فتاویٰ جات
فتویٰ نمبر : 7098
بینک اور پوسٹ آفس کا سود
شروع از بتاریخ : 07 October 2013 09:12 AM
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

سرکاری وغیرسرکاری بینکوں و پوسٹ آفس سیونگ بنیک کا سودا اہل اسلام کے لئے شرح محمدی کے مطابق جائز ہے یا نہیں ، اگر جائز ہے تو سودی رقوم کا مصرف فتوی شرعیہ کے مطابق کیا ہونا چاہیے؟  (ملک ہدایت اللہ خاںسوہدری)


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

بار ہا بتایا گیا ہے ورپیہ بغرض حفاظت ان بینکوں میں رکھا جائے تو حسب قاعدہ جو اس پرانٹرسٹ ملے بعض علما ء،  (مثلاً دیو بند ، مفتی جمیتہ العلماء دہلی مرحوم ، مفتی مسجد چینیاں لاہور وغیرہ ) جائز رکھتے ہیں جمہور علما ء نا جائز ،

 (اہلحدیث ۱۴ اپریل ۱۹۳۳؁ء)

شرفیہ :۔

بینک یا ڈاک خانے میں جو لوگ روپیہ جمع کر کے ان سے نفع لیتے ہیں یہ قطاًجائز نہیں حرام ہے اس لئے بینک والے اس روپیہ کو سود  پر چلاتے ہیں اور ان کا حساب کرکے جتنا سود میں سے ان کا حصہ نکلتا ہے دیتے ہیں اور سود حرام ہے اور بحکم وَلَا تَعَاوَنُوا۟ عَلَى ٱلْإِثْمِ وَٱلْعُدْوَ‌ٰنِ. (پ ۶ ع۵)  اگر کوئی نفع نا بھی لے تب بھی حرام ہے تعاون علی الائم ہے لہذا مفتیوں کے فتاوی مذکورہ باطل ہیں اور الظہر یرکب بنفقۃ سے باطل ہے اس لئے کہ قیاس مع الفارق ہے سواری کا جانور بلا غذا ہلاک ہو جاتا ہے بخلاف ارض زمین کے کہ بلا جو تنے کے اور عمدہ ہو جاتی ہے اور نیز زمین سے بعد استعمال قرض سے دو گنا چو گنا سے زائد حاصل ہو تا ہے اس کو محسو ب کرنا لازم ہے کمانی الحدیث مالا خطہ ہو فتاوی نذیریہ :

ازقلم خطيب الا سلام مولا نا عبد الرؤف خانصاحب رحمانی

جھنڈے نگری

تشریح :۔

 اسلام میں سود لینا ، سود دینا ، سود کے کاغذات مرتب کرنا ، اور سود کی شہادیتں دینا تک حرام ہے اور سود خوروں کی دہی پوزیشن ہے ، جو ایک زانی ، شرابی اور قمارباز کی ہوتی ہے لیکن یورپ سے جب بینک کی بیماری ہندوستان پہنچی ، تو ہم مسلمانوں نے بھی اس طرح کا خیر مقدم کیا جس طرح اور قوموں نے کیا ، ہم نے بھی دوسری غیر مسلم جماعتوں کی طرح سود کا لین دین شروع کر دیا ۔

اقبال ہمارے اس کا خزانہ نظام کے قبول کرنے پر لکھتے ہیں

چنیں دور آسمان کم دیدہ باشد            کہ جبریل امین راول خراشد

بناکر دند خوش دیر ے کہ این جا         پر ستد مومن و کا فر تراشد

کافرناسد نظریات گھڑتا ہے اور مسلما ن اس فاسد نظام زندگی کا عملاًپجاری بنتاہے اکثر علماء نے اس نظام کی مخالفت بھی کی لیکن مسلمانوں نے اپنے زعم میں کسی کی بھی پروا نہ کی اور برابر سود کا کاروبا ر کرتے رہے مگر اس میں وہی سیاسی الجھیں پیدا ہوگئیں ، جو دوسرے سیاسی مسائل میں پیدا ہوتی ہیں ، یعنی مسلمانوں میں سود دینے والے زیادہ ہیں اور لینے والے کم اس طرح مسلمانوں کا ادا کیا ہؤا سود غیر مسلموں کے پاس جانے لگا تو اسے صرف مسلمانوں تک محفوظ رکھنے لے لئے مسلم بینک قائم کیا گیا ، حالانکہ مسلم کو بنیک سے اتنی ہی ضد ہے جتنی کہ لفظ،  (شمس ) کولفظ،  (لیل)  سے لیکن ہم نے آج تک،  (شمس الیل)  کا وجود نہیں دیکھا ، اور نہ ہی قیامت تک دیکھ سکیں گے لیکن،  (مسلم بنیک) کا وجود ضرور دنیا کو دیکھا دیا جس کا واحد مقصد مسلم غرباًسے سود وصول کرکے مسلم امراء کے خزانہ میں بھرنا ہے اور اس طرح ہم نے کھلم کھلا اسلام اور سود کا ایک خود ساختہ مقد س اتحاددنیا کو کھلا دیا ، عقلی نقطہ نظر سے اور مشاورت اور تجربا ت کے لحاظ سے یہ سود لاکھوں کے لئے مرگ مفاجات ہے اقبال سے خوب لکھا ہے

