فتاویٰ جات: تاریخ وسیرت
فتویٰ نمبر : 649
(113) کیارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پرجادوہوا؟
شروع از عبد الوحید ساجد بتاریخ : 05 May 2012 09:54 AM

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

زیدکہتاہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پرسحرکااثرہوگیاتھا۔ چنانچہ بخاری شریف مصری باب السحرجلد4صفحہ 15۔مسلم شریف باب السحرجلد2ص 231۔اورنیل الاوطارمصری باب ماجاء فی حدالساحرجلد7ص 148میں مفصل احادیث مسطورہیں۔

بکرکہتاہے کہ اپنا مطلب سیدھاکرنے کےلیےیہ بھی گھڑلیاگیا ہے کہ سیدنامحمدرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پرکسی یہودی نے سحرکیاتھا اورآپ نعوذباللہ محسورہوگئے تھے۔العیاذباللہ پیغمبرعلیہ السلام پرسحرکاعمل ہوجائے اورآپ صلی اللہ علیہ وسلم محسورہوجائیں یہ کس طرح ممکن ہے ؟

1۔زیداوربکرمیں کون حق پرہے ؟2۔کیااس کوانکارحدیث کہہ سکتے ہیں جبکہ بکرکو حدیث بھی دکھائی گئی ہو۔ اور وہ تسلیم نہ کرے؟3۔اس کےساتھ اقتداء  بالصلاۃ کا کیاحکم ہے ؟4۔اس کے اس رسالہ کے پڑھنے کےمتعلق کیاحکم ہے۔جس میں اس نے اسی موضوع پربحث کی ہو۔ چنانچہ خط کشیدہ عبارت اس کے رسالہ مذکورہ کی ہے ۔5۔ان تتبعون الارجلامسحوراً۔الایة (بنی اسرائیل) اس کاکیاجواب ہے؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد! 

جولوگ بخاری کی حدیث سےانکارکرتے ہیں ان کی بڑی دلیل یہ آیت ہے ۔

﴿إِن تَتَّبِعُونَ إِلَّا رَجُلٗا مَّسۡحُورًا﴾--سورةالفرقان8

’’یعنی کفارکہتے ہیں تم نہیں اتباع کرتے مگرایک جادوکئے گئے کی۔‘‘

آیت وحدیث میں کوئی تعارض نہیں ۔کفارکی مرادمسحورسے دیوانہ ہے ۔جس کی عقل ٹھکانے نہ ہو۔اورحدیث بخاری میں حافظہ پراثرمرادہے چنانچہ حدیث میں تصریح ہے :

«حتی انه لیخل الیه انه فعل الشئی ومافعله »

یعنی’’ یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کوخیال ہوتاکہ میں نے فلاں کام کرلیاہے اوردرحقیقت کیانہ ہوتا۔‘‘

ان الفاظ سے دوباتیں ثابت ہوئیں ایک یہ جادوکااثرحافظہ پرتھا عقل پرنہ تھا۔کیونکہ کام کرنے نہ کرنے کےمتعلق یاد نہ رہنایہ حافظہ کاکام ہے اورحافظہ اورعقل دوقوتیں الگ الگ ہیں۔ دیکھیئے!بچپن میں حافظہ قوی ہوتاہے اورعقل کم اورمعمرہوکرعقل بڑھ جاتی ہےاورحافظہ میں فرق آجاتاہے ۔پس حافظہ پراثرہونے سے یہ لازم نہیں آتاکہ عقل پربھی اثرہو۔

دوسری بات ان الفاظ سے یہ معلوم ہوئی کہ حافظہ پراثر سے بھی مرادنہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کومعاذاللہ قرآن مجیدبھول گیا ہویا اس طرح کاکوئی اورنقصان ہوگیا ہو بلکہ یہ صرف اس حدتک تھاکہ جزوی فعل میں کبھی بھول چوک ہوجاتی اورجزوی فعل میں بھوک چوک  معمولی بات ہے۔ مثلاً نمازمیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کئی دفعہ رکعتیں بھول گئے اورفرمایا: انسیٰ کماتنسون۔یعنی ’’جیسے تم بھول جاتے ہومیں بھی بھول جاتاہوں۔‘‘بتلائیے !یہ بھولناکوئی دین میں نقصان دہ تھا؟ پس اگرجادوکے اثرسے عام بھولنے کی نسبت کسی قدر زیادہ بھول چوک ہوجاتی  ہوتو یہ بھی دین کے منافی نہیں ۔ بلکہ بعض روایات میں اس جزوی فعل کی تعیین بھی آئی ہے ۔فتح الباری میں ہے:

«قدقال بعض الناس ان المرادبالحدیث انه کان صلی اللہ علیه وسلم یخیل انه وطی زوجاته ولم یکن وطئهن وہذاکثیرًا مایقع یخیله فی الانسان فی المنام فلایبعدان یخیل الیه فی الیقظة قلت وهذاقوردصریحاً فی روایة ابن عیینة فی الباب الذی یلی هذاولفظه حتی کان یری انه یأتی النسأء ولایأتیهن وفی روایة الحمیدی انه یأتی اهله ولایأتیهم ۔» (فتح الباری باب السحر جزء 24ص 435)

’’بعض لوگ کہتے ہیں کہ حدیث میں مرادیہ ہے کہ آپ کواپنی بیویوں کے پاس جانے کاخیال آتا۔مگرآئے نہ ہوتے اور ایساخیال خواب میں بہت آتاہے۔ پس بیداری میں بھی کوئی بعیدنہیں۔ میں (صاحب فتح الباری) کہتا ہوں کہ جوکچھ بعض نے حدیث کی مراد بیا ن کی ہے یہ بعض  روایتوں میں صریحاً آیاہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی   بیویوں کےپاس آنے کا خیال آتامگرآئے نہ ہوتے ۔‘‘

