فتاویٰ جات: متفرقات
فتویٰ نمبر : 666
(130) معجزات اورکرامات
شروع از عبد الوحید ساجد بتاریخ : 10 May 2012 10:09 AM

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

معجزات کے دکھلانے سے حضرت کاانکار اورخلفائے راشدین کےحالات میں اتنی کرامات کا ذکرنہیں ۔جتنی کرامات دوسرے بزرگوں کے متعلق بیان کی جاتی ہے اس کی کیاوجہ ہے۔؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد! 

معجزات آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بہت دکھلائے ہیں ۔جنکی تفصیل قرآن وحدیث میں ہے ۔جنگ بدرمیں 313کابغیرسامان جنگ کے ہزارآدمی مسلح پرغالب آنا۔پھراسی جنگ میں مسلمانوں کا کافروں کواپنے سے دوگنانظرآنا اورمسلمانوں کو کافروں کا تھوڑے نظرآنا یہ معجزہ قرآن  میں ہے ہزارفرشتہ بلکہ پانچ ہزارفرشتہ کے اترنے کابھی ذکرہے۔ پھرمٹی بھرکنکروں کاپھینکناجوسب کفارکی نظرمیں پڑگئی اور چاند کا دوٹکڑے ہونا یہ بھی قرآن میں موجودہے۔ حدیث میں بے حساب معجزات کا ذکرہے۔ اسطرح صحابہ رضی اللہ عنہم کی کرامتیں بھی بے شمار ہیں۔ معجزات اورکرامات حسب ضرورت ظاہرہوتےہیں۔انکی کمی بیشی روحانیت کی کمی بیشی سے نہیں ہوتی بلکہ جیسے جیسے موقع آپڑتے ہیں خداتعالیٰ عادت کےذریعہ سے ان موقعوں کونبھاناچاہتاہے تو خرق عادت ظاہرکردیتاہے۔ رہابعض دفعہ معجزہ دکھلانے سے انکار تواسکی وجہ بھی یہی ہےکہ جب دیکھاکہ ضرورت نہیں یا اس کانتیجہ اچھانہیں ہوگا۔معجزہ دکھلانے سے انکارکردیا۔

وباللہ التوفیق

فتاویٰ اہلحدیث

کتاب الایمان، مذاہب، ج1ص225 

محدث فتویٰ 



تبصرہ (0)
[Notice]: Undefined index: irsloading (cache/c62f257fe6ed43eb557019d638a0d780.php:75)