سود ایک کا لاکھوں کےلئے مرگ مفاجات

ظاہر میں تجاسے حقیقیت میں جوا ہے

علامہ اقبال اس سود کو لاکھوں کے لئے مرگ مفاجات کا مرادف سمجھتے ہیں اب سنیئے ایک اور خطرہ بھی اس سلسلے میں در پیش ہے اور یہ خطرہ بھی یقینی ہے شریعت اسلام میں سود ، شراب ، زنا ، قماربازی وغیرہ کا مرتبہ بحثيت حرمت تقریباً برابر ہی ہے لیکن آج جب کہ یورپ نے سود کو عام کر دیا ، اور قانوناًاس کے لئے جواز مہیا کر دیا تو ہم نے فخر کے ساتھ ، مسلم بینک قائم کردیا اور اگر یورپ کے سرمایا  داروں نے اپنی عیا شی اور سرماداری کی افزائش کے لئے شراب نوشی ، زناکاری ، قمار بازی وغیرہ  لے لئے بھی قونونی جواز مہیا کر دیا تو مسلم شراب خانہ ، مسلم زنا خانہ ، اور مسلم قمارخانہ کے قیا م پر بھی فخر ہونے لگے لگا،  (معاذاللہ) کیونکہ ہم یورپ کی سرماداری کو قبو ل کر چکے ہیں اور اسلام کا لفظ تو ہم کو ورثہ میں مل ہی چکا ہے اور اس کے استعما ل سے ہم کو کوئی روکنے والا نہیں اکبر الہ آبادی نے ایسے ہی لوگوں لے لئے لکھا ہے

آج جو جی میں آئے آپکے وہ کام کیجئے                                 پس انجمن میں دعوی اسلام کیجئے

بہر حال مسلم بینک کا واحد مقصد مفلوک الحال غریب لوگوں کو روپیہ قرض دے کر سود ہی وصول کرنا ہے اور چونکہ ہر مسلم بینک کو بھی ایک مضبوط قانونی طاقت حاسل ہے جو غریب کاشتکاروں سے وصول کے وقت ہرممکن طریقہ اختیار کر لیتی ہے اور مفلس کاشتکار جو دانہ وانہ کو محتاج ہوتا ہے اپنی زمین ، مکان وغیرہ گرور کھ کر یا اس سود کو ادا کرتاہے بلکہ بعض اوقات تو یہ یہاں تک مجبور ہو جاتا ہے کہ وہ اپنی اولاد کو بھی گرورکھنے کے لئے تیار ہو جاتا ہے اقبال نے ایسے ہی مفلوک غریب اور مظلوم کا شتکاروں کے متعلق لکھا ہے

دہقاں ہے کسی قبر کا اگلا ہؤا مروہ                      بوسیدہ کفن جس کا ابھی زیر زمیں ہے

جان بھی گر و غیر بدن بھی گر و غیر                        افسوس کہ باقی نہ مکان ہے نہ مکین ہے

 (مصباح بابت رجب و شعبان ۱۳۸۶؁ء)                                                 

بینک کے سو د کے متلق

مولوی عبد الواحد صاحب غزنوی کا فتوی

قابل غور علمائے کرام بخدمت ایڈیٹر صاحب اہلحدیث زاد عنایت

السلام علیکم !

میں نے ایک استفاء بخدمت مولانا عبدالواحد صاحب غزنوی بھیجا تھا چونکہ جناب موصوف نے اس فتوی کے خیر مین خود لکھا ہے کہ یہ فتوی علماء کے سامنے پیش کرنا چونکہ اخبا ر اہلحدیث عموماًعلمائے اہلحدیث کی نظر سے گزرتا ہے لہذا تکلف خدمت ہوں کہ وہ براہ مہربانی اس فتو ی کو چھاپ کرنا ظرین تک پہنچا دیں،  (خاکسا محمد علی سائل )

بخدمت حضرت مولانا مولو ی عبدالواحد صاحب غزنوی ادا ام اللہ فیو ضہم

السلام علیکم !

