فتاویٰ جات: متفرقات
فتویٰ نمبر : 621
(85) آفتاب کاکیچڑکے چشمہ میں غروب اورشیطان کے سینگوں میں طلوع ہونا
شروع از عبد الوحید ساجد بتاریخ : 01 May 2012 09:02 AM

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

ایک شخص اعتراض کرتاہے کہ نماز فجرکے متعلق مسلم کی ایک حدیث میں لکھا ہےکہ وقت نماز صبح  کا فجرکے طلوع ہونے  سے آفتاب کے طلوع ہونے تک ہے ۔پس جس وقت سورج طلوع ہو تو تُونماز سے ہٹ جا۔ کیونکہ وہ درمیان شیطان کے دوسینگوں کے طلوع ہوتاہے۔‘‘ (اب اس پرحاشیہ لکھاہے )۔سورج کاشیطان کےدوسینگوں کے درمیان طلوع ہوناملاحظہ ہو۔اب اگراس حدیث کی بناء پرآریہ ،عیسائی اسلام پر ہنسی اڑائیں تو اس کا کیاقصورہے۔ سورج بالاتفاق زمین سے بہت بڑاہے ۔توخیال کیجیئے شیطان کے سینگ کتنے بڑے ہوں گے ۔جن کےدرمیان خود اتنا بڑا سورج آجاتاہے اورخودشیطان کتنابڑا ہوگا جس کے اتنے بڑے سینگ ہیں۔ پھریہ شیطان اہلحدیث کے دلوں میں گھس جاتاہے اور وسوسے بھی ڈالتاہے یہ نہیں بتایاگیا کہ شیطان کے سینگوں پرسورج کیوں لادا گیا کیسی معقول حدیث ہے  اورپھرشرح کیسی معقول ہوئی ۔کیایہ ممکن ہوسکتاہے کہ اللہ کا رسول جوکہ عقل ودانش ہر بات میں اپنے تمام لوگوں سے افضل ہوتاہے۔ ایسی لغواور بے سروپا باتیں کہے ۔ ہرگزنہیں  قطعاً  ناممکن ہے ۔ ہمارے پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ذمہ یہ خرافات کسی  ایسے شخص نے گھڑکر لگائے ہیں جو کہ عقل کا بودا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا پکادشمن ہے ۔ کوئی یہودی یاعیسائی ہے۔  ایساقبیح  کام کسی مسلمان باایمان کانہیں ہوسکتا۔ بیچارے امام مسلم رحمہ اللہ نے بے سوچے سمجھے کسی یہودی یاعیسائی کی حدیث کوجوکہ پیغمبرعلیہ السلام کا پکادشمن ہے اپنی کتاب میں درج کردیا۔ ورنہ پیغمبرعلیہ السلام کی شان نہیں جو ایسی باتیں کہے ۔‘‘اس کامدلل جواب دیجئیے؟ا زراہِ کرم کتاب وسنت کی روشنی میں جواب دیں۔جزاكم الله خيرا

 


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد! 

انسان کوچاہیے کہ جس بات پراعتراض کرے پہلے اس کاصحیح مطلب سمجھے۔ کیونکہ بےسمجھی سے اعتراض درحقیقت اس بات پر اعتراض نہیں ہوتا۔ بلکہ اپنی عقل کی خفت ہوتی ہے ۔مخالفین قرآن کوجھٹلاتے تھے تواللہ تعالیٰ نے فرمایا:

«بل کذبوابمالم یحبطوابعلمہ»

یعنی ’’انہوں نے ایسی شئے کوجھٹلادیاجس کے علم کااحاطہ نہیں کیا۔‘‘

سو جواس حدیث پراعتراض کرتاہے اس کو اس حدیث کااصل مطلب سمجھ لیناچاہیے۔ ورنہ ویسے تو مخالف قرآن مجیدپربھی مذاق اڑاتے ہیں۔ مثلاکہتے ہیں کہ قرآن میں ہے:

