فتاویٰ جات: متفرقات
فتویٰ نمبر : 671
(136) اگرکنوئیں میں کوئی شخص گرکرمرجائے توکنوئیں کی طہارت کاحکم
شروع از عبد الوحید ساجد بتاریخ : 12 May 2012 12:57 PM

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

معروض آنکہ ہمارے ہاں ایک کنوئیں میں (جس کاپانی قریباآٹھ فٹ گہراہے )ایک لڑکی (نو،دس سال کی)گرکرمرگئی اورقریباً ڈیڑھ گھنٹہ کے بعدنکالی گئی ۔اب سوال یہ ہےکہ کنوئیں مذکورکا پانی پاک ہےیاپلید۔؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد! 

مذکورہ بالا کنوئیں کاپانی بالکل پاک ہے ۔اس  میں لڑکی کے مرنے سے اس کاپانی پلیدنہیں ہوا۔کیونکہ خصوصامسلمان جس طرح زندہ پاک ہے اسی طرح مردہ بھی پاک ہے ۔چنانچہ محدثین نے اس پرباب منعقدکئے ہیں کہ مسلمان پلیدنہیں ہوتا۔چنانچہ صحیح بخاری میں ہے :

«باب عرق الجنب وان المسلم لاينجس»

’’یعنی یہ باب جنبی کے پسینہ کاحکم بیان کرنے اور یہ بات بیان کرنے کاہے کہ مسلمان  پلیدنہیں ہوتا۔‘‘

پھراس میں مندرجہ ذیل حدیث لائے ہیں :

«عن ابی هریرة ان النبی صلی الله علیه وسلم لقیه فی بعض طریق المدینة وهوجنب فانخنست منه فذهب فاغتسل ثم جاء فقال این یااباهریرة قال کنت جنبافکرهت ان اجالسک  واناعلی غیرطهارة فقال سبحان اللہ ان المسلم لاینجس» (بخاری مع فتح  الباری ص 310ج1)

’’یعنی ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں جنبی تھا۔اوررسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے راستہ میں ملے۔میں چپکے سے نکل گیا اورغسل کرکے آیا۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہاں گیا تھا؟ میں نے عرض کیا:یاحضرت !میں جنبی تھا۔پس میں نے پلیدی کی حالت میں آپ سے ہم مجلس ہونا مکروہ جانا۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:سبحان اللہ !مسلمان توپلیدنہیں ہوتا۔‘‘

امام بخاری رحمہ اللہ نے ایک باب یوں منعقدکیاہے :

«باب غسل المیت ووضوء بالماء والسدر»

’’یعنی یہ باب ہے میت کے وضوء اورغسل دینے کاساتھ پانی اوربیری کے پتوں کے ۔‘‘

اوراس میں لکھتے ہیں:

«وحنط ابن عمررضی الله عنهماابنالسعیدبن زیدوحمله وصلی ولم یتوضأوقال ابن عباس رضی الله عنه المسلم لاینجس حیاولامیتاوقال سعدلوکان نجسامامسسته وقال النبی صلی الله علیه وسلم المؤمن لاینحس»

 (بخاری مع فتح الباری ص 98 ج 3)

’’ابن عمررضی اللہ عنہ نےسعیدبن زیدکے بیٹے کو (جوفوت ہوگیاتھا) خوشبولگائی اوراس کا جنازہ اٹھایا اورنماز پڑھی اور وضوء نہ  کیا اور ابن عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا:کہ مسلمان زندہ اورمردہ کسی  حال میں پلیدنہیں ہوتا اورسعدبن ابی وقاص رضی اللہ عنہ نے فرمایا (کہ اگرمیت پلیدہوتی تو) میں اس کوہاتھ بھی نہ لگاتا۔اورنبی صلی اللہ علیہ وسلم نےفرمایا:مومن پلیدنہیں ہوتا۔‘‘

یہ باب کا ترجمہ ہے اس کی تشریح بہت کچھ فتح الباری میں موجودہے ۔میں کہاں تک لکھوں جوزیادہ تفصیل چاہے وہ فتح الباری ملاحظہ فرمائے۔

مختصریہ کہ مومن موت آنے سے پلیدنہیں ہوتا جیساکہ ابن عمررضی اللہ عنہ ابن عباس رضی اللہ عنہ ،سعدبن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کے قول وفعل اورنبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان سے ثابت ہے ۔