عرض ہے کہ آج کل تجارت اور فلاحت وغیرہ میں بینکوں سے لین دین رہتاہے عرض ہے کہ ان  بینکوں میں اگر روپیہ رکھا جاوے ، تو اسکا نفع جو ملے ، وہ نفع لینا جائزہے؟

 (مفتی حکیم علی محمد ساکن ککا کڑیالہ ، ڈاک خانہ ترن تارن ، ضلع امر تسر )

الجواب :۔ بھائی جان وعلیکم السلام ورحمۃاللہ و برکاتہ ، بینکوں سے بلکل بچنا لازم ہے لاچاری سے اگر کوئی آدمی اپنی جان اور اپنے مال پر ڈر کر روپیہ بینک یا ڈاک خانہ میں رکھ لے یا حکام تنخواہ داروں کے ماہوار میں بزور کچھ مبلغ رکھے جاتے ہیں پھر دیتے وقت کچھ ذیادہ بھی دیتے ہیں نہ ہم نے ذیادہ کے واسطے روز اول دیا تھا اور نہ یہ نیت تھی،  نہ یہ عقیدنہ یہ اقرار تھااور نہ اب ان سے ہم سود طلب کرتے ہیں اگر وہ بر ضا و رغبت خود دیتے ہیں تو چشمِ سر دودل شاد ہم کیوں نہ لیں ، ہمارے امام مولوی عبدالجبار صاحب رحمۃاللہ علیہ نے فرمایا !

رسول صلی اللہ علیہ والہ وسلم کسی سے قرض لیتے تو ادا کے وقت ذیادہ دیاکرتے،  جب روز اول یہ نیت ربا نہ دیا جاوئے اس نےایک مدت تک  ہمارے روپوں کو استعمال کیا ، اب ادا کے وقت وہ اپنی مرضی سے ذیادہ دیتا ہے تو یہ کیوں ربا ہویہ بے شک حرام ربا ہے کہ بینک سے سود روپے لے کر تجارت یا دیگر معاملات کرے یا بینک میں شریک ہو کر حصہ ڈالے ۔ هذاماعندی من الجواب والله اعلم بالصوابمیں ہوں لاہوری دعا گو عبدالواحد بن عبداللہ الغزنوی عفاء اللہ عنہ،  (۱۲شععبان ۱۹۶۵؁ء)

اہلحدیث:

نفس فتوی پر جو صاحب چاہیں رائے دے سکتے ہیں  (۲۷مارچ ۱۹۶۵ء)

تعاقب بر فتوی مولوی عبدالواحد صاحب غزنوی لاہوری

اخبار اہلحدیث مجسریہ ۲۳مارچ ۶۵؁ءمیں بینک اور ڈاک خانے کے سود کے متعلق جناب مولوی عبدالواحد صاحب غزنوی کا جو فتوئے شائع ہو ا ہےوہ میرے دیکھنے میں آیا ،  میرے ناقص علم میں جناب موصوف کا یہ جواب غیر صحیح ہے اور قابل علم نہیں گو مجبوری سے بھی ان جگہوں میں روپے رکھے جائیں ۔ اور ڈاک یا بینک برضا و رغبت دیا جاتا ، اور لیا جانا جائز ہے ، مگر یہی ہد یہ اگر مد یون،  (قرض لینے والا ) اپنے دائیں،

 (جس سے قرض لیا جائے ) کو دے دے تو دائیں کے لئے اس خاص صور میں ہدیہ لینا جائز نہ ہو گا ،

لقوله عليه السلام و عنه ای عن النبی صلی الله عليه وسلم قال اذا اقترض الرجل الرجل فلاياخذهدية رواية البخاری فی تاريخه هكذا فی المنتقی مشکوة شريف مع ترغيب ترهيب۶۳۸۔

 (کنبہ محمد یعقوب اکبر ق البیاپوری العظیم ابادی )

از علامہ قاضی اطہر صاحب مبارکپوری

علماء نے لکھا ہے کہ بینک وغیرہ کا سود لے لیا جائے ، مگر اس  سے نہ خود خرچ کیا جائے،  نہ کسی عبادت نہ قربت کے کام یہ میں کیا جائے بلکہ کسی محتاج اور غریب کو دے دیا جائے اور اس کے ثواب کی امید نہ کی جائے،  (روزمانہ انقلاب ممبئی ۲فروری ۱۹۸۴؁ء)

فتاویٰ ثنائیہ

جلد 2 ص 395

محدث فتویٰ


تبصرہ (0)
[Notice]: Undefined index: irsloading (cache/c62f257fe6ed43eb557019d638a0d780.php:75)