فتاویٰ جات: متفرقات
فتویٰ نمبر : 617
(81) معصوم بچوں کو تکلیف کی وجہ
شروع از عبد الوحید ساجد بتاریخ : 29 April 2012 02:11 PM

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

چھوٹے بچوں کوبیماری ام الصبیان وغیرہ کیوں  آتی ہے؟ ا زراہِ کرم کتاب وسنت کی روشنی میں جواب دیں جزاكم الله خيرا


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد! 

دنیامیں بیماریوں اورتکلیفوں کا سلسلہ غیرمعصوموں کے ساتھ خاص نہیں۔ چھوٹے بچے کیاحیوانات میں بھی جاری ہے ۔جس کی وجہ یہ ہے کہ کبھی ان کی تکلیف دوسرے کی تکلیف کاباعث ہوتی ہے جیسے بچے یا مویشی کی تکلیف ماں باپ یا مالکوں کی تکلیف ہے اورکبھی ایک کی تکلیف دوسرے کی عبرت کا باعث بنتی ہے ۔اوربعض دفعہ اورفوائدبھی مدنظرہوتے ہیں۔ جیسے انبیاء علیہم السلام اورنیک بندوں پرامتحانات آتے ہیں۔ تاکہ خداکے محبوب ہونے کی وجہ سے کوئی یہ خیال نہ کرے کہ ان کوخدائی اختیارات مل گئے۔ نیزان کی حالت دیکھ کریہ سبق ملتاہے کہ دنیاآرام کا گھرنہیں۔ اگرایساہوتاتوخداکے پیارے معصوم اس کے زیادہ اہل تھے۔ بعض دفعہ کوئی دوسرے اعمال سے ایک درجہ کونہیں پہنچ سکتا۔ خدا مصیبت  کے ذریعہ اس کو بڑے درجہ تک پہنچادیتاہے۔ چنانچہ احادیث میں صراحتہ ًُ  آیا ہے۔ اسی طرح معصوموں کوبھی مصیبت کے عوض کچھ نہ کچھ ملے گا۔ بکریاں آپس میں بھڑجائیں توحدیث میں ان کے متعلق انصاف کا ذکرآیاہے کہ جس نے زیادتی کی ہے اس سے دوسری کوبدلہ دیا جائے گا۔ اگرماں باپ کی شامت اعمال بچہ کی تکلیف کا باعث بنی ہے تو ماں باپ کی نیکیوں میں ضرور کمی ہوگی اور بچہ کا درجہ اس سے بلند ہوگایا خدا اپنے پاس  سے بچہ کو راضی کردے گا۔

بہرصورت دنیا تکلیف کا گھرہے اس میں دانہ دُنکہ کی طر ح جوآٹا چکی میں پس گیا اگر اورتکالیف سے بچ گیا توموت کے گھاٹ ضرور اترے گا۔ جو اس دارتکلیف کی آخری گھاٹی ہے۔  بلکہ انسان کادنیامیں داخل ہونا ہی بڑی مصیبت کے ساتھ ہے ۔ ماں کودوروزہ کی اتنی تکلیف نہیں ہوتی جتنی بچہ کو ہوتی ہے۔کیونکہ بچہ کا وجود ماں سے زیادہ نازک ہوتاہے۔ غرض دنیا میں امتیازنہیں اس لیے ایک دوسرا دن مقررہے۔ جس کا نام قیامت ہے اس دن امتیازبھی ہوگااورانصاف بھی۔

وباللہ التوفیق

فتاویٰ اہلحدیث

کتاب الایمان، مذاہب، ج1ص160 

محدث فتویٰ



تبصرہ (0)
[Notice]: Undefined index: irsloading (cache/c62f257fe6ed43eb557019d638a0d780.php:75)