فتاویٰ جات: توحید
فتویٰ نمبر : 718
(923) توحید کی تعریف
شروع از عبد الوحید ساجد بتاریخ : 16 May 2012 02:48 PM

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

توحید کی تعریف کیا ہے اور اس کی کتنی قسمیں ہیں؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد! 

: ازروئے لغت توحید باب وَحَّدَ یُوَحِّدُ کا مصدر ہے، جس کے معنی کسی چیز کو ایک قرار دینے کے ہیں، اور توحید نفی واثبات ہی کی صورت میں وجود میں آسکتی ہے، یعنی ذات واحد کے ماسوا سے حکم کی نفی کر دی جائے اور اس کی ذات کے لیے اس حکم کا اثبات کر دیا جائے، مثلاً: ہم کہتے ہیں کہ کسی انسان کے لیے اس وقت تک توحید مکمل نہیں ہو سکتی یہاں تک کہ وہ اس بات کی شہادت دے کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں ، تو اس طرح اس نے اللہ عزوجل کی ذات پاک کے سوا ہر چیز کی الوہیت کی نفی کردی اور صرف اور صرف اللہ تعالیٰ کی ذات گرامی سے اس کے حکم کو جوڑکراس کا اثبات کر دیا کیونکہ محض نفی تو تعطیل محض ہے اور اثبات محض اس امر سے مانع نہیں کہ غیر بھی اس حکم میں شریک ہو۔ مثلاً اگر آپ یہ کہیں کہ فلاں شخص کھڑا ہے تو آپ نے اس کے لیے تو یہ ثابت کر دیا کہ وہ کھڑا ہے لیکن آپ نے یہ ثابت نہیں کیا کہ صرف وہی شخص کھڑا ہے، کیونکہ یہ ممکن ہے کہ کھڑے ہونے میں اس کے ساتھ کوئی اور بھی شریک ہو۔ اگر آپ یہ کہیں کہ کوئی بھی کھڑا نہیں ہے تو آپ نے بالکل نفی کر دی اور کسی کے لیے بھی قیام کو ثابت نہ کیا اور اگر آپ یہ کہیں کہ زید کے سوا کوئی کھڑا نہیں ہے، تو اس صورت میں آپ نے اکیلے زید ہی کے لیے قیام کو ثابت کیا ہے کیونکہ آپ نے زید کے سوا ہر ایک کے قیام کی نفی کر دی ہے۔ پس امر واقع کے اعتبار سے توحید کی یہی حقیقت ہے، یعنی توحید اس وقت تک توحید ہو ہی نہیں سکتی جب تک وہ نفی و اثبات پر مشتمل نہ ہو۔

اللہ عزوجل کی نسبت سے توحید کی تمام اقسام توحید کی اس تعریف عام میں داخل ہیں کہ ’’اللہ تعالیٰ کو ان تمام امور میں واحد قرار دیا جائے جو اس کی ذات پاک کے ساتھ خاص ہیں۔‘‘

جیسا کہ اہل علم نے ذکر کیا ہے، توحید کی درج ذیل تین اقسام ہیں:

(۱) توحید ربوبیت           (۲)توحید الوہیت     (۳)توحید اسماء وصفات۔

اہل علم نے تتبع وتحقیق اور آیات واحادیث کے مطالعے سے معلوم کیا ہے کہ توحید ان تین قسموں سے خارج نہیں ہوسکتی، اسی لئے انہوں نے توحید کی تین قسمیں ہی بیان کی ہیں:

توحید ربوبیت: یعنی اللہ سبحانہ و تعالیٰ کو خَلْق (پیدائش) مُلْک (بادشاہت) اور تدبیر میں واحد قرار دینا۔ اس کی تفصیل حسب ذیل ہے:

۱۔ خَلْق:  جہاں تک اللہ تعالیٰ کو صفت خلق کے ساتھ اللہ تعالیٰ کو یکتا ویگانہ قرار دینے کا معاملہ ہے تواس کے معنی یہ ہیں کہ صرف اور صرف اللہ تعالیٰ کی ذات ہی خالق ہے، اس کے سوا اور کوئی خالق نہیں۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے:

﴿هَلۡ مِنۡ خَٰلِقٍ غَيۡرُ ٱللَّهِ يَرۡزُقُكُم مِّنَ ٱلسَّمَآءِ وَٱلۡأَرۡضِۚ لَآ إِلَٰهَ إِلَّا هُوَۖ فَأَنَّىٰ تُؤۡفَكُونَ﴾--الفاطر:3

’’کیا اللہ کے سوا کوئی اور خالق (اور رزاق) ہے جو تم کو آسمان اور زمین سے رزق دیتا ہو؟ اس کے سوا کوئی معبود نہیں۔‘‘

اللہ تعالیٰ نے کفار کے معبودوں کے باطل ہونے کو بیان کرتے ہوئے فرمایا:

