فتاویٰ جات: متفرقات
فتویٰ نمبر : 710
(175) ’’الماء من الماء ‘‘حدیث کامطلب
شروع از عبد الوحید ساجد بتاریخ : 13 May 2012 09:50 AM

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

الماء من الماء حدیث سےمعلوم ہوتاہے کہ انزال ہوتوغسل واجب ہوتاہے اگرہمبستری کے وقت انزال  نہ ہوتوغسل واجب نہیں ہوتا۔کیا اس حدیث کایہی مطلب ہے۔؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد! 

پہلے الماءسے مرادپانی ہے اوردوسرے الماء سے مرادمنی ہے ۔یعنی انزال  ہوتوغسل واجب ہے اگرانزال نہ ہوتوغسل واجب نہیں ۔ابی ابن کعب رضی اللہ عنہ نے کہاکہ شروع اسلام میں اس مسئلہ میں رخصت تھی ۔پھر یہ رخصت منسوخ ہوگئی اورغسل کاحکم دیاگیاکہ مجامعت کے وقت اگرانزا ل نہ بھی ہوتوہردوپرغسل واجب ہے۔

ابن عباس رضی اللہ عنہ نے کہاہے کہ حدیث الماء من الماء منسوخ نہیں ہے ۔بلکہ احتلام کے بارہ میں ہےیعنی کوئی شخص خواب میں محتلم ہوجائے ۔بیداری میں کپڑے یاجسم پرتری پائے توغسل واجب ہے ورنہ غسل واجب نہیں ۔

وباللہ التوفیق

فتاویٰ اہلحدیث

کتاب الطہارت، غسل کا بیان، ج1ص256 

محدث فتویٰ



تبصرہ (0)
[Notice]: Undefined index: irsloading (cache/c62f257fe6ed43eb557019d638a0d780.php:75)