فتاویٰ جات: متفرقات
فتویٰ نمبر : 673
(138) کنوئیں میں اگرانسان گرکرمرجائے توپانی کاحکم
شروع از عبد الوحید ساجد بتاریخ : 12 May 2012 01:01 PM

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

کنوئیں میں اگرانسان گرکرمرجائے توپانی کاکیاحکم ہے ۔؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد! 

نجاست کے پڑنے سے پلیدنہیں ہوتا جب تک نجاست سے ا س کارنگ ،بویامزہ نہ بدلے۔کیونکہ اس کی مقدارپانچ مشک سے بہت زیادہ ہوتی ہے ۔

ابوداؤدمیں حدیث ہےکہ بئیربضاعۃ (کنوئیں) کاپانی آپ کوپلایاجاتاتھا۔اس کنوئیں میں کتوں کاگوشت اورحیض کےلتے اورگندگی پرتی تھی ۔اس کے متعلق آپ نے فرمایاکہ بے شک پانی پاک ہے ۔اس کوکوئی چیزپلیدنہیں کرتی۔

ابوداؤدنےبیان کیاکہ میں نے قتیبہ رحمہ اللہ بن سعیدسے سنا۔اس نے کہاکہ میں نے بئیربضاعۃ کے نگران سے اس کی گہرائی کے متعلق سوال کیا۔اس نے کہاکہ زیادہ سے زیادہ اس کاپانی ناف تک ہوتاہے اگرکم ہوجائے توشرمگاہ تک ابوداؤدنے کہاکہ میں نے اس کی پیمائش کی تواس کی چوڑائی چھ ہاتھ تھی۔

اس حدیث میں کتوں کاگوشت اورپلیدی اورحیض کے چیتھڑوں کا ذکرہے۔جن کی پلیدی کی بابت کسی کوانکارنہیں۔جب ایسی چیزوں سے کنواں پلیدنہیں ہوتاتوانسان کےمرنے سے کس طرح ہوگا۔

نوٹ :۔کتوں کاگوشت اورگندگی اورحیض کے چیتھڑے لوگ دیدہ دانستہ کنوئیں میں نہیں ڈالتے تھے بلکہ ہوا وغیرہ سے اڑکرکنوئیں میں نیچی جگہ ہونے کی وجہ سے پڑجاتے تھے۔

وباللہ التوفیق

فتاویٰ اہلحدیث

کتاب الطہارت’پانی کا بیان، ج1ص235 

محدث فتویٰ 



تبصرہ (0)
[Notice]: Undefined index: irsloading (cache/c62f257fe6ed43eb557019d638a0d780.php:75)