﴿أَفَمَن يَخۡلُقُ كَمَن لَّا يَخۡلُقُۚ أَفَلَا تَذَكَّرُونَ﴾--النحل:17

’’تو جو (اتنی مخلوقات) پیدا کرے، کیا وہ اس جیسا ہے جو کچھ بھی پیدا نہ کر سکے، پھر تم غور کیوں نہیں کرتے؟‘‘

بلاشبہ اللہ وحدہ ہی خالق ہے، اس نے ہر چیز کو پیدا کیااور پھر اس کا ایک اندازہ ٹھہرایا ہے۔ اس کی صفت خلق ان چیزوں کو شامل ہے، جن کو اس نے پیدا فرمایا اور ان تمام چیزوں کو بھی جنہیں اس کی مخلوق بناتی ہے، لہٰذا تقدیر کے ساتھ ایمان صرف اسی صورت میں مکمل ہو سکتا ہے کہ آپ اس بات پر بھی ایمان لائیں کہ اپنے بندوں کے افعال کا خالق بھی اللہ تعالیٰ ہی ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

﴿وَٱللَّهُ خَلَقَكُمۡ وَمَا تَعۡمَلُونَ﴾--الصافات: 96

’’تم کو اور جو اعمال تم کرتے ہو، ان کو اللہ ہی نے پیدا کیا ہے۔‘‘

اس کی وجہ یہ ہے کہ بندے کا فعل اس کی صفت ہے اور بندہ اللہ تعالیٰ کی مخلوق ہے اور جو کسی چیز کا خالق ہو وہ اس کی صفات کا بھی خالق ہوتا ہے۔ اور اس کی دوسری وجہ یہ ہے کہ بندے کا فعل اس کے پختہ ارادے اور مکمل قدرت ہی کے ساتھ وجود میں آتا ہے اور ارادہ وقدرت کو اللہ تعالیٰ ہی نے پیدا فرمایا ہے اور سبب تام کا خالق ہی مسبب کا خالق ہوتا ہے۔ اگر کہا جائے کہ اس میں تطبیق کیسے ہوگی کہ صرف اللہ تعالیٰ ہی خالق ہے جبکہ غیر اللہ کے لیے بھی تخلیق ثابت ہے، مثلاً: ارشاد باری تعالیٰ ہے:

﴿فَتَبَارَكَ ٱللَّهُ أَحۡسَنُ ٱلۡخَٰلِقِينَ﴾--المومنون:14

’’اللہ جو سب سے بہتر بنانے والا ہے، بڑا بابرکت ہے۔‘‘

اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مصوروں کے بارے میں فرمایا ہے:

«یُقَالُ لَہُمْ: اَحْیُوا مَا خَلَقْتُمْ»صحیح البخاری، البیوع، باب التجارۃ فیما یکرہ لبسہ للرجال والنسائ، ح: ۲۱۰۵، وصحیح مسلم، اللباس، باب تحریم تصویر صورۃ الحیوان… ح: (۲۱۰۶)(۹۶)۔

’’ان سے کہا جائے گا کہ جو تم نے پیدا کیا ہے، اس میں جان ڈالو۔‘‘

اس کا جواب یہ ہے کہ غیر اللہ کا پیدا کرنا اللہ تعالیٰ کے پیدا کرنے کی طرح نہیں ہے کیونکہ غیر اللہ کے لیے کسی چیز کو عدم سے وجود میں لانا یا کسی مردہ کو زندہ کر دینا ممکن نہیں ہے۔ غیر اللہ کا پیدا کرنا بس ایک چیز کی کسی حالت کو دوسری حالت میں بدل دینا ہے جب کہ وہ چیز تو اللہ تعالیٰ ہی کی پیدا کی ہوئی ہوتی ہے، مثلاً: مصور جب کوئی تصویر بناتا ہے تو وہ کوئی چیز پیدا نہیں کرتا بلکہ وہ تو زیادہ سے زیادہ یہ کام کرتا ہے کہ ایک چیز کو دوسری چیز سے بدل دیتا ہے، مثلاً: وہ مٹی کو پرندے یا اونٹ کی صورت میں بدل دیتا ہے یا وہ رنگ کے ساتھ سفید چیز کو رنگین بنا دیتا ہے جب کہ رنگ یا سیاہی کو اللہ تعالیٰ نے پیدا کیا اور سفید کاغذ کو بھی اللہ ہی نے پیدا فرمایا ہے لہٰذا اللہ تعالیٰ کی طرف تخلیق کی نسبت اور مخلوق کی طرف تخلیق کی نسبت میں یہی بنیادی فرق ہے۔ اس تفصیل سے معلوم ہوا کہ اللہ سبحانہ ہی خالق ہے اور پیدا کرنا صرف اسی کی صفت ہے۔

۲۔           مُلْک:  جہاں صفت ملک کا معاملہ ہے تو صفت ملک میں اللہ تعالیٰ کو واحد ماننے کے معنی یہ ہیں کہ اکیلا اللہ ہی ساری کائنات کا مالک ہے، جیسا کہ ارشاد باری تعالیٰ ہے:

