فتاویٰ جات: متفرقات
فتویٰ نمبر : 684
(149) شراب اور خون کی مکس دوائی
شروع از عبد الوحید ساجد بتاریخ : 12 May 2012 04:25 PM

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

ایک شخص سم الفار یا شنگرف مارناچاہتاہے۔ اس میں شراب ڈال کریاخرگوش کاخون ڈال کرکھرل کیا جاتا ہے۔ پھراس کوآگ دی جاتی ہے یاجوہرلیاجاتاہے کیاوہ دوائی کھائی جاسکتی ہے۔؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد! 

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے شراب کےسرکہ بنانے سے منع فرمایاہے ۔اس سے معلوم ہوتاہے کہ شراب سے کشتہ مارناجائزنہیں ۔ خواہ کشتہ تیارہونے کے بعدنشہ رہے یانہ رہے ۔رہی یہ بات کہ کوئی اس جرم کاارتکاب کرے اورکشتہ تیارہونے کے بعدنشہ کا نام ونشان نہ رہے ۔تواس صورت میں یہ کشتہ استعمال کرناجائز ہےورنہ اس کاحکم شراب سے تیارکردہ سرکہ کاہے۔ اس کےمتعلق علماء مختلف ہیں ۔احتیاط اسی میں ہے کہ استعمال نہ کرے۔کیونکہ اختلاف سےنکل جانابہترہے اورخون نجس سے جوکشتہ تیارہوگا۔اس کاکھاناکسی صورت جائزنہیں کیونکہ خون نجس کااثرکچھ نہ کچھ دواء میں رہتاہے ۔پس وہ بالکل ناجائز ہے ۔

وباللہ التوفیق

فتاویٰ اہلحدیث

کتاب الطہارت، پانی کا بیان، ج1ص239 

محدث فتویٰ



تبصرہ (0)
[Notice]: Undefined index: irsloading (cache/c62f257fe6ed43eb557019d638a0d780.php:75)