فتاویٰ جات: متفرقات
فتویٰ نمبر : 683
(148) مچھلی اورنمک وغیرہ شراب میں ڈال کرسرکہ بنانا
شروع از عبد الوحید ساجد بتاریخ : 12 May 2012 04:19 PM

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

نینان خمری یعنی (شراب والی مچھلیوں )کی حلت جوحضرت ابوالدرداء صحابی سے امام بخاری نے نقل کی ہے۔اس سے شراب کے سرکہ بنانے پراستدلال کرنادرست ہے یانہیں اس سے یہ مسئلہ حل ہوتاہے کہ انگریزی ادویہ جن میں شراب حل ہوتی ہے ان کاپینادرست ہے ۔؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد! 

حضرت ابوالدرداء کے قول میں نینان خمری کاذکرنہیں ۔بلکہ سرکہ شراب کاذکرہے جوشراب میں مچھلیاں اورنمک ڈال کرتیارکیاجاتاہے ۔اورحافظ ابن حجررحمہ اللہ نے فتح الباری میں اس مقام پرلکھاہےکہ ابوالدرداء اورایک جماعت صحابہ رضی اللہ عنہم اس کوکھاتی تھی ۔اس کے ایک دوسطربعدلکھاہے کہ ابوالدرداء اور ایک جماعت اس طرح سے شراب کاسرکہ بناناجائز کہتے ہیں ۔حضرت ابوالدرداء اور ایک جماعت کایہی مذہب ہے اور اس بناء پرشراب میں حل کی ہوئی ادویہ جائز ہوں گی ۔مگرچونکہ حدیث میں شراب کےسرکہ بنانے سے صراحتہ ً  نہی آئی ہے ۔اس لیے پرہیزچاہیے ۔ہاں اگرکسی نےجرم کاارتکاب کرکے دواء تیارکرلی ہویاسرکہ بنالیاہو۔تواس کے استعمال کی کچھ گنجائش ہے ۔مگرپھربھی پرہیزاچھاہے۔ کیونکہ اس میں اختلاف ہے ۔

وباللہ التوفیق

فتاویٰ اہلحدیث

کتاب الطہارت، پانی کا بیان، ج1ص239 

محدث فتویٰ



تبصرہ (0)
[Notice]: Undefined index: irsloading (cache/c62f257fe6ed43eb557019d638a0d780.php:75)