﴿تَبَٰرَكَ ٱلَّذِي بِيَدِهِ ٱلۡمُلۡكُ وَهُوَ عَلَىٰ كُلِّ شَيۡءٖ قَدِيرٌ﴾--المك1

’’وہ اللہ جس کے ہاتھ میں بادشاہی ہے، بڑی برکت والا ہے اور وہ ہر چیز پر قادر ہے۔‘‘

اور فرمایا:

﴿قُلۡ مَنۢ بِيَدِهِۦ مَلَكُوتُ كُلِّ شَيۡءٖ وَهُوَ يُجِيرُ وَلَا يُجَارُ عَلَيۡهِ إِن كُنتُمۡ تَعۡلَمُونَ﴾--المومنون:88

’’کہہ دیجئے وہ کون ہے جس کے ہاتھ میں ہر چیز کی بادشاہی ہے اور وہ پناہ دیتا ہے اور اس کے مقابل کوئی کسی کو پناہ نہیں دے سکتا۔‘‘

مطلقاً مالک الملک صرف اللہ سبحانہ و تعالیٰ ہی کی ذات ہے جبکہ کسی غیر کی طرف ملکیت کی نسبت اضافی ہواکرتی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے بھی غیر کی طرف ملکیت کی اضافت کی ہے، جیسا کہ درج ذیل ارشاد باری تعالیٰ میں واردہوا ہے:

﴿أَوۡ مَا مَلَكۡتُم مَّفَاتِحَهُ﴾--النور: 61

’’یا ان (گھروں) سے جن کی چابیوں کے تم مالک ہو۔‘‘

اور فرمایا:

﴿إِلَّا عَلَىٰٓ أَزۡوَٰجِهِمۡ أَوۡ مَا مَلَكَتۡ أَيۡمَٰنُهُمۡ﴾--المومنون:6

’’مگر اپنی بیویوں سے یا (کنیزوں سے) جو ان کی ملکیت ہوتی ہیں۔‘‘

علاوہ ازیں اور بھی بہت سے نصوص سے غیر اللہ کی طرف ملکیت کی اضافت ثابت ہے لیکن یہ ملکیت اللہ سبحانہ و تعالیٰ کی ملکیت کی طرح نہیں کیونکہ یہ تو قاصر اور مقید ملکیت ہے اور جو قاصر ملکیت ہو وہ جامع نہیں ہوتی۔ زید کے گھر کا عمرو مالک نہیں ہو سکتا اور عمرو کے گھر کا زید مالک نہیں ہو سکتا ، پھر یہ ملکیت مقید بھی ہے، یعنی انسان اپنی ملکیت میں صرف اسی طرح کا تصرف کر سکتا ہے، جس کی اللہ نے اسے اجازت دی ہو۔ یہی وجہ ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مال ضائع کرنے سے منع فرمایا ہے اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

﴿وَلَا تُؤۡتُواْ ٱلسُّفَهَآءَ أَمۡوَٰلَكُمُ ٱلَّتِي جَعَلَ ٱللَّهُ لَكُمۡ قِيَٰمٗا﴾--النساء:5

’’اور بے عقلوں کو ان کا مال، جسے اللہ نے تم لوگوں کے لیے سبب معیشت بنایا ہے، مت دو۔‘‘

یہ بھی اس بات کی دلیل ہے کہ انسان کی ملکیت ناقص اور مقید ہے جب کہ اللہ تعالیٰ کی ملکیت تام، جامع اور مطلق ہے۔ اللہ سبحانہ و تعالیٰ جو چاہے کرے اسے کوئی پوچھ نہیں سکتا جب کہ مخلوق سے یقینا باز پرس ہوگی۔

۳۔           تدبیر: جہاں تک اللہ تعالیٰ کی صفت تدبیر کا معاملہ ہے تو اللہ عزوجل تدبیر میں بھی منفرد ہے۔ وہی اپنی مخلوق کی تدبیر اور آسمانوں اورزمین کا انتظام وانصرام کرتا ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے:

﴿أَلَا لَهُ ٱلۡخَلۡقُ وَٱلۡأَمۡرُۗ تَبَارَكَ ٱللَّهُ رَبُّ ٱلۡعَٰلَمِينَ﴾--الاعراف:54

’’دیکھو! سب مخلوق بھی اسی کی ہے اور حکم بھی اسی کا ہے، اللہ رب العالمین بڑی برکت والا ہے۔‘‘

