فتاویٰ جات: متفرقات
فتویٰ نمبر : 687
(152) کچایاپکا برتن نجاست سے پاک ہوسکتاہے ؟
شروع از عبد الوحید ساجد بتاریخ : 12 May 2012 04:30 PM

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

مٹی ،تانبے ،پیتل وغیرہ کے برتن کوپیشاب یاپائخانہ لگ جائے تواس کاکیاحکم ہے ۔کیادھونے مانجنے سے پاک ہوجاتاہے ۔اگرنیچے نجاست لگ جائے تواس کاکیاحکم ہے اوردرمیان لگ جائے توکیاحکم ہے ۔؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد! 

تانبے،پیتل کابرتن دھونے مانجنے سے پاک ہوجاتاہے ۔اس میں کوئی شبہ نہیں ۔صرف مٹی کے برتن میں بعض شبہ کرتے ہیں۔ جب شراب کی حرمت اتری توشراب کے مٹکے (گوں)پھوڑے گئے ۔اس سے بعض کاخیال ہے کہ کچے برتن کونجاست لگ جائے توپھوڑدیاجائے ۔کیونکہ شراب کی طرح پلیدی بھی اندرسرایت کرجاتی ہے ۔مگریہ خیال کمزورہے ۔کیونکہ شراب کے مٹکوں کاپھوڑناایساہی ہے جیسے شراب کےسرکہ بنانے کی اجازت نہیں ۔بلکہ بہادی گئی ۔یعنی اس سے مقصودشراب کی شدت حرمت کااظہارتھا۔

رہا پلیدی کی سرایت کا شبہ۔ تواس کاجواب یہ ہے کہ دھوکراچھی طرح دھوپ میں خشک کرلیاجائے۔ تواس سے اثر جاتا رہتا ہے۔ نیز ایسے مواقع پرشریعت میں تنگی نہیں ۔جیسے کپڑے سے حیض وغیرہ  کاداغ نہ اترے تومعاف ہے۔چنانچہ کتب حدیث میں موجودہے اسی طرح بدن میں مسامات کے رستے پلیدی سرایت کرجاتی ہے مگرشرع نے صرف دھونے سے طہارت کاحکم لگا دیاہے ۔ اور زمین نجس ہوجائے تواس پرصرف پانی کابہادیناہی کافی ہے ۔اکھاڑنے کاحکم نہیں ۔پس مٹی کے برتن میں بھی تنگی نہ ہونی چاہیے ۔      

وباللہ التوفیق

فتاویٰ اہلحدیث

کتاب الطہارت، پانی کا بیان، ج1ص241 

محدث فتویٰ



تبصرہ (0)
[Notice]: Undefined index: irsloading (cache/c62f257fe6ed43eb557019d638a0d780.php:75)