اورفتح الباری کے اسی صفحہ میں ہے :

«وفی حدیث ابن عباس رضی اللہ عنه عندابن سعدمرض النبی صلی اللہ علیه وسلم واخذعن النساء والطعام والشراب فهبط علیه ملکان» (الحدیث)

ترجمہ:۔ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیمارہوگئے اورعورتوں اورکھانے پینے سے روکے گئے ۔پس آپ پر دوفرشتے اترے (جنہوں نےجادوکرنے والے کا نام اور جن اشیاء میں جادوکیااورجہاں ان کو دفن کیاسب بتلادیا۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان اشیاء کونکلوایاخدانے شفادے دی)

اورفتح الباری میں اس سے چندسطرپہلے ایک روایت کے یہ الفاظ ذکرکئے ہیں ۔

«حتی ٰ کادینکربصرہ»

 یعنی’’جادو کے اثرسے قریب تھاکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بصارت میں فرق آجائے۔‘‘

ان روایتوں سے معلوم ہوا کہ جادو کا اثرآپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بدن پر ایساہی ہواتھاجیسے ظاہری امراض سے بدن میں کمزوری آجاتی ہے۔ اور اعضاء  ڈھیلے پڑجاتے ہیں اوراشیاء  وغیرہ بندہوجاتی ہیں۔

رہاعقل اورسمجھ کا معاملہ اور وحی تبلیغ  کا سلسلہ اس میں کوئی فرق نہیں آیا۔ اسی لیے فرشتے  اترے اور انہوں نےسب کچھ بتادیا۔ یہاں تک کہ خدانے شفاء دے دی۔ اگروحی میں فرق پڑ جاتا توفرشتے کس طرح  اترتے ؟ پس  واقعہ نبوت کے منافی نہیں۔  بلکہ یہ واقعہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کی مزیدتائیدہے ۔

فتح الباری میں ہے ۔

«وقع فی مرسل عبدالرحمن بن کعب عندابن سعدفقالت اخت لبیدبن الاعصم ان یکون نبیافسیخبروالانسیذهله هذاالسحر حتی یذهب عقله» ۔(فتح الباری جزء 24ص 435)

 ترجمہ:۔عبدالرحمن بن کعب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں بعیدبن اعصم  (یہودی جس نےجادوکیاتھااس) کی بہن نے کہا، اگریہ نبی ہوگا تواس کو خدا کی طرف  سے  اطلاع مل جائے گی  (کہ فلاں نے جادوکیااورفلاں شئے میں کیااورفلاں جگہ دفن کیا) اور اگرنبی نہ ہوا تویہ جادواس کی عقل کو نقصان  پہنچائے گا۔یہاں تک کہ اس کی عقل کولے جائے گا۔‘‘

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پرچونکہ وحی آئی اورفرشتے اترے اورسب حال کھول کربتلادیاکہ فلاں شخص نے جادوکیااورفلاں فلاں شئے میں کیا اور فلاں کنوئیں میں دفن کیا۔چنانچہ بخاری وغیرہ میں اس کی تفصیل ہے ۔ توبعیدبن اعصم کی بہن کے قول کے مطابق  یہ  واقعہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی  نبوت کی دلیل ہوا۔ اور یہ بالکل ایساہے جیسے جنگ خیبرکے موقعہ پرآپ صلی اللہ علیہ وسلم کو زہردینےوالی یہودیہ عورت نےبھی یہی کلمے کہے تھے  کہ اگریہ نبی ہوگا تواس کوزہرنقصان نہیں دے گا۔

یعنی اس  سے ہلاک نہیں ہوگا۔ورنہ بدنی تکلیف آپ صلی اللہ علیہ وسلم کوبہت ہوئی اورہمیشہ رہی یہاں تک کہ آخرآپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی سے وفات پائی ۔مگرچونکہ یہ وفات آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خلاف معمول معجزانہ رنگ میں تھی ۔کیونکہ عادت کے مطابق توآپ کواسی وقت ہلاک ہو جانا چاہیے تھا جبکہ زہردیاگیا نہ کہ کئی سالوں کے بعد۔ جبکہ نبوت کامقصدپوراہوچکا۔نیزاسی گوشت نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کوخبردی جس میں  زہرملایاگیاتھا۔ پس جیسے یہ واقعہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کی دلیل ہے ایسے ہی جادوکاواقعہ ہے ۔

ناظرین خیال فرمائیں کہ جادوکرنے والے دشمن تواس واقعہ کوآپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کی دلیل بناتے ہیں اورآپ صلی اللہ علیہ وسلم کے نام لیوا کلمہ گومسلمان  اس کونبوت کے منافی سمجھ کرآپ صلی اللہ علیہ وسلم  کی احادیث پرہاتھ صاف کررہے ہیں ۔اناللہ ۔سچ ہے ۔

            من ازبیگانگاں ہرگزنہ نالم  :     کہ بامن ہرچہ کردآں آشناکرد

ایسے لوگوں  سے بالکل قطع تعلق چاہیے اور امامت وغیرہ سے ہٹادیناچاہیے ۔مومن کی یہ شان نہیں کہ صحیح  احادیث کاانکارکرے۔

وباللہ التوفیق

فتاویٰ اہلحدیث

کتاب الایمان، مذاہب، ج1ص184 

محدث فتویٰ



تبصرہ (0)
[Notice]: Undefined index: irsloading (cache/c62f257fe6ed43eb557019d638a0d780.php:75)