اللہ تعالیٰ کا یہ انتظام بہت مضبوط اور مستحکم ہے کوئی چیز اس کے راستے میں حائل ہو سکتی نہ اس کی مخالفت کر سکتی ہے، جب کہ بعض مخلوقات کا انتظام، مثلاً: انسان کا اپنے اموال، اولاد اور خدام وغیرہ کا انتظام کرنا تو بہت معمولی، بہت محدود اور مقید انتظام ہے، مطلق نہیں۔ اس کی تفصیل سے ہماری یہ بات صحیح اور سچ ثابت ہوگئی کہ توحید ربوبیت یہ ہے کہ تخلیق، ملکیت اور تدبیر میں اللہ تعالیٰ کو واحد مانا جائے۔

توحید الوہیت: توحید الوہیت یہ ہے کہ عبادت کا مستحق صرف اللہ تعالیٰ ہی کو مانا جائے، یعنی انسان اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی اور کو معبود نہ بنائے کہ اس کی اسی طرح عبادت کرے اور اس کا تقرب ٹھیک اسی طرح حاصل کرے جس طرح وہ اللہ تعالیٰ کی عبادت کرتا اور اس کا تقرب حاصل کرتا ہے۔ توحید کی یہی وہ قسم ہے جس کے بارے میں وہ مشرک گمراہ ہوگئے تھے جن سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جنگ کی اور جن کے خونوں، مالوں، زمینوں اور گھروں کو مباح قرار دیا تھااور جن کی عورتوں اور اولادوں کو قیدی بنا لیا تھا۔ یہ توحید اور اس کی باقی دو نوںقسموں، توحید ربوبیت اور توحید اسماء وصفات کے ساتھ رسولوں کو بھیجا گیا اور آسمانی کتابوں کو نازل کیا گیا تھا۔ رسولوں کو اپنی قوموں کے ساتھ زیادہ مشکل توحید کی اسی قسم، توحید الوہیت کے بارے میں پیش آئی۔ انبیائے کرام علیہم السلام  نے اپنی قوموں کے سامنے اس بات کو پیش فرمایا

کہ انسان کو چاہیے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کی ذرہ برابربھی عبادت نہ کریں، نہ کسی مقرب فرشتے کی، نہ کسی نبی مرسل کی، نہ کسی ولی صالح کی اور نہ مخلوق میں سے کسی اور کی کیونکہ عبادت کے مستحق صرف اور صرف اللہ تعالیٰ کی ذات گرامی ہے۔ جو شخص توحید کی اس قسم میں خلل اندازی کا شکار ہوتووہ مشرک اور کافر ہے، خواہ وہ توحید ربوبیت اور توحید اسماء وصفات کا اقرار ہی کیوں نہ کرے۔ اگر کوئی شخص اس بات پر ایمان رکھتا ہو کہ اللہ سبحانہ و تعالیٰ ہی خالق ومالک اور تمام امور کا منتظم ہے اور اللہ تعالیٰ اپنی ذات کے شایان شان اسماء و صفات کا بھی مستحق ہے۔اس کے ساتھ ساتھ وہ غیر اللہ کی عبادت بھی کرتا ہو تو توحید ربوبیت اور توحید اسماء و صفات کا اقرار اس کے لیے کچھ فائدہ مند نہ ہوگا، یعنی کوئی بندہ توحید ربوبیت وتوحید اسماء وصفات کا تو کامل اقرار کرے اور پھر کسی قبر کے پاس جا کر اس قبر والے کی عبادت بھی کرے یا اس کا تقرب حاصل کرنے کے لیے کوئی نذر مانے تو وہ مشرک، کافر اور ابدی جہنمی ہے کیونکہ ارشاد باری تعالیٰ ہے:

﴿إِنَّهُۥ مَن يُشۡرِكۡ بِٱللَّهِ فَقَدۡ حَرَّمَ ٱللَّهُ عَلَيۡهِ ٱلۡجَنَّةَ وَمَأۡوَىٰهُ ٱلنَّارُۖ وَمَا لِلظَّٰلِمِينَ مِنۡ أَنصَارٖ﴾--المائدة:72

’’جو شخص اللہ کے ساتھ شرک کرے گا، اللہ اس پر بہت کو حرام کر دے گا اور اس کا ٹھکانا دوزخ ہے اور ظالموں کا کوئی مددگار نہیں۔‘‘

جو شخص بھی کتاب اللہ کا مطالعہ کرے گا اسے یہ بات خوب اچھی طرح معلوم ہو جائے گی کہ جن مشرکین سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جنگ کی، اور ان کے خونوں اور مالوں کو حلال قرار دیا، ان کی عورتوں اور بچوں کو قیدی بنایا اور ان کی زمینوں کو مال غنیمت بنا لیا، وہ سب اس بات کا تو اقرار کرتے تھے کہ اللہ تعالیٰ وحدہ ہی رب اور خالق ہے، اس میں انہیں ذرہ برابر شک نہ تھا لیکن اللہ کی عبادت کے ساتھ ساتھ جب انہوں نے غیر اللہ کی بھی عبادت شروع کر دی، تو وہ مشرک بن گئے اور ان کا خون اور مال مباح قرار پایا۔

