فتاویٰ جات: متفرقات
فتویٰ نمبر : 720
(04) اذان تولد کی اجرت
شروع از عبد الوحید ساجد بتاریخ : 17 May 2012 10:23 AM

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

تولدکے وقت جواذان کہی جاتی ہے اس پر اجرت کیسی ہے۔؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد! 

 نکاح یا اذان تولد پر اجرت یہ سلسلہ کچھ ٹھیک معلوم نہیں ہوتا کیونکہ نکاح کے ایجاب و قبول ہیں جو ہر شخص کرا سکتاہے۔ خطبہ اور تین آیتیں کسی کویاد نہ ہوں تو دیکھ کر پڑھ لی جائیں ۔ اگر دیکھ کر بھی پڑھنے والا نہ ملے تو ایجاب و قبول ہی کافی ہے۔ اس طرح اذان کے کلمات عموماً یاد ہی ہوتے ہیں۔ اس لیے اس قسم کی اجرت کے سلسلے اہل اسلام کو جاری نہ کرنے چاہئیں جو خواہ مخواہ زائد خرچ کا موجب ہوں۔ شریعت ایسی فضول رسموں کی روک تھام کے لیے ہے۔ اجراء کے لیے نہیں ۔ اس لیے خیرقرون میں ان باتوں کانام و نشان نہیں پایا جاتا حالانکہ نکاح۔ جنازہ تولد کا سلسلہ قدیم سے ہے۔

صرف اذان یا اقامت پر یا تروایح پر لینا جیسے آج کل عام رواج ہو گیا ہے یہ بالکل درست نہیں کیونکہ یہ اشیاء انسان کو اپنے کاروبار سے مانع نہیں۔ خاص کرجب ہر شخص کو حکم ہے کہ نماز باجماعت پڑھے تواکثر وقت معین پروہ مسجد میں ضرور ضرور حاضر ہوگا۔اور اذان میں یا اقامت یا تراویح وغیرہ میں بھی ایک وقت کی حاضری ہے۔ پس ان پر اجرت کسی صورت درست نہیں خاص کر جب حدیث میں ممانعت بھی وارد ہو۔

 منتتقی باب النهی عن اخذالاخرة علی الاذان میں ہے۔

«عن عثمان بن ابی العاص قال اخر ما عهد الی رسول الله صلی الله عليه وسلم ان اتخذموذنا لا ياخذ علی اذانه اجرا ۔ رواه الخمسة»

یعنی عثمان بن ابی العاص رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آخری وصیت مجھے یہ کی ہے کہ میں ایسے شخص کو موذن مقرر نہ کروں جو اذان پر اجرت لے۔

نیل الاوطار میں امام شوکانی اس پر لکھتے ہیں:

«الحديث صححه الحاكم وقال ابن المنذر ثبت ان رسول الله صلي الله عليه وسلم قال لعثمان بن ابي العاص واتخذموذنا لا ياخذ علي اذانه اجرا واخرج ابن حباب عن يحيي البكالي قال سمعت رجلا قال لابن عمر اني احبك في الله فقال له ابن عمراني لا بغضك في الله فقال سبحان الله احبك في الله وتبغضني في الله قال نعم انك تسأل علي اذانك اجرا وروي عن ابن مسعود انه قال اربع لا يوخذعليهن اجرا الاذان وقرأة القرآن المقاسم والقضاء ذكره ابن سيدالناس في شرح الترمذي وروي ابن ابي شيبة عن الضحاك انه كره ان ياخذ الموذن علي اذانه جعلا و يقول ان اعطي بغير مسئلة فلا باس وروي ايضا عن معاوية بن قرة انه كان يقال لا يوذن لك الا محتسب (الي ان قال) وقال ابن العربي لصحيح جواز اخذالاجرة علي الاذان والصلوة والقضاء وجميع الاعمال الدينية فان الخليفة ياخذ علي هذا كله وفي كل واحد منها ياخذ النائب اجرة كما ياخذ المستنيب والاصل في ذالك قوله صلي الله عليه وسلم ماتركت بعد نفقة نسائي ومؤنة عاملي فهو صدقة انتهي فقاس الموذن علي العامل وهو قياس في مصادمة النص وفتياابن عمرالتي مرت لم يخالفها احد من الصحابة كما صرح بذالك اليعمري وقد عقدابن حبان ترجمة علي الرخصة في ذالك واخرج عن ابي محذورة انه قال فالقي رسول الله صلي الله عليه وسلم الاذان فاذنت ثم اعطاني حين قضيت صرة فيها من فضة واخرجه ايضا النسائي – قال اليعمري ولا دليل فيه لوجهين الاول- ان قصة ابي محذورة اول مااسلم لانه اعطاه حين علمه الاذان وذالك قبل عثمان بن ابي العاص فحديث عثمان متاخر –الثاني انها واقعة يتطرق اليها الاحتمال واقرب الاحتمالات ان يكون من باب التاليف لحديثه عهده بالاسلام كما اعطي سلبها الاستدلال لما يبقي فيها من الاجمال انتهي وانت خبير بان هذاالحديث لايرد علي من قال ان الاجرة انما تحرم اذاكانت مشروطه لا اذا اعطيها لغير مسئلة والجمع بين الحدثين لمثل هذا احسن »(نيل الاوطار جلد اول ص :357)

