فتاویٰ جات: متفرقات
فتویٰ نمبر : 662
(126) غیبت کی حقیقت
شروع از عبد الوحید ساجد بتاریخ : 08 May 2012 04:20 PM

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

غیبت کرنی توبڑاگناہ ہے ۔مگرہم یہ نہیں سمجھے کہ غیبت کسے کہاجاتاہے ۔مثلاایک بھائی اپنے حقیقی بھائی یارشتہ دارکی دینی یادنیاوی غلطی اپنے کسی دوست سے بیان کرتاہے کہ اس نے یہ کیا وہ کیا یہ کہا وہ کہا۔ایساہے ویساہے کیایہ غیبت میں شمارہے یانہیں واقعہ بھی صحیح ہو۔اگرغیبت ہے توکوئی صورت جوجائز ہوبیان فرمائیں یامنع فرمائیں ۔تاکہ اس سے پرہیز کیاجائے ۔؟ ا زراہِ کرم کتاب وسنت کی روشنی میں جواب دیں جزاكم الله خيرا


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد! 

مشکوۃ میں ہے :

 (اول )«عن ابی هریرة ان رسول الله صلی الله علیه وسلم اتدرون ماالغیبة قالوا الله ورسوله اعلم قال ذکرک اخاک بمایکره قیل افرایت ان کان فی اخی مااقول قال ان کان فیه ماتقول فقداغتبه وان لم یکن فیه ماتقول فقدبهته رواہ مسلم وفی روایة اذاقلت لاخیک مافیه فقداغتبته واذاقلت مالیس فیه فقدبهته»(مشکوۃ باب حفظ اللسان والغیبة  الخ)

’’ابوہریرہ﷜ سے روایت ہے ۔رسول اللہﷺ نے صحابہ رضی اللہ عنہم سے دریافت کیاکہ کیا جانتے ہوغیبت کسے کہتے ہیں ؟صحابہ رضی اللہ عنہم نے عرض کیا،اللہ اوراس کارسول زیادہ جانتے ہیں ۔فرمایا غیبت یہ ہے کہ اپنے بھائی کے متعلق تو وہ  بات ذکرکرے جس کو وہ براسمجھے ۔کسی نے کہا۔اگروہ  بات اس میں موجودہوفرمایا: یہی توغیبت ہے اگروہ بات جوتوکہتاہے تیرے بھائی میں نہ ہوتویہ بہتان ہے ۔‘‘

(دوم )«عن عائشة رضی اللہ عنهاقالت قلت للنبی صلی الله علیه وسلم حسبک من صفیة کذاوکذاتعنی قصیرۃ فقال لقدقلت کلمة لومزج بهاالبحرلمزجته» رواہ احمدوالترمذی وابوداؤد        (مشکوۃ باب حفظ اللسان والغیبة  الخ)

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہاکہتی ہیں ،میں نے نبیﷺ کوکہا(آپ کی بیوی)صفیہ رضی اللہ عنہا (اگرچہ شکل کی اچھی ہے مگراس )میں اتنا ہی عیب کافی ہے کہ قدکی چھوٹی ہے ۔فرمایا(اے عائشہ رضی اللہ عنہا) تونے ایساکلمہ کہہ دیاکہ سمندرمیں ملادیاجائے تواس پرغالب آجائے ۔‘‘

(سوم )«عن ابی سلمة عن فاطمة بنت قیس ان اباعمروبن حفص طلقہاالبتة وهوغائب فارسل الیهاوکیله الشعیرفسخطته فقال والله مالک علینامن شئی فجاءت رسول الله صلی الله علیه وسلم فذکرت ذلک فقال لیس لک نفقة فامرہاان تعتدفی بیت ام شریک ثم قال تلک امرأۃ یغشاهااصحابی اعتدی عندابن ام مکتوم فانه رجل اعمی تضعین ثیابک فاذاحللت فاذنینی قالت فلماحللت ذکرته له ان معاویة بن ابی سفیان واباجهم خطبانی فقال اماابوالجهم فلایضع عصاه عن عاتقه وامامعاویه فصعلوک لامال له انکی اسامة بن زیدفکرهته ثم قال انکحی اسامة فنکحته فجعل الله فیه خیراواغتبطت وفی روایة عنهافاماابوجهم فرجل ضراب للنساءرواہ مسلم وفی روایة ان زوجهاطلقهاثلاثاً فاتت النبی صلی الله علیه وسلم فقال لانفقة لک الاان تکونی حاملاً »(مشکو ۃ باب العدۃ فصل اول )

