فتاویٰ جات: متفرقات
فتویٰ نمبر : 664
(128) لووقوع جزاء وشرط کومستلزم ہے یانہیں؟
شروع از عبد الوحید ساجد بتاریخ : 08 May 2012 04:27 PM

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

اس آیت میں ’’لو‘‘شرطیہ ہے کیا لو وقوع جزاء وشرط کومستلزم ہے یانہیں اوریہ آیت قیاس اقترانی ہوسکتی ہے یانہیں۔اگرہے توآپ بصورت قیاس اقترانی درمنطق  اس آیت کوبیان فرمائیں؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد! 

اس اعتراض کےتین جواب دیئے ہیں ۔

ایک یہ کہ لوکنت اعلم الغیب کہنے کے وقت آپ کوبعض غیب کی باتوں کاعلم تھا۔مگرآپ نے بطورتواضع کے کلی طورپرعلم غیب کی نفی کردی۔

دوم یہ کہ لوکنت اعلم الغیب کہنے کے وقت اگرچہ آپ کوکسی غیب کی بات کاعلم نہ تھا۔پھرخدانےآپ کوبعض باتوں کی خبردی ۔جیسے آیتہ فلایظہرسے ظاہرہے۔

سوم یہ کہ آپ کولوکنت اعلم الغیب کہنااپنے طورپرنہیں بلکہ کفارکے سوال کے جواب میں ہے اس وقت آپ کوکسی بات کی اطلاع نہ تھی۔جب اس کے بعدخدانے آپ کوبذریعہ وحی بعض باتوں کی خبردی تویہ آپ کی نبوت کی دلیل بن گئی۔

پہلے اعتراض کے جواب سے دوباتیں حاصل ہوئیں۔ایک یہ کہ آپ کوخدائی اختیارات نہ تھے ۔بلکہ جیسے اورانسانوں کی قدرت ہے اس طرح کی قدرت آپ کی تھی ۔دوم یہ کہ آپ  کوتمام باتوں کاعلم نہ تھاورنہ اس قدرت کے ساتھ بہت سی بھلائی جمع کرلیتے اوربرائی سے بچ جاتے۔

دوسرےاعتراض کے تینوں جوابوں سے معلوم ہواکہ آپ کوبذریعہ وحی بعض پوشیدہ باتوں کاعلم حاصل ہے خواہ لوکنت اعلم الغیب کہنے کے وقت ہواوربطورتواضع کے کلی طورپرنفی کردی ہو۔اورخواہ لوکنت اعلم الغیبکہنے کے بعدہوا ہو۔ اوربعدہونے کی صورت میں خواہ کلام کفارکے سوال کاجواب ہویااپنے طورپر۔

خلاصہ یہ کہ دونوں اعتراضوں کے جوابوں سے توحیدکا پورانقشہ سامنے آجاتاہے ۔جس میں کسی کااختلاف نہیں ۔وہ یہ کہ نہ آپ کوخدائی اختیارات حاصل ہیں ۔نہ آپ کوعلم غیب ہے ۔بجز اس کے کہ کوئی بات آپ کوخداتعالیٰ بذریعہ وحی معلو م کرادے۔

غرض تفسیرجمل کی عبارت فریق مخالف کومفیدنہیں۔بلکہ انہی پرحجت ہے مگروہ بے سمجھے بن سوچے پیش کررہے ہیں۔اورعموماً ان کی یہی حالت ہے ۔خدان کوسمجھ دے ۔آمین

تفصیل اول:

عموماً مشہورہےکہ شرط وجزاء کاوقوع ضرورنہیں۔حالانکہ حقیقت کچھ اورہے اور وہ یہ کہ کلمات شرط کئی ہیں۔کسی میں وقوع ضروری ہے کسی میں وقوع ضروری نہیں۔مثلاً اذا میں وقوع ضروری ہے ان  میں ضروری نہیں  اہل عربیت کے نزدیک ان مشکوک کے لیے ہے اورچونکہ ان شرط میں اصل ہے اورمشہورہے۔اس لیے یہ بات مشہورہوگئی کہ شرط جزاء کاوقوع ضروری نہیں۔حالانکہ ضروری بھی ہے اورنہیں بھی ۔لومیں عدم وقوع ضروری ہے۔نورالانوارمیں ہے۔

«وهوبمعنی ان انتفاء الجزاء فی الخارج فی الزمان الماضی بانتقاء الشرط کماهوعنداهل العربیة اوان انتقاء الشرط فی الماضی لاجل انتفاء الجزاء کماهوعندارباب المعقول» (نورالانوارمبحث حروف شرط ص 140)

ترجمہ:۔لواہل عربیت کےنزدیک انتفاء جزاکےلیے ہے بوجہ انتفاء شرط کےاور ارباب معقول کے نزدیک انتفاء شرط کے لیے ہے ۔بوجہ انتفاء جزاء کے ۔قرآن مجیدمیں دونوں طرح استعما ل ہواہے ۔آیت کریمہ:

﴿لَوۡ كَانَ فِيهِمَآ ءَالِهَةٌ إِلَّا ٱللَّهُ لَفَسَدَتَاۚ﴾--سورةالانبياء22

ارباب معقول کے موافق ہے ۔اس طرح آیت کریمہ :