یعنی اذان پر اجرت منع کی حدیث کو حاکم نے صحیح کہا ہے۔ اورابن المنذر نے کہا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ ثابت ہےکہ عثمان بن ابی العاص رضی اللہ عنہ کو فرمایا۔ایسا موذن مقررکر جواذان پراجرت نہ لے۔ اور ابن حبان نے یحی بکالی سے روایت کیاہے کہ وہ کہتے ہیں میں نے ایک شخص کو ابن عمررضی اللہ عنہ سے یہ کہتے سنا کہ میں آپ کو خدا کے لیے دوست رکھتا ہوں۔ ابن عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا میں خدا کے لیے تجھے برا جانتا  ہوں۔ اس شخص نے کہا سبحان اللہ !میں آپ کو خدا کے لیے دوست رکھتا ہوں اور آپ خدا کے لیے برا جانتے ہیں ۔ فرمایا ۔ہاں تو اذان پر اجرت مانگتاہے۔ اور ابن مسعود سے روایت ہے فرمایا  چار اشیاء میں اجرت درست نہیں ۔اذان ۔قراۃ القرآن ۔ مال غنیمت وغیرہ کی تقسیم ۔قضاء ۔

ابن سیدالناس نے شرح ترمذی میں اس کو ذکر کیا ہے اور ابن ابی شیبہ نے صخاک سے روایت کیا ہےکہ اذان پر مزدوری لینی بری ہے ۔ اور کہتے تھے کہ بغیر سوال کیے کچھ مل جائے تو ڈر نہیں۔ اور معاویہ بن قرہ سے روایت کیا ہے کہ ثواب کی نیت سے اذان دینے والا مؤذن مقرر کردوسرا نہ کر۔ ابن العربی نے کہا کہ  صحیح یہ ہے کہ اذان ،نماز قضاء اور دیگر تمام اعمال دینیہ پر اجرت جائز ہے کیونکہ خلیفہ ان تمام پر اجرت لیتاہے۔ اور ان سے ہرایک پر نائب بھی اجرت لیتا ہے ۔جیسے نائب بنانے والا (خلیفہ) لیتا ہے۔اور اصل دلیل اس کی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان ہے کہ میں نے اپنی بیویوں کے نفقہ اور اپنے عاملوں کے خرچ کے بعد جو کچھ چھوڑا ہے وہ صدقہ ہے۔ ابن العربی نے مؤذن کو عامل پر قیاس کیا ہے۔حالانکہ یہ قیاس نص کے مقابلہ میں ہے۔ اور ابن عمر کے فتوی کے بھی خلاف ہے۔ جو اوپر گزر چکا ہے۔ اس فتوے میں ابن عمررضی اللہ عنہ کا صحابہ میں کوئی مخالف نہیں۔ چنانچہ تعمیری نے اس کی تصریح کی ہے(نیز یہ قیاس مع الفاروق ہے کیونکہ عامل تو اپنے عمل کے ساتھ کوئی دوسراکام نہیں کرسکتا۔برخلاف مؤذن کے ۔نیز مؤذن اگراذان کے لیے نہ آئے تو نماز باجماعت کے لیے اس کو آنا پڑے گا تو دس منٹ پہلے آکر بھی اذان دے سکتاہے ۔ پس یہ اجرت لینے کے لیے کچھ معنی نہیں)اور ابن حبان نے اذان پر اجرت لینے کے جواز میں باب باندھا ہے اور دلیل اس پر ابومجذورہ رضی اللہ عنہ کی حدیث لائے ہیں ۔ ابو مجذورہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اذان سکھائی ۔ پس میں نے اذان کہی۔جب میں نے اذان پوری کی تو آپ نے مجھے ایک تھیلی دی جس میں کچھ چاندی تھی ۔ اور اس حدیث کو نسائی نے بھی روایت کیاہے ۔ تعمیری کہتے ہیں ابن حبان کا اس حدیث سے استدلال کرنا ٹھیک نہیں کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ابومحذورہ رضی اللہ عنہ کو تھیلی دینا عثمان بن ابی العاص کے مسلمان ہونے سے پہلے ہے ۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع کر دیا ۔ نیز یہ ایک خاص واقعہ ہے اس سے یہ ثابت نہیں ہوتا ہے کہ یہ تھیلی اذان کی اجرت دی بلکہ قریب احتمال یہ ہے کہ جیسے اور نومسلموں کو تالیف قلوب کے لیے دیا۔ اسی طرح ابومحذورہ رضی اللہ عنہ کو بھی دیا کیونکہ یہ اس وقت نئے مسلمان ہوئے تھے۔ایسے خاص واقعات سےاستدلال صحیح نہیں ہوتا۔ یعمری نے اتنا کہا ہے لیکن میں (شوکانی کہتا ہوں ) عثمان ابن ابی العاص کی حدیث اس شخص کی تردید نہیں کرتی جو کہتاہے کہ اذان پر اجرت مقرر کر کے لینی حرام ہے۔ اگر سوال کے بغیر کوئی دے دے تو جائز ہے۔اسی صورت میں اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نےابومحذورہ رضی اللہ عنہ کو تھیلی اذان پر دی ہو تو بھی عثمان ابن ابی العاص رضی اللہ عنہ کی حدیث سے کوئی مخالفت لازم نہیں آتی۔ کیونکہ ابومحذورہ رضی اللہ عنہ نے سوال نہیں کیا۔ اور یہ موافقت کی اچھی صورت ہے۔