ابوسلمہ ؒ فاطمہ بنت قیس  سے روایت کرتے ہیں کہ اس کے خاوندعمروبن حفص﷜نے اس کوبتہ (فیصلہ کن) طلاق دیدی ،اور وہ غیرحاضرتھا۔ اس کےوکیل نے نفقہ کےلیے جَوبھیجے۔ فاطمہ ناراض ہوگئی ،وکیل نے کہا،خداکی قسم !تیرا ہمارے ذمہ کوئی حق نہیں ، وہ رسول اللہﷺ کے پاس آئی آپﷺ نے فرمایا،تیرے لیے نفقہ کاکوئی حق نہیں ،پھرآپﷺ نے فاطمہ رضی اللہ عنہاکوام شریک کے گھرعدت بیٹھنے کاحکم دیا۔ پھرفرمایاکہ ام شریک کے گھرمیرے صحابہ رضی اللہ عنہم کی آمدورفت ہے تو ابن ام مکتوم  کے گھرعدت بیٹھ ۔ یہ نابیناہے توکپڑے اتارسکے گی۔ جب تیری عدت پوری ہوجائے تومجھےاطلاع دے ۔ فاطمہ کہتی ہے جب میری عدت پوری ہوگئی تومیں نے آپﷺ کے پاس ذکرکیاکہ معاویہ بن ابی سفیان اورابوجہم  نے نکاح کی خواہش کی ہے۔ فرمایاابوجہم  تو اپنی لاٹھی کندھے سے نہیں رکھتااورمعاویہ  غریب ہے اس کے پاس مال نہیں تواسامہ بن زید﷜ سے نکاح کرلے میں نےاس کومکروہ جانا۔آپﷺ نے پھرفرمایا،اسامہ سے نکاح کرلے۔میں نے اسامہ سے نکاح کرلیا۔ خدانےاس میں برکت کردی اورمیں رشک کےقابل ہوگئی ۔اور ایک روایت میں ہے ۔ابوجہم  عورتوں کوبہت مارتاہے اس کومسلم نے روایت کیا۔ اور ایک روایت میں ہے کہ اس کے خاوندنے اس کوتین  طلاقیں دے دیں ۔وہ نبیﷺ کے پاس آئی ۔آپﷺ نے فرمایا،تیرے لیے نفقہ کا کوئی حق نہیں ۔ مگراس صورت میں کہ حاملہ ہوتی۔‘‘

ان تین احادیث سے غیبت کاحال واضح ہوگیا۔پہلی حدیث غیبت کی حقیقت کوبیان کرتی ہے کہ جوعیب کسی میں ہواس کاذکرغیبت ہے اورجوعیب موجودنہ ہواس کاذکربہتان ہے ۔دوسری حدیث سے معلوم ہواکہ پیدائشی عیب کا ذکربھی اسی حکم میں ہے تیسری حدیث سے معلوم ہواکہ بعض صورتو ں میں عیب کا ذکرغیبت نہیں۔  بلکہ شرعا اس کا ذکرضروری ہے مثلاکسی کوصلاح مشورہ دینا ہوجیسے رسول اللہﷺ نے فاطمہ رضی اللہ عنہابنت قیس﷜ کومشورہ دیتے ہوئے فرمایاکہ ابوجہم﷜ عورتوں کومارتابہت ہے اورمعاویہ﷜ فقیرہے اس کے پاس کچھ نہیں اور اسی قسم سے روایوں کے حالات ہیں۔ یعنی جن روایوں کی معرفت احادیث نبویہ ﷺ اورآثارسلف ہم  تک پہنچے ہیں۔ محدثین نے ان حالات میں کتابیں لکھی ہیں اور جو جوکسی میں عیب تھا بیان کردیا۔یہ دین کی حفاظت کے لیے اورہماری خیرخواہی کے لیے۔ ورنہ ہمیں دین کاپتہ لگانامشکل ہوجاتا۔ اور اہل بدعت کی تردید اورکسی کے غلط مسائل کاتذکرہ یہ نیت حفاظت دین بھی اسی قسم سے ہے۔ اسی طرح مظلوم کواجازت ہے کہ اپنی دادرسی کےلیے ظالم کے عیب بیان کرے اور اگرکوئی شخص دوسرے کے پاس اس نیت سے کسی کاعیب ذکرکرے کہ یہ اس کونصیحت کرے تاکہ وہ اس برائی سے باز آجائے اور اس کوامیدہوکہ اس کی نصیحت اس کومفیدہوگی تویہ بھی غیبت میں داخل نہیں۔ خلاصہ یہ کہ عیب والے کی یا دوسرے کی خیرخواہی کی نیت ہو تو اس صورت میں عیب کا ذکرغیبت نہیں ورنہ غیبت ہوگا۔

وباللہ التوفیق

فتاویٰ اہلحدیث

کتاب الایمان، مذاہب، ج1ص165 

محدث فتویٰ



تبصرہ (0)
[Notice]: Undefined index: irsloading (cache/c62f257fe6ed43eb557019d638a0d780.php:75)