فتاویٰ جات: معاشرت
فتویٰ نمبر : 6859
زید سات سال سے اپنی زوجہ سے بوجہ نامردی کے علیحدہ رہا..الخ
شروع از بتاریخ : 05 September 2013 11:29 AM
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

زید سات سال سے اپنی زوجہ سے بوجہ نامردی کے علیحدہ رہا نان نفقہ سے قطعا ً بے پرواہ رہا۔  ایسی حالت میں اس کی بیوی پر شرعی طلاق ہوسکتی ہے یا نہیں؟ (شیخ فضل الدین ضلع شیخو پورہ)


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

صورت مرقومہ میں عورت فسخ نکاح کرانے کا حق رکھتی ہے۔  عدالت کے زریعے نہ کراسکے تو  پنچایت کے ذریعے کرالے۔  (فتاویٰ نزیریہ جلد 2۔ 25مارچ 1932ء)

فتاویٰ دہلی

کیا  فرماتے ہیں علماء دین شرح متین اس مسئلے میں ایک شخص نے ایک عورت سے شادی کی لیکن اسی وقت راستے  ہی سے واپس کردیا۔ اور ہم بستری کی نوبت نہیں آئی۔ اب اسی عورت کو اٹھارہ برس گھر بیٹھے گزر گئے۔ اس مرد نے نان نفقہ کچھ بھی نہیں دیا۔ ایک مرتبہ وہ عورت اپنے خاوند کے پا س گئی بھی لیکن اس کا خاوند چھپ گیا۔ اور اس کے پا س تک نہ آیا۔ اور چند عورتوں نے کہا خاوند سے کہ اس کو بلا لو لیکن اس نے کہا کہ میرا اس کا کچھ واسطہ نہیں۔

الجواب۔ بعد حمدوصلواۃ کے واضح ہوکہ حق تعالیٰ نے مرد کے زمہ ادائے حقوق نان ونفقہ وغیرہ ضروری قرار دیا ہے۔ چنانچہ فرمایا۔

فَأَمْسِكُوهُنَّ بِمَعْرُوفٍ أَوْ سَرِّحُوهُنَّ بِمَعْرُوفٍ ۚ

''یعنی خاوند کو عورت کے ساتھ دو باتوں سے ایک بات ضرور عمل میں لانا چاہیے۔  ان دو باتوں کے کے سوا تیسری بات کا شریعت میں وجود نہیں پایا جاتا۔ یا تو ادائے حقوق کے ساتھ نکاح میں رکھنا یا طلاق دے کر حسب قانون شرع جدا کرنا۔ تیسری صورت میں یعنی نہ ادائے حقوق اور نہ طلاق کسی طرح جائز نہیں۔ اس کو بطور قضیہ مفصلہ حقیقہ کے سمجھنا چاہیے۔ اس کے دو جز یعنی ادائے حقوق وطلاق نہ شرعا دونوں مجتمع ہوسکتے ہیں۔  اور نہ مرتفع ہوسکتے ہیں۔  بلکہ دونوں میں سے ایک کا پایا جانا ضرور ی ہے۔ اور صورت مسئولہ میں دونوں صورتوں میں سے ایک بھی نہیں پائی جاتی۔  ادائے حقوق اور نہ طلاق ایسی حالت میں سوائے ا س کے کہ عورت ضرور نقصان میں مبتلا ہو۔ اور اس کی زندگی خراب ہو۔ اور کیا نتیجہ ہوسکتا ہے۔  یہ امر بھی ظاہر ہے کہ عورت سے ضرر دور کرنا ضروری ہے۔

قال الله تعالي ولا تضاروهن وقال الله تعاليوَلَا تُمْسِكُوهُنَّ ضِرَارًا لِّتَعْتَدُوا ۚ

وقال الرسول صلي الله عليه وسلم لا ضرر ولا ضرار في لاسلام

اور ضرر دوور کرنے کی صورت سوائے اس کے کچھ نہیں ہوسکتی۔ کہ اس مرد ظالم کو فہمائش و تنبیہ کی جائے۔  اور طلاق مانگی جائے۔ اگر طلاق نہ دیوے تو مشورہ پنجایئت کرکے نکاح فسخ کیا جاوے۔ اور کسی مرد صالح سے اس کا نکاح کردیا جائے تاکہ کچھ خرخشہ باقی نہ رہے۔

خلاصہ یہ کہ  مظلومہ عورت مذکورہ کا نکاح فسخ کرکے کسی مرد خدا ترس سے کرنا جائز بلکہ ضروری  ہے۔اسی لئے آپنے اس شخص کے بارے میں جو کہ بیوی کے ادائے حقوق نان ونفقہ وغیرہ سے قاصر ہے یہ فیصلہ  فرمایا۔کے دونوں میں تفریق کی جائے۔جیسا کہ دارقطنی میں  مروی ہے۔پس جب آپﷺ نے اس شخص کے بارے میں جو بوجہ مجبوری ادائے حقوق سے قاصر ہے۔ تفریق کے لئے حکم صادر  فرمایا۔تو اس شخص کے لئے بطریق اولیٰ تفریق کا حکم جاری کیا جاوے گا۔ جو کہ محض شرارت اور ایذا رسانی کی غرض سے حقوق ادا نہیں کرتا۔کمالا یخفی علی من طبع سلیم فھم مستقید فقط وواللہ اعلم۔حررہ عبد الجبار عمر پوری کان اللہ لہ۔

 

فتاویٰ  ثنائیہ

جلد 2 ص 191

محدث فتویٰ


تبصرہ (0)
[Notice]: Undefined index: irsloading (cache/c62f257fe6ed43eb557019d638a0d780.php:75)