فتاویٰ جات: متفرقات
فتویٰ نمبر : 631
(95) تبلیغ میں تشدد اورنرمی؟دونوں سے کونسی صورت بہترہے ؟
شروع از عبد الوحید ساجد بتاریخ : 02 May 2012 11:58 AM

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

زیدکہتاہے ايك جماعت بندی ہوجائے جوکہ بے نمازوں سےبالکل قطع تعلقی پیداکرے یعنی بے نمازوں کواپنے معاملات دینی ودنیاوی بلکہ سلام وکلام سے بھی درکاراجائے ۔چنانچہ زیدنےایک تحریک اٹھائی جس کانتیحہ یہ نکلاکہ عمروجماعت سے اٹھ کھڑاہواکہ ایسانہیں ہوناچاہیے۔ اتفاق واخلاق کے طورپرہرایک کومرتبہ مرتبہ سمجھاؤ۔جوخلق سے کام فی زمانہ کامیاب ہوسکتاہے وہ کسی کودرکارنے سے نہیں ہوسکتا۔زیداس کے جواب میں من رای منکم منکراً حدیث کاٹکڑاپیش کرتاہے ۔عمروکہتاہے قطع تعلقی سے فتنہ بڑھ جانے کاخطرہ ہے کیونکہ حکومت غیراسلام ہے (تم اپناایمان/تبلیغ)مذکورہ بالاحدیث کے اخیرکےٹکڑاکے مطابق سمجھویعنی دل سے براجاننا۔لہذادریافت طلب امریہ ہے کہ آیازیدکےذہن کے پیچھے لگ کرسلسلہ مفارقت شروع کردیاجائے یاکہ عمروکی رائے کے مطابق خلق سے کام لینابہترہے؟ ا زراہِ کرم کتاب وسنت کی روشنی میں جواب دیں جزاكم الله خيرا


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد! 

یہاں پرکل چارصورتیں ہیں ۔ایک یہ کہ اپنا زورہو اورجس کوتبلیغ کرنی ہے وہ باخبرہو۔ دوم یہ کہ اپنا زورہولیکن جس کوتبلیغ کرنی ہے وہ بے خبرہو۔سوم یہ کہ اپنا زور نہ ہواورجس کوتبلیغ کرنی ہےوہ باخبرہو۔چہارم یہ کہ اپنا زورنہ ہواورجس کوتبلیغ کرنی ہے وہ بے خبرہو۔

نوٹ :

زورسے مراد عام ہے خواہ حکومت یا پنجایت ہو۔خواہ ذاتی طورپرکوئی شخص بارعب ہوجس کی وجہ سے لوگوں کےدل میں خوف ہوکہ اگرہم اس کی نہ مانیں گےتوہمیں اس سے نقصان پہنچے گا۔

پہلی صورت کاحکم

جب ایک شخص مسئلہ سے واقف ہے اور دیدہ دانستہ عمل میں سستی کرتاہے تواس پر درجہ بدرجہ زور ڈالاجائے۔ مثلاً پہلے اس کو ویسے سمجھایا جائے اگر نہ سمجھے توکسی قدرتاوان لگایاجائے یا زجرتوبیخ کی جائے۔ اس کے بعدمارپیٹ۔ چنانچہ قرآن مجیدمیں عورتوں کےمتعلق ارشادہے:

﴿وَٱلَّٰتِي تَخَافُونَ نُشُوزَهُنَّ فَعِظُوهُنَّ وَٱهۡجُرُوهُنَّ فِي ٱلۡمَضَاجِعِ وَٱضۡرِبُوهُنَّۖ﴾--سورة النساء34

’’جن عورتوں کی بدگزرائی سےتم ڈرتے ہوان کوپہلے وعظ کروپھربستروں میں چھوڑدو۔پھرمارو۔‘‘

غرض درجہ بدرجہ مفیداوربہترصورت اختیارکرنی چاہیے۔

دوسری صورت کاحکم

مسئلہ سے ناواقف کوپہلےپیارسے واقف کرناچاہیے جس میں تالیف قلبی بھی داخل ہےجس کے متعلق قرآن مجیدمیں ارشادہے :

﴿وَٱلۡمُؤَلَّفَةِ قُلُوبُهُمۡ﴾--سورة التوبة60

یعنی نومسلم جن کی تالیف قلبی کی گئی ہےان کابھی زکوٰۃ میں حق ہے ۔

﴿وَإِنۡ أَحَدٞ مِّنَ ٱلۡمُشۡرِكِينَ ٱسۡتَجَارَكَ فَأَجِرۡهُ حَتَّىٰ يَسۡمَعَ كَلَٰمَ ٱللَّهِ ثُمَّ أَبۡلِغۡهُ مَأۡمَنَهُۥۚ ذَٰلِكَ بِأَنَّهُمۡ قَوۡمٞ لَّا يَعۡلَمُونَ ٦﴾سورة التوبة6

’’اگر مشرکوں میں سے کوئی تجھ سے پناه طلب کرے تو تو اسے پناه دے دے یہاں تک کہ وه کلام اللہ سن لے پھر اسے اپنی جائے امن تک پہنچا دے۔ یہ اس لئے کہ یہ لوگ بے علم ہیں‘‘

اگرمسئلہ ذہن نشین  ہونےکے بعدپھروہ سستی یابے پرواہی کرے تواس کاعلاج بھی اول الذکرصورت کاہے

تیسری صورت کاحکم

جب اپنا زورنہیں اورمسئلہ سےباخبرہے توسوائے وعظ نصیحت کے کوئی صورت نہیں۔ مگر وعظ نصیحت کی ضرورت بھی تھوڑی بہت امید کےوقت ہے۔ ورنہ پھرقطع تعلق ہے نیزقرآن میں ہے :