توحید اسماء وصفات: توحید اسماء و صفات یہ ہے کہ اللہ سبحانہ و تعالیٰ کو ان اسماء و صفات میں بھی واحد مانا جائے جن کے ساتھ اس نے اپنی ذات پاک کو موسوم کیا اور جن کے ساتھ اس نے اپنی ذات پاک کی اپنی کتاب میں اور اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان میں وصف بیانی کی ہے۔ اور اس کا طریقہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے جن اسماء و صفات کو خود بیان فرمایا ہے، ان کو کسی تحریف، تعطیل، تکییف یا تمثیل کے بغیر اسی طرح مانا جائے جس طرح اس نے اسے خود بیان فرمایا ہے۔ جن اسماء کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے اپنی ذات پاک کو موسوم کیا ہے اور جن صفات کے ساتھ اس نے اپنے آپ کو موصوف قرار دیا ہے ان کے حقیقی ہونے اور مجازی نہ ہونے پر ایمان لانا ضروری ہے، نیز کسی تکییف و تمثیل کے بغیر ان پر ایمان لانا لازمی ہے۔ یاد رہے توحید کی قسم مذکور کے بارے میں اس امت میں سے اہل قبلہ اور اسلام کی طرف اپنی نسبت کرنے والوں میں سے بھی بہت سے گروہ گمراہ ہوگئے ہیں اور یہ گمراہ فرقے مختلف قسم کے ہیں۔

ان میں سے بعض نے نفی و تنزیہ کے بارے میں اس قدر غلو سے کام لیا کہ وہ دائرۂ اسلام سے خارج ہوگئے، بعض متوسط تھے اور ان میں سے بعض وہ تھے جو اہل سنت کے قریب رہے۔ توحید کی اس قسم کے بارے میں سلف کا طریقہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کو علیٰ وجہ الحقیقت، تحریف، تعطیل، تکییف اور تمثیل کے بغیر ان اسماء و صفات کے ساتھ موسوم وموصوف قرار دیا جائے جو اس نے خود اپنی ذات کو موصوف کیا ہے ، مثلاً: اللہ تعالیٰ نے اپنے آپ کو ’’حی‘‘ اور ’’قیوم‘‘ کے اسماء کے ساتھ موسوم کیا ہے تو جس طرح ہم پر واجب ہے کہ ہمارا یہ ایمان ہو کہ ’’حی‘‘ اللہ تعالیٰ کے اسماء میں سے ایک اسم ہے، اس طرح یہ بھی واجب ہے کہ جس صفت پر یہ اسم پاک مشتمل ہے، ہم اس پر بھی ایمان لائیں اور وہ صفت ہے حیات کاملہ کی مراد یہ ہے کہ جس سے پہلے عدم تھا نہ اس کے بعد فنا ہوگا، اسی طرح اللہ تعالیٰ نے اپنا نام ’’سمیع‘‘ بیان فرمایا ہے، لہٰذا ہم پر واجب ہے کہ ہم اس بات پر ایمان رکھیں کہ ’’سمیع‘‘  اللہ تعالیٰ کے اسمائے حسنیٰ میں سے اسم پاک ہے اور سمع اس کی صفات میں سے ایک صفت ہے اور وہ سنتا ہے۔ یہی وہ حکم ہے جو اسم و صفت کا تقاضا ہے، سمع کے بغیر ’’سمیع‘‘ ہونا یا مسموع کے ادراک کے بغیر سننا محال ہے، اسی طرح دیگر اسماء و صفات کو قیاس کریں۔

ایک اور مثال: ارشاد باری تعالیٰ ہے:

﴿وَقَالَتِ ٱلۡيَهُودُ يَدُ ٱللَّهِ مَغۡلُولَةٌۚ غُلَّتۡ أَيۡدِيهِمۡ وَلُعِنُواْ بِمَا قَالُواْۘ بَلۡ يَدَاهُ مَبۡسُوطَتَانِ يُنفِقُ كَيۡفَ يَشَآءُۚ﴾--المائدة:62

’’اور یہود کہتے ہیں کہ اللہ کا ہاتھ (گردن سے) بندھا ہوا ہے (یعنی اللہ بخیل ہے) انہیں(یہویوں) کے ہاتھ باندھے جائیں اور ایساکہنے کے سبب ان پر لعنت ہو بلکہ اس کے دونوں ہاتھ کھلے ہیں۔ وہ جس طرح (اور جتنا) چاہتا ہے خرچ کرتا ہے۔‘‘

