فتاویٰ جات: متفرقات
فتویٰ نمبر : 690
(155) تنورمیں مرغی جل گئی اوراس میں پکی ہوئی روٹیوں کاحکم
شروع از عبد الوحید ساجد بتاریخ : 12 May 2012 04:38 PM

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

ہمارے گاؤں میں 14رمضان المبارک کی رات کوجب سحری کھانے کے وقت تندورگرم کیاگیاتواس میں بے خبری سے ایک مرغی جل گئی جب کہ تندورسے سخت بدبوآرہی تھی ۔روٹیاں پکائی گئی تھیں۔عوام الناس نے انہی روٹیوں سے روزہ رکھا کیایہ روٹیاں کھانی جائزتھیں یانہیں۔؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد! 

فتاوی ابن تیمیہ رحمہ اللہ جلد5،6میں اس مسئلہ کوتفصیل سے لکھاہے حاصل اس کایہ ہے کہ نجس شئے کے دھوئیں سے شئے نجس نہیں ہوتی ۔اس کی مثال ایسی ہے جیسے نمک کی کان میں گدھاپڑجائے اوروہ نمک ہوجائے تواب اس کاحکم گدھے کانہیں ہوگا۔ٹھیک اسی طرح نجس شئے کے دھوئیں کوسمجھ لیناچاہیے ۔اوراس کی تائیدمیں نجس تیل وغیرہ چراغ میں جلاناصحابہ رضی اللہ عنہم  سے منقول ہے۔  حالانکہ اس کادھوآں اندرپھیلتاہے۔ اورہرشئے پراثراندازہوتاہے اورامیریمانی رحمہ اللہ نے سبل السلام جلد2ص 3میں اس کے متعلق ایک مرفوع روایت بھی ذکرکی ہے ۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے گھی کی بابت سوال ہوا۔جس میں چوہاگرجائے ۔توفرمایااگرگھی جماہواہوتوچوہے کواورجتناگھی اس کے اردگردجمع ہواہو۔اس کوڈال دو اور اگرپگھلاہوا ہوتو اس سے چراغ جلالویاکوئی اورفائدہ اٹھالو۔طحاوی رحمہ اللہ نے کہاکہ اس حدیث کے راوی ثقہ ہیں ۔

وباللہ التوفیق

فتاویٰ اہلحدیث

کتاب الطہارت، پانی کا بیان، ج1ص243 

محدث فتویٰ



تبصرہ (0)
[Notice]: Undefined index: irsloading (cache/c62f257fe6ed43eb557019d638a0d780.php:75)