جب اذان کی بابت اتنی تنگی ہے تو امامت تو ایک بڑا عمل ہے اس پر تنخواہ لینی یا کسی شے کا سوال کس طرح دوست ہوگا۔ اسی طرح تراویح میں قرآن سنانے پر لینا یا کچھ سوال کرنا یہ بھی جائز نہیں ہوسکتا ۔ آج کل حافظان قرآن اس بیماری میں مبتلاء ہیں۔ ماہ رمضان جو خیر وبرکت کا مہینہ ہے جس میں خدا کی رحمت کا نزول ہوتاہے۔ جو انسان کو گناہ سے اس طرح پاک کردیتاہے کہ جیسے آج ماں کے پیٹ سے پیدا ہوا ہے۔اس کو تھوڑے سے پیسوں کی طمع میں ضائع کردیتے ہیں۔ اس کے ثواب سے محروم رہتے ہیں بلکہ وعید کے مستحق ہوتے ہیں کیونکہ انہوں نے اس کو اپنی آمدکا ذریعہ بنا رکھاہے۔  اس کی خاطر دور دراز سفر کرتے ہیں اور ایسی مسجدیں تلاش کرتے ہیں جن میں زیادہ امداد کی امید ہو بلکہ بعض اسی طمع میں دو دو تین مسجدوں میں تراویح پڑھاتے ہیں۔ ایک مسجدمیں جلدی جلدی پڑھا کر دوسری مسجد میں پہنچتے ہیں تاکہ دونوں مسجدوں والے امداد کریں اور پیسے اچھے بن جائیں۔انا للہ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں:

«من تعلم علماً مما يبتغی به وجه الله لا يتعلمه الا ليصيب به عرضاً من الدنيا لم يجد عرف الجنة يعنی ريجها۔رواه احمد وابو داؤد وابن ماجة» (مشکوۃ کتاب العلم فصل 2 ص 26)

جو شخص علم دین صرف اس لیے حاصل کرتاہے کہ اس کے ذریعے کسی دنیوی فائدے کو پہنچے تو اس کا جنت میں داخل ہونا تو کجا وہ جنت کی خوشبو بھی نہیں پائے گا۔

دیکھئے کیسی سخت وعید ہے لیکن یہ لوگ پھر بھی پرواہ نہیں کرتے۔نہ دینے والوں کو خیال آتاہے کہ حافظوں کو دینا اور ان کا قرآن سننا اس سے فائدہ کیا؟ وقت بھی ضائع اور پیسے بھی برباد ۔ اناللہ