بخاری کے بعدصحیح مسلم کوملاحظہ فرمائیے ۔فرماتے ہیں :۔

«باب الدلیل علی ان المسلم لاینجس» (مسلم ص 161ج1)

  ’’یعنی اس باب میں اس بات کے دلائل ہیں کہ مسلمان پلیدنہیں ہوتا‘‘

پھراس میں دوحدیثیں لائے ہیں ۔ایک ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی جوبخاری شریف کے حوالہ سے اوپرگذرچکی ہے۔دوسری حذیفہ رضی اللہ عنہ کی حدیث:

«ان حذیفة ان رسول اللہ صلی الله علیه وسلم لقیه وهوجنب فحادعنه فاغتسل ثم جاء فقال کنت جنباًقال ان المسلم لاینجس»

’’یعنی حذیفہ رضی اللہ عنہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کوجنابت کی حالت میں ملے ،پس تنہا ہوئے اورغسل کیا،پھرحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت اقدس میں تشریف لائے اورعرض کیاکہ میں جنبی تھا۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:مسلمان پلیدنہیں ہوتا۔(مسلم 2ص 162ج 1)

منتقی میں بھی باب ایساہی باندھاہے ۔فرماتے ہیں :

«باب فی ان الآدمی المسلم لاینجس بالموت ولاشعرہ واجزاء ہ بالانفصال»

’’یعنی یہ باب اس مسئلہ میں ہے کہ آدمی مسلمان موت میں پلیدنہیں ہوتااوراس کےبال اوراعضاء بھی جسم سے علیحدہ ہونے پر پلیدنہیں ہوتے۔‘‘

پھرفرماتےہیں :

«قداسلفناقوله صلی الله علیه وسلم المسلم لاینجس وهم عام فی الحیی والمیت قال البخاری قال ابن عباس المسلم لاینحس حیاولامیتا»۔(منتقی مع نیل ص 56ج 1)

’’یعنی حدیث المسلم لاینجس  (جوپہلےذکرہوچکی ہے) وہ عام ہے زندہ اورمردہ کوشامل ہے۔یعنی مسلمان زندہ اورمردہ پاک ہے۔چنانچہ ابن عباس رضی اللہ عنہ نے بھی یہی فتویٰ دیاہے کہ مسلمان زندہ اورمردہ پلیدنہیں ہوتا۔

امام نووی صحیح مسلم کی شرح میں لکھتے ہیں :

« هذالحدیث اصل عظیم فی طهارة المسلم حیاومیتافاالحئ فظاهرباجماع المسلمین حتی الجنین اذاالقته امه وعلیه رطوبة فوجهاقال بعض اصحابناهوطاهرباجماع المسلمین ولایحئء فیه الخلاف المعروف فی نجاسة رطوبة فرج المرأة ولاالخلاف المذکورفی کتب اصحابنافی نجاسة ظاهربیض الدجاج ونحوه فان فیه وجهین بناء علی رطوبة الفرج هذاحکم المسلم الحئی واماالمیت ففیه خلاف العلماء واللشافعی فیه قولان الصحیح منهماانه طاهرولهذاغسل ولقوله صلی الله علیه وسلم ان المسلم لاینجس وذکرالبخاری فی صحیحه عن ابن عباس تعلیقاالمسلم لاینجس حیاولامیتا....الخ»

’’یعنی یہ حدیث جوابوہریرہ رضی اللہ عنہ اورحذیفہ رضی اللہ عنہ سے اوپرگذرچکی ہے ۔مسلمان زندہ  اورمردہ کے پاک ہونے کی اصل دلیل ہے۔پس مسلمان زندہ  کا پاک ہونا تواجماع مسلمین سے ثابت ہے حتی کہ بچہ جب کہ اس کو ماں ڈال دے اور اس پرفرج کی رطوبت لگی ہو، وہ بھی بقول ہمارے بعض اصحاب کےساتھ اجماع مسلمین کےپاک ہے ۔اور وہ اختلاف جوفرج کی رطوبت کے متعلق اور انڈا مرغی کے ظاہرہونے کے متعلق ہے ۔اس میں نہیں آتا۔ یہ حکم تو زندہ مسلمان کاہے کہ وہ بالاتفاق پاک ہے ۔لیکن مسلمان فوت شدہ ،سواس کے متعلق علماء کااختلاف ہے ۔