﴿تَغۡرُبُ فِي عَيۡنٍ حَمِئَةٖ﴾--سورةالكهف 86

’’اسے ایک دلدل کےچشمے میں غروب ہوتا ہوا پایا‘‘

 توکیا ا س مذاق سے قرآن مجیدپرکچھ اثرپڑا؟ ہرگزنہیں ۔ کیونکہ آیت کا مطلب وہ نہیں جو مخالف سمجھتے ہیں۔ بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ ذوالقرنین کو ایسامعلوم ہوا کہ اس کے علاوہ  اس کی اور توجیہات بھی ہیں۔ اسی طرح  اس حدیث کا مطلب صرف اتناہے کہ ہمارے لحاظ سے آفتاب شیطان کے سینگوں کے درمیان نکلتاہے ۔جیسے قرآن میں اللہ تعالیٰ فرماتاہے :

﴿تَطۡلُعُ عَلَىٰ قَوۡمٖ لَّمۡ نَجۡعَل لَّهُم مِّن دُونِهَا سِتۡرٗا﴾--سورةالكهف 90

’’اسے ایک ایسی قوم پر نکلتا پایا کہ ان کے لئے ہم نے اس سے اور کوئی اوٹ نہیں بنائی۔‘‘

کیااس آیت کامطلب یہ ہے کہ آفتاب اس قوم پرطلوع کرتا ہے  ہم پرطلوع نہیں کرتا؟ ہرگزنہیں۔ بلکہ مطلب یہ ہےکہ چونکہ وہ مشرق کی جانب ہماری نسبت سورج کے قریب ہیں۔ تو ہمارے لحاظ سے آفتاب ان پرنکلتادکھائی دیتاہے۔ اسی لیے فرمایاکہ ذوالقرنین نے ایساپایا۔ نہ کہ حقیقت میں ایساتھا۔جیسے موسی ٰ علیہ السلام کی بابت فرمایا:

«بخیل الیہ من سحرہم انہاتسعی »

یعنی ’’موسیٰ علیہ السلام کوخیال آیاکہ جادوگروں کی سوئیاں رسیاں دوڑتی  ہیں۔‘‘

ٹھیک اسی طرح حدیث کا مقصودہے کہ ہمارے لحاظ  سے سورج  شیطان  کے سینگوں میں نکلتاہے ۔ سینگوں  سے مرادسر ہے ۔سورج  نکلتے  وقت اور غروب ہوتے وقت سورج کے پوچنے والے سورج کی پوجاکرتے ہیں تو شیطان اس وقت سورج کی طرف نزدیک ہوتاہے۔ تاکہ وہ پوجا درحقیقت اس کی ہو۔ جیسے وہ پتھر اور درخت جن کی پوجا ہوتی ہے ان میں شیطان قرب کرتاہے ۔تاکہ اس کوسجدہ ہو۔چنانچہ قرآن مجیدمیں ہے:

﴿إِن يَدۡعُونَ مِن دُونِهِۦٓ إِلَّآ إِنَٰثٗا وَإِن يَدۡعُونَ إِلَّا شَيۡطَٰنٗا مَّرِيدٗا﴾--سورة النساء117

یعنی’’یہ تو اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر صرف عورتوں کو پکارتے ہیں اور دراصل یہ صرف سرکش شیطان کو پوجتے ہیں۔‘‘

چونکہ اس دین میں توحید کامل  ہے اس لیے مشابہت شرک  سے بھی منع فرمادیا۔ جیسے قبرستان میں نماز پڑھنامنع ہے۔ گھروں میں تصویریں رکھنامنع ہے۔ اسی طرح غروب اورطلوع کے وقت نماز منع ہے۔تاکہ سورج کے پوجنے والوں سے مشابہت نہ ہو۔ پس اس حدیث کا صرف اتنا مطلب ہے ۔ اس کے علاوہ بعض اور وجوہات بھی ہیں مگرکمی فرصت کی وجہ سے اسی پراکتفاء کی گئی ہے۔

وباللہ التوفیق

فتاویٰ اہلحدیث

کتاب الایمان، مذاہب، ج1ص179 

محدث فتویٰ 



تبصرہ (0)
[Notice]: Undefined index: irsloading (cache/c62f257fe6ed43eb557019d638a0d780.php:75)