اس آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے: ﴿بَلْ یَدَاہُ مَبْسُوْطَتَانِ﴾ ’’بلکہ اس کے دونوں ہاتھ کھلے ہیں۔‘‘ بلاشبہ اس جملہ میں اس نے اپنی ذات پاک کے لیے دو ہاتھوں کا اثبات فرمایا ہے اور ان دونوں ہاتھوں کو صفت ’’بسط‘‘ کے ساتھ موصوف قرار دیا ہے، جس کے معنی بہت زیادہ عطا کرنے کے ہیں، لہٰذا ہم پر واجب ہے کہ ہم اس بات پر ایمان رکھیں کہ اللہ تعالیٰ کے دو ہاتھ ہیں جو عطا فرمانے اور نعمتوں کے ساتھ نوازنے میں بہت کھلے ہیں۔ اسی طرح ہم پر یہ بھی واجب ہے کہ ہم اپنے دلوں میں اللہ تعالیٰ کا تصور لائیں نہ زبان سے بول کر ان پاک ہاتھوں کی کیفیت کو بیان کریں اور نہ انہیں مخلوق کے ہاتھوں کے مماثل قرار دیں، کیونکہ اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے فرمایا ہے:

﴿لَيۡسَ كَمِثۡلِهِۦ شَيۡءٞۖ وَهُوَ ٱلسَّمِيعُ ٱلۡبَصِيرُ﴾--الشوري: 11

’’اس جیسی کوئی چیز نہیں اور وہ سنتا، دیکھتا ہے۔‘‘

اور فرمایا:

﴿٣٢ قُلۡ إِنَّمَا حَرَّمَ رَبِّيَ ٱلۡفَوَٰحِشَ مَا ظَهَرَ مِنۡهَا وَمَا بَطَنَ وَٱلۡإِثۡمَ وَٱلۡبَغۡيَ بِغَيۡرِ ٱلۡحَقِّ وَأَن تُشۡرِكُواْ بِٱللَّهِ مَا لَمۡ يُنَزِّلۡ بِهِۦ سُلۡطَٰنٗا وَأَن تَقُولُواْ عَلَى ٱللَّهِ مَا لَا تَعۡلَمُونَ﴾--الاعراف: 33

’’کہہ دو میرے پروردگار نے تو بے حیائی کی باتوں کو خواہ وہ ظاہر ہوں یا پوشیدہ اور گناہ کو اور ناحق زیادتی کرنے کو حرام قراردیا ہے اور اس کو بھی کہ تم کسی کو اللہ کا شریک بناؤ جس کی اس نے کوئی سند نازل نہیں کی، نیز اس کو بھی اللہ تعالیٰ نے حرام ٹھہرایا ہے کہ تم اس کے بارے میں ایسی باتیں کہو جن کا تمہیں کچھ علم نہیں۔‘‘

اور مزید فرمایا:

﴿وَلَا تَقۡفُ مَا لَيۡسَ لَكَ بِهِۦ عِلۡمٌۚ إِنَّ ٱلسَّمۡعَ وَٱلۡبَصَرَ وَٱلۡفُؤَادَ كُلُّ أُوْلَٰٓئِكَ كَانَ عَنۡهُ مَسۡ‍ُٔولٗا﴾--الاسراء:36

’’اور (اے بندے!) جس چیز کا تجھے علم نہیں اس کے پیچھے نہ پڑ کہ کان اور آنکھ اور دل ان سب ( اعضاء وجوارح) سے ضرور باز پرس ہوگی۔‘‘

جو شخص اللہ تعالیٰ کے ان دونوں ہاتھوں کو مخلوق کے ہاتھوں کے مثل قرار دیتا ہے، وہ اس ارشاد باری تعالیٰ کی تکذیب کرتا ہے جس میں اللہ تعالیٰ نے صراحت کے ساتھ فرمادیا ہے:

﴿لَيۡسَ كَمِثۡلِهِۦ شَيۡءٞۖ﴾--الشوري: 11

’’اس جیسی کوئی چیز نہیں۔‘‘

اور وہ اس فرمان باری تعالیٰ کی نافرمانی کرتا ہے:

﴿فَلَا تَضۡرِبُواْ لِلَّهِ ٱلۡأَمۡثَالَۚ﴾--النحل:74

’’تو (اے لوگو!) تم اللہ کے بارے میں مثالیں بیان نہ کرو۔‘‘

اور جو ان دونوں ہاتھوں کی کیفیت بیان کرے اور کہے کہ ان کی ایک معین کیفیت ہے، خواہ وہ کیسی ہی کیفیت بیان کرے تو وہ اللہ تعالیٰ کے بارے میں ایک ایسی بات کہتا ہے جس کا اسے قطعاً کوئی علم نہیں ہے، نیز وہ ایک ایسی چیز کے پیچھے پڑتا ہے جسے وہ جانتا ہی نہیں ہے۔