امام شافعی رحمہ اللہ کےاس کے متعلق دوقول ہیں مگرصحیح قول ان کایہی ہے کہ مسلمان فوت شدہ پاک ہے ،اسی لیے توغسل دیا جاتاہے (یعنی اگرنجس العین ہوتاتوغسل سےپاک نہ ہوتا) چنانچہ حدیث میں ہے ۔مسلمان پلیدنہیں ہوتا اور امام بخاری ،صحیح بخاری میں ابن عباس رضی اللہ عنہ وغیرہ  لائے ہیں کہ مسلمان زندہ اورمردہ پاک ہے ۔

نیل الاوطارمیں ہے :

«وحدیث الباب اصل فی طهارة المسلم حیاومیتااماالحئ فاجماع واماالمیت ففیه خلاف فذهب ابوحنیفة ومالک ومن اهل البیت الهادی والقاسم والمؤیدبالله وابوطالب الی نجاسة وذهب غیرهم الی طهارۃ واستدل صاحب البحرللاولین علی النجاسة بنزح زمزم من الحبشی وهذامع کونه من فعل ابن عباس کمااخرجه الدارقطنی عنه وقول الصحابی وفعله لاینتهض للاحتجاج به علی الخصم محتمل ان یکون للاستفذارلاللنجاسة ومعارض بحدیث الباب وبحدیث ابن عباس نفسه عندالشافعی ؒ والبخاری تعلیقات بلفظ المؤمن لاینجس حیاولامیتاوبحدیث ابی هریرة المتقدم وبحدیث ابن عباس ایضاعندالبیهقی ان میتکم یموت ظاهرافحسبکم ان تغسلواایدیکم وترجیح رأی الصحابی علی روایته عن النبی صلی الله علیه وسلم وروایة غیرہ من الغرائب التی لایدری ماالحامل علیها»

یعنی حدیث باب کی یعنی حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ کی حدیث جس کے الفاظ مسلم کے حوالہ سے اوپرگزرچکے ہیں ۔مسلمان زندہ اورمردہ کے پاک ہونے پراصل دلیل ہے ۔ پس مسلمان زندہ کے پاک ہونے پرتواجماع ہے۔اورمردہ کے پاک ہونے میں اختلاف ہے ۔امام ابوحنیفہ ،مالک ،اہل بیت سے ہادی قاسم مؤیدباللہ ابوطالب نجاست کی طرف گئے  ہیں اور ان کےعلاوہ باقی سب طہارت کے قائل ہیں ۔ صاحب بحرنے مردہ کونجس جاننے والوں کے لیے حبشی کے واقعہ سے استدلال کیاہے کہ وہ زمزم میں واقع ہوگیا۔ جوابن عباس نے زمزم صاف کرایااور یہ باوجود ابن عباس رضی اللہ عنہ کافعل ہونے کے جومخالف پرحجت نہیں احتمال رکھتاہے کہ ویسے صفائی کے لیے ہونجاست کے لیے نہ ہو.....

اور یہ فعل ابن عباس رضی اللہ عنہ کاحدیث باب (یعنی حدیث حذیفہ کے خلاف ہے اورابن عباس کی اپنی حدیث کے بھی جوبیہقی میں ہے جس کوامام بخاری نے بھی تعلیقاً  ذکرکیاہے کہ مومن زندہ  اورمردہ  پلیدنہیں ہوتا۔مخالف ہے،اورحدیث ابی ہریرہ رضی اللہ عنہ کے بھی خلاف ہے جوصحیح مسلم کےحوالہ سے پہلے ذکرہوچکی ہے اور ابن عباس کی اپنی حدیث کے بھی خلاف ہے جوبیہقی میں ہے:

«ان میتکم یموت طاهرا....الخ»

’’یعنی میت تمہاری بعدازموت پاک ہوتی ہے سوتم اس کوغسل دےکرصرف ہاتھ دھولیاکرو۔یعنی میت کوغسل دے کرغسل دے کرغسل کرنے کی ضرورت نہیں ۔کیونکہ میت پاک ہے اورصحابی کی رائے کواس کی یا دوسرے صحابی کی مرفوع حدیث پرترجیح دینا تو بڑی ہی عجیب بات ہے جن کا باعث معلوم نہیں ۔یعنی صحابی کی رائے کوحدیث مرفوع پرترجیح نہیں دینی چاہیے۔‘‘

تنبیہ :