قیام اللیل میں ہے ۔ عبداللہ بن معقل تاری نے رمضان میں لوگوں کو نماز پڑھائی۔ جب عیدالفطر کا دن ہوا تو عبیداللہ بن زیاد نے ان کو پانچ سو 500 درہم بھیجے ۔ انہوں نے واپس کردیے او رفرمایا کہ ہم کتاب اللہ پر اجرت نہیں لتیے اور مصعب نے عبداللہ بن معقل بن مقرن کو رمضان میں جامع مسجد کا حکم دیا ۔ جب چاند چڑھا تو پانچ درہم ان کی خدمت میں ارسال کیے۔انہوں نے واپس کردیے اور کہا کہ میں قرآن پر اجرت نہیں لیتا اور مالک بن  دینا کہتے ہیں کہ میں ایک شخص کے پاس سے گزرا جس کو میں پہچانتا تھا اور اس کے ساتھ سپاہی تھے اور اس کو ہتھکڑی لگی تھی ۔لوگوں سے سوال کرتا تھا۔ میں نے کہا تجھے کیا ہوا؟کہا فلاں عامل نے مجھے تراویح پر مقرر کیا جب ماہ رمضان ختم ہوا س نے میرے ساتھ سلوک کیا ۔ جب وہ عامل معزول ہوگیا تو جو کچھ اس نے دیا تھا ۔ اس کا ذکر اس کے حساب کے رجسٹر میں پایا گیا۔ اس کی وجہ سے گرفتار ہوں ۔اور اس کو پورا کرنے کے لیے سوال کررہا ہوں۔مالک بن دینا کہتے ہیں کہ تو گوشت میں چوری ہوئی روٹی(یعنی اعلی کھانے )کھاتا رہا ہوگا ۔ کہا ہاں !میں اس عامل کے ساتھ گوشت میں چوری ہوئی روٹی کھاتا رہا ہوں۔ کہا  اس سے اس مصیبت میں گرفتار ہوا ہے ۔‘‘

اور حسن بصری سے سوال کیا گیا کہ اجرت پر نماز پڑھانے کا کیا حکم ہے؟ فرمایا نہ امام کی نماز ہوتی ہے نہ مقتدیوں کی ۔ اور ابن مبارک فرماتے ہیں ۔ اجرت پر نماز پڑھانے کو میں برا سمجھتا ہوں ۔ اور اس بات کا ڈرہے کہ ان (امام مقتدی سب) پر نماز کا لوٹانا واجب ہو۔اور امام احمد سے سوال کیا گیا کہ ایک امام لوگوں کو کہے کہ میں اتنے درہموں پر تمہیں رمضان میں نماز پڑھاؤں گا تو اس کا کیا حکم ہے ؟ فرمایا ایسے امام سے خدا پناہ میں رکھے ۔ اس کے پیچھے کون نماز پڑھے گا ‘‘ (قیام اللیل باب الاجر علی الامامۃ فی رمضان ص 103)

چونکہ اس بیماری میں زیادہ تر ہمارے حنفی بھائی مبتلا ہیں۔ اس لیے ہم چاہتے  ہیں کہ اس محل میں علماء دیوبند کا فتوی درج کریں شاید کسی کو خدا ہدایت کردے توہمارا بھی بھلا ہو جائے۔

29شعبان المعظم 1351ھ میں دیوبندسےرمضان المبارک کے متعلق مفید ومعتبر مسائل کے عنوان سے ایک اشتہار شائع ہوا تھا جس میں حنفی مذہب کےبہت سےمسائل تھے ان میں سے ایک یہ مسئلہ بھی تھاکہ روپیہ کی طمع میں یا اجرت مقررکرکے سنانے والے حفاظ کا کیا حکم ہے۔؟

لکھا ہے :

جوحافظ روپیہ کی طمع میں قرآن مجید سناتاہے اس سے وہ امام بہتر ہے جو الم ترکیف سے پڑھائے۔ اگر اجرت مقرر کرکے قرآن سنایا جائے تو نہ امام کوثواب ہوگا نہ مقتدیوں کو۔اس قدر جلد پڑھنا کہ حروف کٹ جائیں سخت گناہ ہے۔‘‘انتہی

تنبیہ۔ شرط کرکے یا مقرر کرکے لینا دو طرح سے ہوتاہے ایک یہ ہے کہ صراحۃً شرط کرے۔ دوم یہ کہ صراحۃً کچھ نہ کہے مگر نہ دینے کی صورت میں ناراض ہو جائے یا شکایت کرےگویا یہ ناراضگی یا شکایت ایسی ہے جیسے پہلےکہ دیا کہ میری کچھ خدمت کرنی ہوگی۔ یا میں اتنا لوں گا۔چنانچہ اکثر واعظوں اور ماہ رمضان میں حافظان قرآن کی یہی حالت ہے۔

«اللهم اجعل اعمالنا کلها صالحة واجعلها لوجهك حالصة ولا تجعل لاحد فيها شيئاً»
وباللہ التوفیق

فتاویٰ اہلحدیث

کتاب الصلوۃ،اذان کا بیان، ج2 ص107 

محدث فتویٰ



تبصرہ (0)
[Notice]: Undefined index: irsloading (cache/c62f257fe6ed43eb557019d638a0d780.php:75)