صفات کے بارے میں ہم ایک اور مثال بیان کرتے ہیں اور وہ ہے اللہ کا اپنے عرش پر مستوی ہونا۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں سات مقامات پر اپنی صفت استواء کاتذکرہ کیا ہے کہ وہ عرش پر مستوی ہے اور ان تمام مقامات پر﴿اِسْتَوٰی عَلَی الْعَرْشِ﴾ کے الفاظ بیان کیے گئے ہیں اور جب ہم استواء کے معنی معلوم کرنے کے لیے عربی زبان کی طرف رجوع کرتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ جب استواء کا لفظ علیٰ کے ساتھ استعمال ہو تو اس کے معنی صرف ارتفاع اور بلندی کے ہوتے ہیں، لہٰذا ارشاد باری تعالیٰ: ﴿اَلرَّحْمٰنُ عَلَی الْعَرْشِ اسْتَوٰی﴾ اور اس طرح کی دیگر آیات کے معنی یہ ہوں گے کہ اس نے اپنے عرش پر ایک خاص انداز سے قرار پایا ہے جو دیگر تمام کائنات پر علو عام سے مختلف ہے اور یہ علو اللہ تعالیٰ کے لیے علی وجہ الحقیقت ثابت ہے اور وہ اپنے عرش پر اس طرح مستوی ہے جس طرح اس کی ذات پاک کے شایان شان ہے، یہ انسان کے چارپائی پر یا جانوروں پر یا کشتی پر بیٹھنے کی طرح نہیں ہے، جس کا اللہ تعالیٰ نے ان آیات میں ذکر فرمایا ہے:

﴿وَجَعَلَ لَكُم مِّنَ ٱلۡفُلۡكِ وَٱلۡأَنۡعَٰمِ مَا تَرۡكَبُونَ - لِتَسۡتَوُۥاْ عَلَىٰ ظُهُورِهِۦ ثُمَّ تَذۡكُرُواْ نِعۡمَةَ رَبِّكُمۡ إِذَا ٱسۡتَوَيۡتُمۡ عَلَيۡهِ وَتَقُولُواْ سُبۡحَٰنَ ٱلَّذِي سَخَّرَ لَنَا هَٰذَا وَمَا كُنَّا لَهُۥ مُقۡرِنِينَ - وَإِنَّآ إِلَىٰ رَبِّنَا لَمُنقَلِبُونَ﴾--الزخرف: 12-14

اور تمہارے لیے کشتیاں اور چار پائے بنائے، جن پر تم سوار ہوتے ہو، تاکہ تم ان کی پیٹھ پر چڑھ بیٹھو اور جب اس پر بیٹھ جاؤ، پھر اپنے پروردگار کے احسان کو یاد کرو اور کہو کہ وہ (ذات) پاک ہے جس نے اس کو ہمارے زیر فرمان کر دیا جبکہ ہم میں طاقت نہ تھی کہ اس کو بس میں کر لیتے اور ہم اپنے پروردگار کی طرف لوٹ کر جانے والے ہیں۔‘‘

یہ ممکن ہی نہیں کہ اللہ تعالیٰ کے عرش پر مستوی ہونے کو مخلوق کے کسی چیز پر بیٹھنے کی طرح قرار دیا جا سکے کیونکہ اللہ تعالیٰ جیسی کوئی چیز نہیں ہے۔ وہ شخص بہت بڑی غلطی کا ارتکاب کرتا ہے جو یہ کہتا ہے کہ ﴿اِسْتَوٰی عَلَی الْعَرْشِ﴾ کے معنی (اِسْتَوْلٰی عَلَی الْعَرشِ) یعنی عرش پر غالب ہونے (قبضہ پانے) کے ہیں، کیونکہ یہ تو کلمات کی وضع قطع کو اس کی اصل ہیئت اور معنی سے بدل دینا ہے اور یہ اس موقف کے بھی خلاف ہے جس پر حضرات صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اور تابعین کا اجماع تھا، نیز یہ بہت سے باطل لوازم کو بھی مستلزم ہے، لہٰذا کسی مومن کے لیے یہ ممکن ہی نہیں کہ وہ اللہ عزوجل کی نسبت ایسی بات منہ پر لائے۔ قرآن مجید بلا شک و شبہ عربی زبان میں نازل ہوا ہے جیسا کہ ارشاد باری تعالیٰ ہے:

﴿إِنَّا جَعَلۡنَٰهُ قُرۡءَٰنًا عَرَبِيّٗا لَّعَلَّكُمۡ تَعۡقِلُونَ﴾--الزخرف: 3

’’بلا شبہ ہم نے اس کو قرآن عربی بنایا ہے تاکہ تم سمجھو۔‘‘

عربی زبان میں (اِسْتَویٰ عَلٰی کَذَا) کے معنی علو و استقرار کے ہیں اور یہی معنی لفظ استویٰ کے موافق ہیں تو ﴿اِسْتَوٰی عَلَی الْعَرْشِ﴾ کے معنی یہ ہوئے کہ اس نے عرش پر قرار پکڑا، ٹھیک اس طرح جس طرح اس کی ذات پاک کے جلالت وعظمت کے شایان شان ہے، اگر ’’استواء‘‘ کی تفسیر ’’استیلاء‘‘ (غالب ہونا، جگہ پکڑنا) کے مفہوم ساتھ کی جائے، تو یہ کلمات کو ان کی جگہ سے بدل دینے کے مترادف ہوگی کیونکہ اس تفسیر کے ذریعے سے درحقیقت اس معنی کی نفی ہوجائے گی جس پر قرآن کی زبان دلالت کرتی ہے اور وہ ہے علو و استقرار اور اس کی جگہ ایک دوسرے معنی کا اثبات قراپائے گا جو بالکل باطل ہے۔

