فتاویٰ جات: فہم قرآن
فتویٰ نمبر : 627
(91) آیت ان اللہ عندہ علم الساعۃ کامطلب
شروع از عبد الوحید ساجد بتاریخ : 02 May 2012 11:31 AM

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

آیت:

﴿إِنَّ ٱللَّهَ عِندَهُۥ عِلۡمُ ٱلسَّاعَةِ وَيُنَزِّلُ ٱلۡغَيۡثَ وَيَعۡلَمُ مَا فِي ٱلۡأَرۡحَامِۖ وَمَا تَدۡرِي نَفۡسٞ مَّاذَا تَكۡسِبُ غَدٗاۖ وَمَا تَدۡرِي نَفۡسُۢ بِأَيِّ أَرۡضٖ تَمُوتُۚ إِنَّ ٱللَّهَ عَلِيمٌ خَبِيرُۢ﴾--سورة لقمان34

میں ان پانچ چیزوں کوکیوں خاص کیاگیاہے؟اس کی کیاوجہ ہے ؟کیااللہ تعالیٰ کوان پانچ چیزوں کاعلم خصوصی ہے؟اورباقی اشیاء کانہیں؟ ا زراہِ کرم کتاب وسنت کی روشنی میں جواب دیں۔جزاكم الله خيرا


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد! 

ان پانچ کے علاوہ دیگرغیب بھی خدا کاخصوصی علم ہے پانچ کا ذکرخصوصیت سے اس لیے کیاہے کہ ان پانچ کی علامات بہت ہیں۔ قیامت کی علامات احادیث میں بکثرت آتی ہیں۔بارش کے لیے موسم مقررہونا خاص ہے ۔خاص قسم کی ہوا کا چلنا،بجلی کاچمکنا،بادل کاگرجنایہ سب علامات ہیں ۔ اس طرح انسان کی رہائش گاہ ایک جگہ ہونا اورہمیشہ اس جگہ آمد روفت  یہ اس بات کی علامات ہیں کہ موت اسی جگہ آئے۔ اور انسان  کا مصم  ارادہ  ہوناکہ میں کل فلاں کام کروں گا۔ اوراس کےلیے پوری تیاری اور اس کا سامان کرنایہ اس بات کی علامت ہے کہ کل یہی کام ہو گا۔ اور جو رحم میں ہے ۔اس کی گیارہ بارہ علامات اطباء اور ڈاکٹروں نے لکھی ہیں ۔کہ ایسا ہوتولڑکا ہوگااور ایساہوتولڑکی وغیرہ۔ مگرباوجود ان سب علامات کے کسی کوان پانچ چیزوں کےمتعلق پوراعلم نہیں ہوسکتا۔ بہت دفعہ خیال کچھ ہوتاہے اورہوکچھ جاتاہے۔ جب ان اشیاء کا یہ حال ہے جن کو بکثرت علامات موجودہیں توجن کی علامات سرے ہی سے نہیں۔یا بہت کم ہیں۔ ان کاعلم بطریق اولی مخلوق کونہیں ہوسکتا۔ جیسے خداکی ذات  کی حقیقت  کا علم اور اس بات کاعلم کہ آئندہ  وہ کیاپیداکرنے والا ہے ۔اورپہلے کیاپیداکرچکاہے ۔چنانچہ ارشادہے ۔

﴿وَیَخْلُقُ مَالَاتَعْلَمُونَ ﴾
وباللہ التوفیق

فتاویٰ اہلحدیث

کتاب الایمان، مذاہب، ج1ص221 

محدث فتویٰ 



تبصرہ (0)
[Notice]: Undefined index: irsloading (cache/c62f257fe6ed43eb557019d638a0d780.php:75)