﴿وَلَوۡ كُنتَ فَظًّا غَلِيظَ ٱلۡقَلۡبِ لَٱنفَضُّواْ مِنۡ حَوۡلِكَۖ﴾--سورة ال عمران159

اہل عربیت کے موافق آئی ہے۔یعنی اگرتوسخت زبان سخت دل ہوتاہے تویہ لوگ تیرے اردگردسے منتشرہوجاتے۔

اس طرح آیت کریمہ :

﴿وَلَوۡ أَنَّا كَتَبۡنَا عَلَيۡهِمۡ أَنِ ٱقۡتُلُوٓاْ أَنفُسَكُمۡ أَوِ ٱخۡرُجُواْ مِن دِيَٰرِكُم مَّا فَعَلُوهُ إِلَّا قَلِيلٞ مِّنۡهُمۡۖ﴾--سورةالنساء66

اہل عربیت کے موافق ہے یعنی اگرہم ان پرلکھتے کہ اپنی جانوں کوقتل کرو اور اپنے گھروں سے نکل جاؤ۔تووہ یہ کام نہ کرتے مگران سے تھوڑے۔

نوٹ :۔لواہل عربیت کے موافق عربی محاورات میں کثرت سے استعمال ہواہے ۔اس لیے اہل عربیت نے اس معنیٰ کواختیارکیاہے ۔اور ارباب معقول کا مقصدچونکہ انتفاء لازم ہے انتفاء ملزوم پراستدلال کرناہے ۔اس لیے ان کے نزدیک دوسرامعنیٰ معتبرہے۔

تفصیل دوم :

آیت کریمہ کی ظاہرصورت توقیاس استثنائی کی ہے ۔اگرقیاس اقترانی بناناچاہیں توشکل ثانی کی صورت میں بن سکتاہے ۔ہم قیاس استثنائی اورقیاس اقترانی دونوں کاذکرکرتے ہیں۔مگرپہلے تھوڑی سی تمہیدسن لیں۔

تمہید:

            قیاس استثنائی میں اگرمقدمہ موضوعہ متصلہ ہوتواس میں ملازمہ کلیہ شرط  ہے اورقیاس اقترانی کی شکل ثانی میں اختلاف مقدمتین فی الکیف اورکلیہ کبری شرط ہے۔پھرملازمہ کی دوقسمیں ہیں۔عقلی اورعرفی۔عقلی جیسے طلوع شمس کووجودالنہارلازم ہےاورعرفی جیسے حاتم طائی کوسخاوت لازم ہے ۔علم الغیب اور استکثارمن الخیرکے درمیان بھی عرفی لزوم ہے ۔ کیونکہ عموماً دستورہے کہ جب انسان کوخیروشرکا علم ہوتا ہے  تو وہ خیر کو حاصل کرتا اورشرسے بچتا ہے خاص کررسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب اپنی ذات سے خبردے رہے ہیں ۔اگرمجھے علم غیب ہوتا تومیں ایساکرتا۔ توعلم غیب کی  صورت میں اس کا وقوع ضروری ہوگیا۔ ورنہ آپ کے کلام میں کذب  لازم آئے گا۔اورکلمہ لو کا استعمال بے محل ہوجائے گا۔ جس سے خدااور رسول دونوں پاک ہیں۔شائدکہاجائےکہ لو،ان ،اذا مہملہ کاسورہیں۔ اورمہملہ جزیہ کی قوۃ میں ہوتاہے تو پھر ملازمہ کلیہ کس طرح ہوا؟۔ اس کا جواب یہ ہے کہ لومجاز ان کے معنی میں بھی استعما ل ہوتاہے۔چنانچہ اصول فقہ میں مسائل طلاق وغیرہ میں لکھاہے (ملاحظہ ہونورالانوارمبحث حروف شرط ص 140)

اس وقت وہ مہملہ کاسورہوگا۔ورنہ وہ اپنے معنی میں مہملہ کاسورنہیں بن سکتا۔قرآن مجیدمیں ہے۔

﴿لَوۡ كَانَ فِيهِمَآ ءَالِهَةٌ إِلَّا ٱللَّهُ لَفَسَدَتَاۚ﴾--سورةالانبياء22

اس میں ملازمہ کلیہ ہے اگرملازمہ کلیہ نہ ہوتویہ توحیدکی دلیل نہیں بن سکتی۔اس طرح آیت زیربحث کوسمجھناچاہیے۔ خلاصہ یہ کہ لوکا اپنامعنیٰ انتفاء  لازم سے انتفاء ملزو م جو ارباب معقول کےہاں معتبرہے ملازمہ کلیہ کومستلزم ہے اس لیےاس حالت میں مہملہ کاسورنہیں ہوگا۔

قیاس استثنائی ۔

«لوکنت اعلم الغیب لاستکثرت من الخیرومامسنی السوء ولکنی لم استکثرمن الخیرومسنی السوء فلم اکن اعلم الغیب»

قیاس افترائی ۔

«انالست مسکثرالخیرومسنی السوء وکل عالم الغیب مستکثرالخیرولم یمسسه السوء فانالست عالم الغیب»
وباللہ التوفیق

فتاویٰ اہلحدیث

کتاب الایمان، مذاہب، ج1ص217 

محدث فتویٰ 



تبصرہ (0)
[Notice]: Undefined index: irsloading (cache/c62f257fe6ed43eb557019d638a0d780.php:75)