کلام پر آتاہے۔ جیساکہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی روایت سے ابھی معلوم ہو چکا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی دعا باستر(آہستہ)کو سکوت سے تعبیر کیا ۔

وباللہ التوفیق

فتاویٰ اہلحدیث

کتاب الصلوۃ،قراءت کا بیان، ج2 ص140 

محدث فتویٰ



تبصرہ (0)
[Notice]: Undefined index: irsloading (cache/c62f257fe6ed43eb557019d638a0d780.php:75)