﴿فَذَكِّرۡ إِن نَّفَعَتِ ٱلذِّكۡرَىٰ﴾--سورة الاعلی6

’’تو آپ نصیحت کرتے رہیں اگر نصیحت کچھ فائده دے‘‘

نیزقرآن مجیدمیں ہے :

﴿وَإِذۡ قَالَتۡ أُمَّةٞ مِّنۡهُمۡ لِمَ تَعِظُونَ قَوۡمًا ٱللَّهُ مُهۡلِكُهُمۡ أَوۡ مُعَذِّبُهُمۡ عَذَابٗا شَدِيدٗاۖ قَالُواْ مَعۡذِرَةً إِلَىٰ رَبِّكُمۡ وَلَعَلَّهُمۡ يَتَّقُونَ ١٦٤﴾--سورةالاعراف164

’’اور جب کہ ان میں سے ایک جماعت نے یوں کہا کہ تم ایسے لوگوں کو کیوں نصیحت کرتے ہو جن کو اللہ بالکل ہلاک کرنے واﻻ ہے یا ان کو سخت سزا دینے والا ہے؟ انہو ں نے جواب دیا کہ تمہارے رب کے روبرو عذر کرنے کے لیے اور اس لیے کہ شاید یہ ڈر جائیں۔‘‘

خداتعالی نے بنی اسرائیل کو ہفتہ کےدن مچھلیوں کے شکارسےمنع فرمایا وہ پھٹ کرتین جماعتیں ہوگئے۔(1) ایک مچھلیاں پکڑنےلگ گئے۔ ایک ان کو روکتے رہے۔ ایک نہ روکتے نہ مچھلیاں پکڑتے۔ اس تیسری جماعت نے دوسری جماعت کوکہاکہ تم ان (پہلی جماعت)کوکیوں وعظ کرتے ہو؟یہ ہلاک ہونے والے ہیں یا ان پرکوئی اورسخت عذاب آنے والا ہے۔ انہوں نےجواب میں دووجہیں بیان کیں۔ ایک تبلیغ فرض کی ادائیگی دوم فائدہ کی امید۔ اگر فائدہ کی امید نہ ہوتی تو تبلیغ فرض بھی عاید نہ ہوتا۔ کیونکہ تبلیغ وہیں ضروری ہے جہاں کچھ امیدہو۔چنانچہ پہلی آیت سورۃ اعلیٰ سے معلوم ہوچکاہے ۔

خلاصہ یہ کہ زور نہ ہونے کی صورت میں مسئلہ سے ناواقف آدمی کو نرمی کے سواسمجھانے کی کوئی صورت نہیں۔جس کےلیے مختلف پہلواختیارکئے جا سکتے ہیں جن کو وعظ تبلیغ کا لفظ شامل ہے۔قرآن مجیدمیں ہے:

﴿ٱدۡعُ إِلَىٰ سَبِيلِ رَبِّكَ بِٱلۡحِكۡمَةِ وَٱلۡمَوۡعِظَةِ ٱلۡحَسَنَةِۖ وَجَٰدِلۡهُم بِٱلَّتِي هِيَ أَحۡسَنُۚ﴾--سورة النحل125

’’اپنے رب کی راه کی طرف لوگوں کو حکمت اور بہترین نصیحت کے ساتھ بلایئے اور ان سے بہترین طریقے سے گفتگو کیجئے،‘‘

چوتھی صورت کاحکم

یہ صورت سب صورتوں سےمشکل ہے کیونکہ ایک  طرف مسئلہ سےناواقفی ہے دوسری طرف زورنہیں۔ کہ زبردستی ان کےکان آواز پہنچا دی جائے۔ کسی کی مرضی ہو سنے کسی کی مرضی ہو نہ سنے۔ تیسری صورت میں بوجہ ناواقفی مسئلہ کے تبلیغی فرض چنداں اہمیت نہیں رکھتا۔ چوتھی صورت میں بڑی ذمہ داری ہے کیونکہ اس میں مسئلہ سے ناواقفی ہے جس سے واقف کراناضروری ہے اگر زورہوتا تو اس کےاثرسےواقف کرانا سہل تھا۔ اب بجز جفاکشی کے کیا صورت ہے انبیاء علیہم السلام کااکثریہی منصب تھا اوران کی تبلیغ عموماً اسی صورت میں ہوتی تھی۔ خاص کر ابتدائی حالات میں انبیاء علیہم السلام کوسخت ترین مصائب کا سامنا ہوتا اوربڑے بڑے روح فرساآلام برداشت کرنے پڑتے جن میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا نمبراول ہے۔ چنانچہ مکی زندگی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اس کا شاہدعدل ہے۔ یہ جوکچھ تکالیف ہیں مسائل کی واقفیت تک ہیں۔ اس کےبعدپھر وہی تیسری صورت کاحکم ہے۔

اس تفصیل سے معلوم ہواکہ بعض صورتوں میں زیدسچاہے بعض میں عمرو۔نہ ہمیشہ سختی اچھی ہے نہ ہمیشہ نرمی۔شیخ سعدی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ

          سختی ونرمی بہم دربہ است    :         چوجراح کہ رگ زن ومرہم نہ است

وباللہ التوفیق

فتاویٰ اہلحدیث

کتاب الایمان، مذاہب، ج1ص181 

محدث فتویٰ



تبصرہ (0)
[Notice]: Undefined index: irsloading (cache/c62f257fe6ed43eb557019d638a0d780.php:75)