فتاویٰ جات: متفرقات
فتویٰ نمبر : 614
(78) کرامات و عملیات میں فرق
شروع از عبد الوحید ساجد بتاریخ : 29 April 2012 01:29 PM

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

ایک پیرنے کہاکبھی میرے آباؤ اجدادنبی صلی اللہ علیہ وسلم کودیکھنے چلے آئے ہیں یہ کیاہے ؟نیزکرامات وعملیات میں کیافرق ہے؟ا زراہِ کرم کتاب وسنت کی روشنی میں جواب دیں جزاكم الله خيرا


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد! 

اس قسم کادیکھنابیداری میں توکہیں رہا۔خواب میں بھی خداکی طرف سے نہیں ہوتا۔خیرقرون میں اوربعدمیں بہتیرے بزرگ گزرے ہیں ۔مگرکبھی کسی کومقررہ طورپرہمیشہ اس طرح خواب نہیں آیا۔یہاں تک کہ موروثی ہوگیا ہو بلکہ بغیرموروثی ہونے کے بھی اس طرح نہیں آیا۔ ہاں لوگوں کےحیلے اورعملیات ایسے ہوسکتے ہیں۔تفسیرابن کثیرجلد4 ص 349میں ایک لمبی حدیث ذکرہوئی ہے ۔ہشام بن عاص   اموی کہتےہیں کہ میں اور ایک شخص اور ابوبکر کی طرف سے ان کی خلافت کے دنوں میں ہرقل بادشاہ روم کے پاس قاصدہوگئے تواس دربارمیں زبان سے کلمہ ’’لاالہ الا اللہ واللہ اکبر‘‘نکلا۔یہ کلمہ نکلتے ہی وہ محل اس طرح ہلنے لگا۔جیسے آندھی سے درخت ہلتاہے دودومرتبہ اسی طرح ہوا۔ہرقل نے کہااپنے گھروں میں جب تم یہ کلمہ پڑھتے ہوہمیشہ اس طرح ہوتاہے کہا۔نہیں۔کہنے لگا۔اگرتمہارے میں ہمیشہ ایساہوتاتومیں اپنانصف ملک (خوشی میں)لٹادیتاہے ۔ہم نےکہاکیوں؟کہااگرایساہوتاتویہ نبوت کااثرنہ ہوتابلکہ لوگوں کےحیلوں اورعملیات کی قسم سے ہوتا(جس کامجھے خطرہ نہ تھا)۔۔۔۔دیکھیے اہل کتاب بھی اس بات سے واقف تھے کہ جوباتیں خداکی طرف سے بندے کی بزرگی اورکرامت کے اظہارکے لیے ظاہرہوتی ہیں۔وہ اتفاق ہوتی ہیں۔چنانچہ صحابہ  وغیرہم کے حالات سے ظاہرہے ۔موروثی طورپرخواب کاچلے آنایہ عملیات کی قسم سے ہے پھراعتبارنہیں کہ کہنے والا پیرسچ کہتاہے یاجھوٹ۔اگرسچ کہتاہے تواس کاکیاپتہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ شکل ہے یاکسی اورکی۔

وباللہ التوفیق

فتاویٰ اہلحدیث

کتاب الایمان، مذاہب، ج1ص159 

محدث فتویٰ



تبصرہ (0)
[Notice]: Undefined index: irsloading (cache/c62f257fe6ed43eb557019d638a0d780.php:75)