تمام سلف صالح حضرات صحابہ و تابعین کرام کا اس معنی پر اجماع ہے اور ان سے اس تفسیر کے خلاف ایک حرف بھی منقول نہیں اور اصول بھی یہی ہے کہ جب کوئی لفظ قرآن وسنت میں آیا ہو اور سلف سے اس کی کوئی ایسی تفسیر وارد نہ ہوئی ہو جو اس کے ظاہر کے خلاف ہو تو اس کے معنی یہ ہیں کہ انہوں نے اس کے ظاہر پر اسے باقی رکھا ہے اور اس کا بات کا اعتقاد رکھا ہے جس پر یہ دلالت معنی کرتا ہے۔

اگر کوئی شخص یہ کہے کہ کیا سلف سے ایسا کوئی صریح لفظ وارد ہے جس سے یہ معلوم ہو کہ انہوں نے ’’اِسْتَویٰ‘‘ کی تفسیر ’’علا‘‘ سے کی ہے؟ ہم اس کے جواب میں عرض کریں گے کہ ہاں یہ سلف سے وارد ہے اور اگر بالفرض ان سے صراحت کے ساتھ یہ وارد نہ بھی ہو تو اصول کی بات یہ ہے کہ قرآن کریم وسنت نبویہ میں جو لفظ استعمال ہوا ہو، اس کے وہی معنی ہوں گے جو عربی زبان کے تقاضے کے مطابق ہوں اور اس اصول کے مطابق سلف کے نزدیک بھی اس کے وہی معنی ہوں گے جن کا ثبوت عربی زبان کے تقاضہ کے مطابق ہو۔

’’استواء‘‘ کی ’’استیلاء‘‘ کے ساتھ تفسیر سے جو باطل باتیں لازم آتی ہیں وہ حسب ذیل ہیں:

*          اس تعبیر سے یہ بات مترشح ہوکر سامنے آتی ہے کہ آسمانوں اور زمین کی تخلیق سے قبل اللہ تعالیٰ عرش پر مستوی نہیں تھا کیونکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے:

﴿إِنَّ رَبَّكُمُ ٱللَّهُ ٱلَّذِي خَلَقَ ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلۡأَرۡضَ فِي سِتَّةِ أَيَّامٖ ثُمَّ ٱسۡتَوَىٰ عَلَى ٱلۡعَرۡشِۖ﴾--الاعراف: 54

’’بے شک تمہارا پروردگار اللہ ہی ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو چھ دن میں پیدا کیا، پھر وہ عرش پر مستوی ہوگیا۔‘‘

اس سے معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ آسمانوں اور زمین کی تخلیق سے قبل عرش پر مستوی نہیں تھا اور اس وقت بھی مستوی نہیں تھا جب اس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا فرمایا تھا۔

*           اگر ہم ’’استواء‘‘ کی ’’استیلاء‘‘ کے ساتھ تفسیر کو صحیح مان لیں تو پھر اسے بھی صحیح ماننا پڑے گا کہ اللہ تعالیٰ زمین پر مستوی ہے یا یہ کہا جائے کہ اللہ تعالیٰ اپنی مخلوقات میں سے کسی بھی چیز پر مستوی ہے، حالانکہ یہ معنی بلا شک وشبہ باطل ہے اور یہ اللہ تعالیٰ کی ذات پاک کے شایان شان نہیں ہے۔

*          یہ کلمات کو ان کی اصلی وضع قطع سے بدل دینا ہے۔

*         یہ معنی اختیار کرنا سلف صالحین رضی اللہ عنہم  کے اجماع کے خلاف ہے۔

توحید کی اس قسم یعنی توحید اسماء وصفات کے بارے میں خلاصہ کلام یہ ہے کہ ہم پر واجب یہ ہے کہ ہم اللہ تعالیٰ کے لیے صرف انہی اسماء وصفات کو ثابت کریں جن کا اس نے خود اپنی ذات پاک کے لیے اثبات فرمایا ہے یا جن کا اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے لیے اثبات فرمایا ہے اور پھر ان تمام اسماء و صفات کو تحریف، تعطیل، تکییف اور تمثیل کے بغیر علی وجہ الحقیقت اس کی ذات پاک کے لیے ثابت کریں۔

وباللہ التوفیق

قرآن وحدیث کی روشنی میں احکام ومسائل

جلد 01 


تبصرہ (0)
[Notice]: Undefined index: irsloading (cache/c62f257fe6ed43eb557019d638a0d780.php:75)