جولوگ مردہ مسلمان کونجس کہتے ہیں ان کاقول غلط ہے ۔فرمان رسول صلی اللہ علیہ وسلم اوراقوال صحابہ رضی اللہ عنہم کے مقابلہ میں اس کی کوئی وقعت اوراعتبارنہیں ۔نیزان کے قول سے لازم آتاہے کہ صلحاامت اوراولیاء اورصحابہ رضی اللہ عنہم اور انبیاء کےاجسام مطہرہ مبارکہ بھی نجس ہوں ۔(نعوذباللہ من ذالک)یہ عقیدہ بالکل باطل اورغلط ہے ۔میراوقت بہت قلیل ہے ورنہ میں اس پربہت سے دلائل جمع کردیتا۔ خیرعاقل مومن کےلیے یہی کافی ہے۔

                                    اگردرخانہ کس ست،یک حرف بس ست

حاصل یہ کہ مذکورہ بالاچاہ کی طہارت اوراس کے پاک ہونے میں کوئی شبہ نہیں ۔کیونکہ لڑکی فوت شدہ  زندہ  اورمردہ  پاک ہے ۔ پھر چاہ کس طرح پلیدہوگیا۔

اگربقول ان کے میت کونعوذباللہ من ذالک نجس قراردیاجائے توبھی چاہ  مذکورکاپانی پلیدنہیں ہوتا۔کیونکہ جب پانی دوقلہ (پانچ مشک)یا زیادہ ہوتوپلیدنہیں ہوتا۔چنانچہ محدثین نے اس کوصاف صاف بیان  فرمایاہے۔

ترمذی میں ہے :   

« باب ماجاء ان الماء طهورلاینجسه شئی ۔»

امام ترمذی رحمہ اللہ اس باب میں مندرجہ ذیل حدیث لائے ہیں :

«عن ابی سعیدالخدری رضی الله عنه قال قیل یارسول الله صلی  الله علیه وسلم انتهنامن بئربضاعة وهی بئریلقی فیهاالحیض ولحوم الکلاب والنتن فقال رسول الله صلی الله علیه وسلم ان الماء طهورلاینجسه شئی قال ابوعیسیٰ حدیث حسن وقدجودابواسامة هذاالحدیث لم یروحدیث ابی سعیدفی بئربضاعة احسن مماروی ابواسامة وقدروی هذاالحدیث من غیروجه»

یعنی ابوسعیدخدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ آنحضر ت صلی اللہ علیہ وسلم سے کہاگیاکہ ہم بئربضاعۃ سے وضوء کرلیاکریں درآں حالیکہ وہ بئرہے کہ اس میں حیض آلودہ کپڑے اورکتوں کاگوشت اورگندگی وغیرہ اتفاق سے پڑجاتی ہے۔

آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاکہ پانی پاک ہے اس کوکوئی چیزپلیدنہیں کرتی۔

تحفہ الاخودی فی شرح جامع ترمذی میں بعدقول وقدجودابوالسامۃ ہذاالحدیث کے لکھاہے :

«ای راوه بسندجیدوصححه احمدبن حنبل ویحیٰ بن معین وابومحمدبن حمز م قاله الحافظ فی التلخیص وزادفی بدرالمنیروالحاکم وأخرون من ائمة الحفاظ»

’’یعنی ابواسامہ نے اس کوجیدسندسے روایت کیااورامام محمدبن حنبل اوریحییٰ بن معین اورابومحمدبن حزم نے اس حدیث کوصحیح کہا ہے ،ان کے علاوہ  حاکم اوردیگربہت سے محدثین نے اس کوروایت کیاہے۔

منتقی میں ہے باب حکم الماء اذاالاقته النجاسة یعنی یہ باب اس پانی کاحکم بیان کرنے میں ہے جس میں پلیدی مل جائے۔

پھراس باب میں ابوسعیدخدری رضی اللہ عنہ کی وہی حدیث جوترمذی کے حوالہ سے ابھی گزری ہے لائے ہیں ۔جس میں بئربضاعۃ کاقصہ مذکورہے ۔حدیث ذکرکرنے کے بعدفرماتے ہیں ۔

«رواہ احمدوابوداؤدوالترمذی وقال حدیث حسن وقال احمدبن حنبل حدیث بئیربضاعة حدیث صحیح» (منتقی مع نیل ص 28ج1)

امام ابوداؤدنے سنن ابی داؤدمیں یوں باب منعقدکیاہے ’’باب ماجاء فی بئیربضاعة ‘‘

اوراس میں ابوسعیدخدری رضی اللہ عنہ کی یہی حدیث دفعہ لائے ہیں ۔غرض بئیربضاعۃ کی حدیث اکثرکتب حدیث صحاح ستہ وغیرہ میں موجودہے جواس کے صحیح اورمعتبرہونے پردال ہے نیزمحدثین نے اس کے صحیح ہونے کی تصریح فرمائی ہے جیساکہ امام احمدبن حنبل رحمہ اللہ ،یحییٰ بن معین اورابن حزم رحمہ اللہ وغیرہ سے بھی مذکورہواہے ۔جس کوزیادہ تحقیق مطلوب ہوتووہ تحفۃ الاخودی شرح جامع ترمذی اورنیل الاوطاروغیرہ شروحات حدیث ملاحظہ فرمائے ۔

«عن ابی سعیدالخدری ان رسول الله صلی الله علیه وسلم سئل عن الحیاض التی بین مکة والمدینة یردہاالسباع والکلاب والحمرعن الطهورمنهافقال لهاماحملت فی بطونهاولناماغبرطهور»۔رواہ ابن ماجه مشکوۃ ص 52

یعنی رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان حوضوں کی طہارت سے سوال کئے گئے جومکہ مدینہ کے درمیان ہیں جن پردرندے اورگدھے وارد ہوتے ہیں ،توآپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ان کے لیے ہے جوانہوں نے پی  لیااورباقی ماندہ ہمارے لیے پاک کنندہ ہے۔

«عن یحیئٰ بن عبدالرحمن قال ان عمربن الخطاب خرج فی مرکب فیهم عمروبن العاص حتی وردواحوضافقال عمرویاصاحب الحوض هل ترد حوضک السباح فقال عمربن الخطاب یاصاحب الحوض لاتخبرنافانانردعلی السباع وتردعلینارواہ مالک زادرزین قال زادبعض الرواة فی قوله عمروانی سمعت رسول الله صلی الله علیه وسلم یقول لهامااخذت فی بطونهاطهورومابقی فهولناطهوروشراب» (مشکوۃ )

’’یعنی حضرت عمررضی اللہ عنہ ایک جماعت کے ہمراہ سفرپرگئے ،ان میں عمروبن العاص رضی اللہ عنہ بھی تھے عمروبن عاص رضی اللہ عنہ نے صاحب حوض سےکہاکہ تیرے حوض پردرندے آتے ہیں ؟حضرت عمررضی اللہ عنہ نے صاحب حوض سے کہاکہ ہمیں درندوں کے متعلق اطلاع نہ دے کیونکہ ہم درندوں پراور درندہ ہم پر واردہوتےرہتےہیں ۔مطلب یہ کہ ہمیں یہ بات پوچھنے کی ضرورت نہیں کیونکہ درندوں کاجوٹھاپانی پاک ہے اس لیے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سناہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاان کےلیے ہے جوانہوں نےپی لیااورباقی ماندہ ہمارے لیے پاک کنندہ اورپیناہے ۔روایت کیاہے ان کوامام مالک رحمہ اللہ اورزریں وغیرہ نے۔

اس قسم کی حدیثیں بہت ہیں مشتے نمونہ ازخردارے کے طورپرچندایک نقل کردی ہیں ۔

ان حدیثوں سے ثابت ہواکہ پانی پاک ہے خواہ قلیل ہویاکثیر۔مگریہ مذہب صحیح نہیں ہے کیونکہ دوسری حدیثوں سے ثابت ہے کہ تھوڑا پانی جودوقلوں (پانچ مشکوں)سے کم ہو وہ  پلیدی سے پلیدہوجاتاہے ۔خواہ اس کارنگ یابویامزہ نہ بھی بدلے۔

اورجوپانی قلتین (پانچ مشکیں)ہویا زیادہ ،وہ اس وقت تک پلیدنہیں ہوتاجب تک پلیدچیزسے اس کارنگ ،بو،یامزہ نہ بدلے۔ اگراس میں پلیدچیزاس قدرپڑجائے جواس کے رنگ یابویامزہ کوبدل دے توپھریقیناً پلیدہوجائے گاخواہ کتناہی زیادہ ہو۔

وباللہ التوفیق

فتاویٰ اہلحدیث

کتاب الطہارت’پانی کا بیان، ج1ص227 

محدث فتویٰ 



تبصرہ (0)
[Notice]: Undefined index: irsloading (cache/c62f257fe6ed43eb557019d638a0d780.php:75)